data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے لیے بیرسٹر علی ظفر سمیت پی ٹی آئی کے 14 سینیٹرز نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کر لیا۔ چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر اور سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجا نے بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کے کیسز سماعت کے لیے مقرر کروانے کی کوششیں تیز کر دیں۔ کوششوں کے باوجود چیف جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر سے ملاقات نا ہو سکی۔ پاکستان تحریک انصاف کے 14 سینیٹرز نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کر دی۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی قید تنہائی ختم کرنے کا حکم دیا جائے اور دونوں کو جیل مینوئل قانون کے مطابق حاصل حقوق دیے جائیں۔ درخواست میں محکمہ داخلہ پنجاب اور سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو فریق بناتے ہوئے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کرانے کی اجازت دینے کی بھی استدعا کی گئی ہے۔ دوسری جانب چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر، اسد قیصر، سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجا اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچے اور چیف جسٹس سے ملاقات کی کوشش کی۔ بیرسٹر گوہر نے بتایا کہ بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کے کیسز سماعت کے لیے مقرر کروانے چیف جسٹس کے چیمبر گئے تھے تاہم چیف جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر کیساتھ ان کی ملاقات نہیں ہو سکی۔ ہم چیف جسٹس پاکستان سے درخواست کرتے ہیں ہمارے ساتھ ایسا نہ کریں۔ انہوں نے بشریٰ بی بی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ خاتون کی اپیل تو جلد سنی جانی چاہئے، بدقسمتی ہے کہ وہ بھی نہیں سنی جا رہی۔

مانیٹرنگ ڈیسک سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: بانی پی ٹی ا ئی اسلام ا باد سے ملاقات چیف جسٹس کے لیے

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال
  • یو اے ای ویزا آن ارائیول کی نئی شرائط اور فیس جاری