پاکستان ہاکی فیڈریشن پر غیر جانبدار عبوری صدر مقرر کرکے شفاف انتخابات کروائے جائیں، شہلا رضا
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
رکن قومی اسمبلی شہلا رضا نے وزیر اعظم میاں محمد شہباز شریف سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پاکستان ہاکی فیڈریشن (PHF) پر ایڈہاک قیادت لگا کر ایک غیر جانبدار عبوری صدر مقرر کریں تاکہ فیڈریشن کے صاف و شفاف انتخابات کرائے جا سکیں اور پاکستان ہاکی کا سنہرا دور دوبارہ لایا جا سکے۔
شہلا رضا نے یہ بات نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں پاکستان کے نامور اولمپیئنز شہناز شیخ، سمیع اللہ، کلیم اللہ، حنیف خان، ناصر علی، وسیم فیروز، محمد شکیل عباسی، سید حیدر حسین، نعیم اختر خان، ایاز محمود اور ملک بھر کی ہاکی فیڈریشنز کے عہدیداران کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔
مزید پڑھیں: کھیلوں کی ترقی کے لیے اہم پیشرفت، مظفرآباد میں جدید ہاکی ایسٹرو ٹرف کا افتتاح جلد متوقع
انہوں نے کہا کہ موجودہ PHF صدر طارق بگٹی غیر منتخب اور قانونی طور پر نگران ہونے کے باوجود خود کو صدر منتخب کروا لیا ہے، جبکہ انہیں صرف کلبوں کی سکروٹنی اور الیکشن کروانے کا کام دیا گیا تھا۔ پاکستان سپورٹس بورڈ نے کلبوں کی یکطرفہ سکروٹنی کو مسترد کرتے ہوئے PHF کی مالی ساکھ پر بھی سوالات اٹھائے ہیں اور غیر شفاف رجسٹریشن کے معاملات کی نشاندہی کی ہے۔
سابق اولمپیئن شہناز شیخ نے کہا کہ وزیراعظم کی کمیٹی کی سفارشات کے مطابق غیر جانبدار نگران قیادت میں شفاف انتخابات کرائے جائیں اور ملک بھر کے تمام کلبز کی سکروٹنی کی جائے۔
مزید پڑھیں: پاکستان ہاکی ٹیم کا منیجر دورانِ پرواز سگریٹ نوشی پر برازیل میں جہاز سے آف لوڈ
سابق اولمپیئن سمیع اللہ نے کہا کہ پچھلے 20 سال سے قومی کھیل تباہی کا شکار ہے اور کھیل کی ترقی کے لیے بہتر کلبز کو اوپر لانا ضروری ہے۔
شہلا رضا نے زور دے کر کہا کہ وزیراعظم قومی کھیل کی تباہی پر توجہ دیں اور پاکستان ہاکی کو دوبارہ مضبوط اور کامیاب بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
PHF پاکستان ہاکی فیڈریشن شہلا رضا شہناز شیخ، سمیع اللہ، کلیم اللہ، نیشنل پریس کلب اسلام آباد ہاکی وزیر اعظم میاں محمد شہباز شریف.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستان ہاکی فیڈریشن شہلا رضا شہناز شیخ سمیع اللہ کلیم اللہ نیشنل پریس کلب اسلام آباد ہاکی وزیر اعظم میاں محمد شہباز شریف پاکستان ہاکی ہاکی فیڈریشن شہلا رضا کہا کہ
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔