اسلام آباد ہائیکورٹ نے  لاپتہ شہری عمر عبداللہ کی بازیابی سے متعلق کیس میں عدالت کو بریفنگ کے طریقہ کار سے متعلق وزارت دفاع سے پالیسی رپورٹ طلب کرلیں۔

عدالت نے وزارت دفاع کے نمائندے کو ہدایت کی کہ لاء آفیسر کے ذریعے بتا دیں آپ نے بریفننگ سے متعلق کیا طریقہ اختیار کرناہے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے لاپتہ شہری عمر عبداللہ کی بازیابی کے لیے انکی اہلیہ زینب زعیم کی درخواست پر سماعت کی۔

درخواستگزار وکیل، اسسٹنٹ اٹارنی جنرل عثمان گھمن اور وزارت دفاع کے نمائندہ عدالت میں پیش ہوئے۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے استفسار کیا کہ وزارت دفاع کی جانب سے ان کیمرہ بریفنگ سے متعلق کیا ہدایات ہیں، اسسٹنٹ اٹارنی جنرل نے استدعا کی عدالت ہدایات کے لیے کچھ وقت دے دے۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ پندرہ سال تو ہوگئے اور کتنا وقت دیں، ان کیمرہ بریفنگ ہوتی ہے لیکن معلوم نہیں یہاں کیوں نہیں، ہمارے پاس ایک یہی تو کیس رہ گیا ہے باقی سب ٹرانسفر ہوگئے۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ میں کیس سمجھنا چاہتاہوں، فیصلہ ہوگیا، کمپوزیشن دے دی گئی، میں میرٹ پر نہیں جاتا مجھے قائل کرلیں یہ بندہ مسنگ نہیں ہے،  اسسٹنٹ اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہمیں ایک موقع دے دیں، عدالت کی مہربانی ہوگی۔

جسٹس محسن آختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ اپنی عزت اور دیانتداری کو خود ثابت کرنا ہوتا ہے، عدالت میں بتانا ہے یا ان کیمرہ بتادیں اور وہ بندہ لائیں جو یہاں عدالت پیش نہیں ہوتا، مجھے قائل کریں، اگر دہشتگرد ہے تو اس کے خلاف کاروائی کریں۔

ملٹری ٹرائل کرلیں، یا اگر اس عدالت پر اعتراض ہے تواپنی مرضی کی عدالت چلے جائیں۔عدالت نے ہدایت کی کہ آئندہ سماعت تک بریفنگ سے متعلق پالیسی سے آگاہ کریں عدالت نے سماعت 24 فروری تک ملتوی کردی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: جسٹس محسن اختر کیانی نے وزارت دفاع

پڑھیں:

سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب

فائل فوٹو 

سپریم کورٹ نے اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا۔

کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی، جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ درخواست 25 دن تاخیر سے دائر کی گئی۔

پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر توہین عدالت کی درخواست شہداء کےلواحقین کی جانب سے دائر کی گئی تھی، پشاور ہائیکورٹ نے توہین عدالت کی درخواست خارج کردی تھی۔

درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ شہداء کے لواحقین کو اعلان کردہ پیکیج نہیں ملا۔

جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اگر کوئی پیکیج ملا ہے تو سب کو دیں،  وفاقی حکومت بتائے کہ پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر عملدرآمد ہوا یا نہیں۔

کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں،خداکا خوف کریں،جسٹس اشتیاق ابراہیم اے این ایف پر برہم 
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے