ہمارا مطالبہ ہے کہ عمران خان کے کیسز سماعت کے لیے مقرر کئے جائیں: بیرسٹر گوہر
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
اسلام آباد: چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی ائی) بیرسٹر گوہر علی خان نے ایک بار پھر بانی پی ٹی ائی عمران خان کے مقدمات کی سماعت کے لیے فوری اقدامات کا مطالبہ کر دیا ہے۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران چیئرمین پی ٹی ائی بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ وہ دوبارہ اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچے ہیں اور چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی سے ملاقات بھی کر چکے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمارا واحد مطالبہ یہ ہے کہ بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کے مقدمات کی سماعت جلد از جلد شروع کی جائے۔
بیرسٹر گوہر نے وضاحت کی کہ 26ویں آئینی ترمیم کے بعد سے عمران خان کے کیسز کی سماعت نہیں ہوئی اور یہی تاخیر عوامی اور قانونی تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ آج بانی سے ملاقات کا دن ہے اور وکلاء اور خاندانی افراد اڈیالہ جیل جائیں گے تاکہ قانون کے مطابق ملاقاتیں ممکن بنائی جا سکیں۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے زور دیا کہ تمام قانونی تقاضوں کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے اور بانی سے ملاقات کے حقوق کو یقینی بنایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ نہ صرف پارٹی کے لیے بلکہ عدالتی نظام کی شفافیت کے لیے بھی اہم ہے، اور اس سلسلے میں کوئی تاخیر برداشت نہیں کی جا سکتی۔
اس موقع پر بیرسٹر گوہر نے عدلیہ سے اپیل کی کہ وہ مقدمات کی سماعت جلد مکمل کر کے انصاف کے تقاضے پورے کریں تاکہ سیاسی اور قانونی حلقوں میں پائی جانے والی بے چینی کم ہو سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل عمران خان کے بیرسٹر گوہر کی سماعت کے لیے
پڑھیں:
برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔
ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔
عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔
خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔
ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔
I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:
- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements
End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq
فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔
خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔