وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے حُسن پر تنقید کرنے والوں کو کرارا جواب دیا ہے۔

مریم نواز کے بیٹے جنید صفدر کی شادی اس ہفتے پاکستان میں سوشل میڈیا پر خوب وائرل رہی۔

اس تقریب میں شریف خاندان، شیخ خاندان، مسلم لیگ (ن) کی اہم شخصیات کے علاوہ فیلڈ مارشل عاصم منیر اور فوجی افسران نے بھی شرکت کی۔

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازاپنے بیٹے کی شادی کے دوران اپنے ملبوسات اور منفرد انداز کے باعث نمایاں نظر آئیں۔

متعدد فیشن ناقدین اور سوشل میڈیا پیجز نے ان کے انداز اور کپڑوں پر تبصرے کیے، جب کہ کچھ صارفین نے تو یہ دعویٰ تک کردیا کہ مریم نواز نے اپنی بہو شانزے علی روحیل سے توجہ چھین لی۔

 

حال ہی میں صوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے شادی کے موقع پر ہونے والی تنقید اور مریم نواز کے حوالے سے اٹھنے والے سوالات پر ردِعمل دیا۔

عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ مریم نواز پر حد سے زیادہ تنقید کی گئی، لوگوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ اتنی اچھی طرح تیار ہو کر آئیں کہ دلہن کو نمایاں ہونے کا موقع ہی نہ ملا۔

 

انہوں نے مزید کہا کہ مریم نواز قدرتی طور پر بہت خوبصورت خاتون ہیں اور جب بھی وہ سامنے آتی ہیں تو لوگوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرا لیتی ہیں۔

صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ اللہ نے انہیں خوبصورتی عطا کی ہے اور ہر عورت کو خوبصورت نظر آنے کا حق حاصل ہے کیونکہ اللہ نے عورت کو اسی طرح بنایا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کچھ خواتین مریم نواز کی طرح غیر معمولی طور پر دلکش ہوتی ہیں، کچھ ہم جیسی عام ہوتی ہیں اور کچھ فلٹرز کے استعمال کے باوجود بھی اچھی نہیں لگتیں۔

عظمیٰ بخاری نے کہا کہ کوئی انسان پیدائشی طور پر برا نہیں ہوتا، حالات انسان کو ایسا بنا دیتے ہیں، میں کسی کی تربیت پر تبصرہ نہیں کرنا چاہتی کیوں کہ ہر والدین اپنے بچوں کو بہترین تربیت دینے کی کوشش کرتے ہیں۔

مزید کہا کہ مگر بعض اوقات اچھی تربیت کے باوجود نتائج مایوس کن ہوتے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ ایسے والدین کو اپنے بچوں پر شرمندگی محسوس ہوتی ہوگی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: مریم نواز کے کہا کہ

پڑھیں:

سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب

فائل فوٹو 

سپریم کورٹ نے اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا۔

کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی، جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ درخواست 25 دن تاخیر سے دائر کی گئی۔

پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر توہین عدالت کی درخواست شہداء کےلواحقین کی جانب سے دائر کی گئی تھی، پشاور ہائیکورٹ نے توہین عدالت کی درخواست خارج کردی تھی۔

درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ شہداء کے لواحقین کو اعلان کردہ پیکیج نہیں ملا۔

جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اگر کوئی پیکیج ملا ہے تو سب کو دیں،  وفاقی حکومت بتائے کہ پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر عملدرآمد ہوا یا نہیں۔

کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • پنکی ڈرگ والی پر ڈرامہ بنانےکا اعلان کیا گیا، اس موضوع پر فلم بننی چاہیے تھی، عظمیٰ بخاری
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • بی ایم ڈبلیو سے 5 لاکھ جرمانہ وصولی، ڈی ایچ اے ویجیلینس سے جواب طلب
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • ورلڈ کپ تیاریوں کے لیے سست وکٹوں پر تنقید مسترد، مائیک ہیسن کا دوٹوک مؤقف
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
  • گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے: نواز شریف