سانحہ گل پلازا: ضروری نہیں کہ حادثے کے وقت وزیراعلیٰ اور وزراء پہنچیں، شہلا رضا
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما شہلا رضا نے کہا ہے کہ ضروری نہیں کہ حادثے کے وقت وزیراعلیٰ اور وزراء پہنچیں، سب سے ضروری وہاں پر ریسکیو عملے کا پہنچنا ہوتا ہے اور راستہ بنانا ہوتا ہے۔
قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے شہلا رضا نے کہا کہ گل پلازا واقعہ ایک سانحے میں تبدیل ہوا اس پر پوائنٹ اسکورنگ نہیں کرنا چاہتی۔
انہوں نے کہا کہ ٹریفک کی وجہ سے بہت مسئلہ ہو رہا ہے، گل پلازا کے 26 میں سے 24 راستے بند تھے۔
ڈی سی ساؤتھ جاوید نبی کھوسو نے جیو نیوز سے گفتگو میں بتایا کہ رات میں 2 مزید لاشیں ملی ہیں، گل پلازا کے گراؤنڈ فلور اور پہلی منزل کو کلیئر کردیا گیا ہے۔
شہلا رضا نے کہا کہ گل پلازا 1980 میں بنایا گیا اس کی بنیاد میں 180 دکانیں تھیں، گراؤنڈ فلور پر 405 دکانیں بنائی گئیں اور پہلے فلور پر 175 دکانیں بنائی گئی تھیں۔
ان کا کہنا تھا کہ 1998 میں یہ فیصلہ ہوا کہ مزید دکانیں اس میں شامل کی جائیں، بعدازاں اس پلازے میں پارکنگ اور کوریڈور میں بھی دکانیں بنائی گئیں۔
پیپلز پارٹی کی ایم این اے نے کہا کہ گل پلازا واقعے کا مقابلہ کریمنل ایکٹ سے نہیں کیا جاسکتا جس میں دو ڈھائی سو جانیں گئی ہوں۔
شہلا رضا نے کہا کہ نیوزی لینڈ میں آگ لگی تو 40 افراد جاں حق ہوگئے تھے، آگ جب لگتی ہے تو کیلیفورنیا کے جنگل سے بھی گھروں کو لگ جاتی ہے، یہ آگ ہے، ہو جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ لاہور میں حفیظ سینٹر میں سال میں 3 مرتبہ آگ لگ چکی ہے لیکن اس پر کوئی سیاست نہیں کی گئی، یہ عجیب ہے ایک واقعے کو بنیاد بنا کر آپ صوبوں تک 18ویں ترمیم اور بنیادی تعلیم تک چلے گئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: شہلا رضا نے کہا نے کہا کہ گل پلازا
پڑھیں:
کوہستان کرپشن کیس، نیب نے 6 ارب کے ریکور اثاثے خیبر پختونخوا کے حوالے کردیے
فائل فوٹوکوہستان مالیاتی کرپشن کیس میں قومی احتساب بیورو (نیب) نے 6 ارب روپے کے اثاثے ریکور کرکے خیبر پختونخوا حکومت کے حوالے کردیے جبکہ مزید ریکوری کا عمل جاری ہے۔
چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد نے پشاور میں اثاثے چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا شہاب علی شاہ کے حوالے کیے۔
نیب حکام کے مطابق پہلے مرحلے میں 6 ارب روپے سے زائد مالیت کے اثاثے صوبائی حکومت کے حوالے کیے گئے ہیں، جن میں نقد رقم، سونا، قیمتی جائیدادیں اور لگژری گاڑیاں شامل ہیں، اثاثوں کی واپسی منظم اور جامع تحقیقات کے نتیجے میں عمل میں آئی۔
نیب حکام کے مطابق کوہستان مالیاتی کرپشن میں سرکاری فنڈز سے 37 ارب روپے سے زائد کا غبن ہوا ہے، پیچیدہ مالیاتی غبن کو مؤثر تحقیقات کے ذریعے بے نقاب کیا گیا۔
چیئرمین نیب نے کہا کہ ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) نیب خیبر پختونخوا فرمان اللہ اور تحقیقاتی ٹیم کی کارکردگی قابل ستائش ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کوہستان مالیاتی کرپشن میں مزید ریکوری کا عمل جاری ہے، قانونی کارروائی مکمل ہونے پر مزید اثاثے خیبر پختونخوا حکومت کو منتقل کیے جائیں گے، عوامی وسائل قومی امانت ہیں، ان کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا۔