18ویں ترمیم کے خلاف خواجہ آصف کا بیان، پیپلزپارٹی کا ن لیگ سے احتجاج، وضاحت مانگ لی
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے وزیر دفاع خواجہ آصف کے 18ویں آئینی ترمیم سے متعلق حالیہ بیان پر حکومت سے باضابطہ وضاحت طلب کرلی۔
مزید پڑھیں: 28ویں ترمیم میں لوکل گورنمنٹ کو بااختیار بنانے کی تجویز تھی، مگر اتفاق ہونے کے باوجود اس سے پیچھے ہٹنا پڑا، خواجہ آصف
قومی اسمبلی کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے رہنما نوید قمر کا کہنا تھا کہ خواجہ آصف نے سانحہ گل پلازہ پر بات کرتے ہوئے اچانک 18ویں ترمیم کو موضوع بنا دیا، اور چونکہ وہ مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی لیڈر ہیں، اس لیے ان کے بیان کو حکومتی مؤقف تصور کیا جائے گا۔
نوید قمر نے مزید کہاکہ ماضی میں ملک پر متعدد تجربات آزمائے گئے جن کے نتائج ہمیشہ نقصان دہ نکلے، یہاں تک کہ ہر تجربے کے بعد ملک مزید کمزور ہوا۔ انہوں نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیاکہ اب مزید تجربات سے گریز کیا جائے۔
دوسری جانب وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے خواجہ آصف کے بیان سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے اسے ذاتی رائے قرار دے دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ہر فرد کی اپنی سوچ اور رائے ہوتی ہے، تاہم حکومتی فیصلے ہمیشہ پارلیمنٹ کی مشاورت اور منظوری سے ہی کیے جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ ایک روز قبل خواجہ آصف نے 18ویں ترمیم کو غیر مؤثر قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ تمام اختیارات صوبوں کو منتقل ہو چکے ہیں، جبکہ کراچی میں پیش آنے والے واقعات اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کیا جائے۔
مزید پڑھیں: سیاسی کشیدگی: مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کا افہام و تفہیم کے ذریعے مسائل حل کرنے پر اتفاق
18ویں ترمیم سے متعلق یہ بحث اس وقت ہوئی جب کراچی کے گل پلازہ میں ہونے والی خوفناک آتشزدگی کے دوران درجنوں افراد موت کے منہ میں چلے گئے، تاہم انہیں بچانے کے لیے کوئی مؤثر اقدامات سامنے نہیں آئے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews پیپلز پارٹی خواجہ آصف نوید قمر وزیر دفاع وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پیپلز پارٹی خواجہ ا صف نوید قمر وزیر دفاع وی نیوز 18ویں ترمیم خواجہ آصف
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔