پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما سید نوید قمر نے کہا ہے کہ اٹھارہویں ترمیم کو گالی دینے کے لئے کراچی گل پلازہ آگ کو بہانہ بنایا گیا، آگ کے معاملے پر اٹھارہویں ترمیم کو کھینچ کر لایا گیا۔

قومی اسمبلی اجلاس میں  نکتہ اعتراض پر اظہار خیال کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے پارلیمانی لیڈر خواجہ آصف نے اٹھارہویں ترمیم پر کچھ باتیں کی ہیں، پارلیمانی لیڈر خواجہ آصف کے بیان کو ہم حکومتی پالیسی بیان سمجھتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ آج پھر ایک وفاقی وزیر نے اٹھارہویں ترمیم پر سوالات اٹھائے ہیں،  آج پھر آگ کی آڑ میں اٹھارہویں ترمیم پر تنقید کی گئی ہے۔

نوید قمر نے کہا کہ   پاکستان ایک وفاقی ہے، کیا آپ ایک اور نیا تجربی کرنا چاہتے ہیں، نصاب ساری زندگی جھوٹ کا پلندہ بناکر پڑھایا گیا ، تاریخ میں تبدیلیاں کی گئیں،  مضبوط پاکستان مضبوط صوبوں سے بنے گا۔

انہوں نے کہا کہ  آپ صوبوں کو دیے وسائل بھی واپس لینا چاہتے ہیں، صوبے کیسے صحت و تعلیم کے پیسے کاٹ کر وفاق کو دیں تاکہ وہ قرضے لے سکیں اور واپس کرسکے،  کیا آپ ساتھ اور ستر کی دہائی سے نہیں نکلے،  اپنی سیاست کے لئے ملک کے مستقبل کو خطرے میں ڈالیں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء) حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ، مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے ۔ تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں نظرثانی شدہ اہداف کے مطابق جاری ہیں۔

مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق 864 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا تاثر ابتدائی 14 ہزار 130 ارب روپے کے ہدف کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے جو گمراہ کن ہے۔معاشی حالات میں تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف کی مشاورت سے ریونیو ہدف تقریباً 13 ہزار ارب روپے تک ایڈجسٹ کیا گیا۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی،درآمدات اور عالمی صورتحال میں تبدیلی کے باعث اہداف پر نظرثانی معمول کا مالی عمل ہے، نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کیتحت ایف بی آر کی کارکردگی مضبوط،11 ماہ کا تقریباً مکمل ہدف حاصل کیا گیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جبکہ مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے۔

(جاری ہے)

مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مئی میں ایف بی آر نے ماہانہ ہدف کا 97 فیصد جبکہ 11 ماہ کے ہدفکا 99.8 فیصد حاصل کیا، موجودہ کارکردگی ریونیو بحران یا بڑے ٹیکس شارٹ فال کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے، جون 2026 کا 1 ہزار 727 ارب ریونیو ہدف 15 فیصد اضافے کے ساتھ نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کے مطابق قابل حصول ہے، کاروباری طبقے اور سرمایہ کار غیر معمولی ٹیکس اقدامات سے متعلق قیاس آرائیوں پر توجہ نہ دیں، مالی معاملات پر تبصرہ پرانے اہداف کے بجائے موجودہ معاشی حقائق اور درست اعداد و شمار پر ہونا چاہیے۔                                                                           

متعلقہ مضامین

  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • گلگت بلتستان کو بھی آئینی وبنیادی حقوق ملنے چاہئیں ، سعد رفیق
  • ورلڈ کپ تیاریوں کے لیے سست وکٹوں پر تنقید مسترد، مائیک ہیسن کا دوٹوک مؤقف
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • پنجاب میں انسداد ڈینگی کارروائیوں کیلئے افسران کو فوری متحرک ہونے کی ہدایت
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم