اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)وفاقی وزیر فوڈ سکیورٹی رانا تنویر نے اسلام آباد میں گدھوں کے گوشت سے متعلق واضح جواب دینے سے گریز کیا۔

نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق قومی اسمبلی کے اجلاس میں گدھوں کے گوشت کے معاملے پر شازیہ صوبیہ سومرو نے کہا کہ اسلام آباد  میں گدھےکا گوشت کھلایا جاتا ہے اس کو کون دیکھتا ہے؟ 

 اس پر  رانا تنویر نے واضح جواب دینے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاملات صوبائی حکومت دیکھتی ہے اور پنجاب حکومت اس پرلیڈ لیتی ہے، سب سے پہلے فوڈ اتھارٹی پنجاب حکومت نے بنائی، گدھوں کی کھالوں اور گوشت کے زیادہ تر معاملات صوبوں سے متعلق ہیں، یہ سب سبجیکٹس 18 ویں ترمیم کے بعد صوبوں کو منتقل ہوگئے ہیں۔

کراچی میں 100 بچوں سے بدفعلی کے مرکزی ملزم کی مزید تفصیلات سامنے آگئیں

انہوں نے کہا کہ اس معاملے کو نیشنل فوڈ سکیورٹی نہیں ڈسٹرکٹ فورڈ اتھارٹیز دیکھتی ہیں، بعض ریسٹورینٹ والے منافع خوری کے لیے مردہ مرغیوں کا گوشت استعمال کرتے ہیں۔

 رانا تنویر حسین نے 18 ویں ترمیم کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 18 ویں ترمیم کے بعد اگر سب اچھا ہے تو جو کراچی میں آگ لگی پھر وہ بھی اچھا کام ہوگیا؟ 18ویں ترمیم سے متعلق بات کریں تو پھڑپھڑاہٹ شروع ہو جاتی ہے۔

مزید :.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

کلیدی لفظ: کہا کہ

پڑھیں:

فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد

فرانس میں قائم ایک نفسیاتی اسپتال نے ذہنی صحت کے علاج کے لیے ایک غیرمعمولی طریقہ اختیار کیا ہے، جہاں مریضوں کے ڈپریشن، اضطراب اور ذہنی دباؤ کو کم کرنے کے لیے گدھوں کی مدد لی جا رہی ہے۔

امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق یہ منصوبہ فرانس میں اپنی نوعیت کا واحد تجربہ سمجھا جاتا ہے۔ دارالحکومت پیرس کے مضافات میں سرسبز و شاداب ماحول اور تاریخی عمارتوں سے گھرا ویل ایورارڈ اسپتال مریضوں کو روایتی طبی علاج کے ساتھ ایک منفرد اور پُرسکون تجربہ بھی فراہم کر رہا ہے۔

اس پروگرام کے تحت مریض گدھوں کے ساتھ وقت گزارتے ہیں، انہیں سیر کرواتے ہیں، ان کی دیکھ بھال کرتے ہیں اور جذباتی تعلق قائم کرتے ہیں۔ حالیہ سیشن کے دوران بھی متعدد مریضوں نے گدھوں کے ساتھ خوشگوار وقت گزارا اور رخصت ہوتے ہوئے انہیں گلے لگا کر محبت کا اظہار کیا۔

60 سالہ مریضہ نیتھلی کے مطابق گدھوں کے ساتھ وقت گزارنے سے انہیں ویسا ہی سکون ملتا ہے جیسا کسی پُرسکون دوا کے استعمال سے حاصل ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جانوروں کے ذریعے ہونے والا یہ علاج ذہنی آسودگی فراہم کرتا ہے اور وقتی طور پر تمام پریشانیاں ختم دیتا ہے۔

فرانس کے سرکاری نظامِ صحت کے تحت یہ سیشنز مریضوں کو بغیر کسی معاوضے کے فراہم کیے جاتے ہیں۔ عموماً ہر مریض کو ایک مخصوص گدھے کے ساتھ منسلک کیا جاتا ہے تاکہ وقت کے ساتھ دونوں ایک دوسرے کی عادات اور مزاج سے واقف ہو سکیں۔

اس یونٹ میں خدمات انجام دینے والی نرس آڈرے سیفار کے مطابق نیتھلی کی حالت میں چند ملاقاتوں کے بعد ہی نمایاں بہتری دیکھی گئی۔

انہوں نے بتایا کہ ابتدا میں وہ جسمانی معذوری کے باعث وہیل چیئر سے نکلنے پر آمادہ نہیں تھیں، لیکن گدھے کے ساتھ تعلق نے ان میں اعتماد پیدا کیا اور اب وہ نہ صرف چیئر سے اٹھتی ہیں بلکہ اپنے جانور کے ساتھ کھڑی بھی ہوتی ہیں۔

دوسری جانب  52 سالہ مریض جیروم کا کہنا ہے کہ اس منفرد پروگرام نے ان کے احساسِ تنہائی کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ملک بھر میں گدھوں، گھوڑوں، خچروں کی تعداد میں اضافہ
  • محسن نقوی سے فیصل کریم کنڈی کی ملاقات، سکیورٹی چیلنجز سے آگاہ کیا
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
  • وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے گورنر خیبرپختونخوا کی ملاقات
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے