پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن مزید کمزور، اجلاس بلانے کیلئے ریکوزیشن جمع کرانے کا حق کھو بیٹھی
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
لاہور:
پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن مزید کمزور، اجلاس بلانے کے لئے ریکوزیشن جمع کرانے کا حق کھو بیٹھی۔
مالیاتی گوشوارے جمع نہ کرانے پر الیکشن کمیشن نے 13 اپوزیشن ارکان کی رکنیت معطل کی تھی جس کے بعد ایوان میں اپوزیشن ارکان کی تعداد 86 رہ گئی ہے جو معطلی سے پہلے 99 تھی۔
اجلاس کی ریکوزیشن جمع کروانے کے لئے ارکان کی تعداد 93 ہونی چاہئے، معطل ہونے والوں میں اپوزیشن لیڈر معین ریاض قریشی کا نام بھی شامل ہے۔
معطل ہونے والوں میں اپوزیشن ارکان صلاح الدین خان، محمد داؤد خان، علی رضا خان خاکوانی، محمد اقبال خٹک کے نام بھی شامل ہیں۔
معطل ہونے والوں میں اپوزیشن ارکان عدنان ڈوگر، وسیم خان، امتیاز محمود، محمد آصف، محمد نواز، جاوید نیاز منج، شاہد رضا، اعجاز حسین بخاری کے نام بھی شامل ہیں۔
اس سے پہلے اپوزیشن کمیٹیوں کی چئیرمین شپ سے بھی مستعفیٰ ہو چکی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اپوزیشن ارکان میں اپوزیشن
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔