خواجہ آصف نے 18ویں ترمیم کو گالی دینےکےلیے گل پلازہ آگ کو بہانہ بنایا، نوید قمر کی حکومت پر تنقید
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما سید نوید قمر نے کہا ہے کہ اٹھارہویں ترمیم کو گالی دینے کے لئے کراچی گل پلازہ آگ کو بہانہ بنایا گیا، آگ کے معاملے پر اٹھارہویں ترمیم کو کھینچ کر لایا گیا۔
قومی اسمبلی اجلاس میں نکتہ اعتراض پر اظہار خیال کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے پارلیمانی لیڈر خواجہ آصف نے اٹھارہویں ترمیم پر کچھ باتیں کی ہیں، پارلیمانی لیڈر خواجہ آصف کے بیان کو ہم حکومتی پالیسی بیان سمجھتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ آج پھر ایک وفاقی وزیر نے اٹھارہویں ترمیم پر سوالات اٹھائے ہیں، آج پھر آگ کی آڑ میں اٹھارہویں ترمیم پر تنقید کی گئی ہے۔
نوید قمر نے کہا کہ پاکستان ایک وفاقی ہے، کیا آپ ایک اور نیا تجربی کرنا چاہتے ہیں، نصاب ساری زندگی جھوٹ کا پلندہ بناکر پڑھایا گیا ، تاریخ میں تبدیلیاں کی گئیں، مضبوط پاکستان مضبوط صوبوں سے بنے گا۔
انہوں نے کہا کہ آپ صوبوں کو دیے وسائل بھی واپس لینا چاہتے ہیں، صوبے کیسے صحت و تعلیم کے پیسے کاٹ کر وفاق کو دیں تاکہ وہ قرضے لے سکیں اور واپس کرسکے، کیا آپ ساتھ اور ستر کی دہائی سے نہیں نکلے، اپنی سیاست کے لئے ملک کے مستقبل کو خطرے میں ڈالیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
حکومت نے یومیہ بنیادوں پر آج پھر عوام پر پیٹرول بم گرا دیا
اسلام آباد (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔ 23 جولائی 2026ء ) وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کا اعلان کردیا ہے۔ پیٹرولیم ڈویژن کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 40 پیسے فی لیٹر اضافہ کردیا ہے۔ پیٹرول کی نئی قیمت 331 روپے 52 پیسے فی لیٹر مقرر کردی گئی ہے۔ جبکہ ڈیزل کی قیمت فی لیٹر قیمت میں 3 روپے 62 پیسے اضافہ کر دیا گیا ہے، ڈیزل کی نئی قیمت 378 روپے 66 پیسے فی لیٹر مقرر کردی گئی۔(جاری ہے)
نئی قیمتوں کا اطلاق آج رات 12 کے بعد ایک دن کیلئے ہوگا۔ یاد رہے وفاقی کابینہ نے پیٹرولیم مصنوعات کے لیے روزانہ قیمتوں کے تعین کا نیا نظام منظور کر لیا جس کے تحت اوگرا اب پیٹرول اور ڈیزل کی ایکس ڈپو قیمتیں روزانہ جاری کرے گا۔ پیٹرول اور ڈیزل کی نئی قیمتیں گزشتہ سات کاروباری دن کی اوسط عالمی قیمت کے مطابق ہوں گی، پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کا تعین عالمی مارکیٹ کے حساب سے کیا جائے گا۔ قیمتوں کے اعلان کے لیے وزیراعظم یا وفاقی حکومت کی پیشگی منظوری درکار نہیں ہوگی جبکہ اوگرا بغیر وزیراعظم یا حکومت کی منظوری کے قیمتوں کا اعلان کرے گا۔