وفاقی آئینی عدالت نے بھارت اور اسرائیل سے درآمدات پر پابندی کیس میں فیصلہ محفوظ کر لیا
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
وفاقی آئینی عدالت نے بھارت اور اسرائیل سے درآمدات پر پابندی کیس میں فیصلہ محفوظ کر لیا۔
وفاقی آئینی عدالت میں جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے بھارت اور اسرائیل سے درآمدات پر پابندی بارے کیس میں فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا۔
لاہور ہائی کورٹ نے درآمدی پابندی کو آئینی قرار دیتے ہوئےوفاقی حکومت کو ہدایات جاری کی تھیں، لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کو وفاق نے وفاقی آئینی عدالت میں چیلنج کیا۔
کیس کی سماعت کے دوران ریونیو ڈویژن کی طرف سے حافظ احسان کھوکھر نے پیش ہوکر دلائل دیتے ہوئے کہا کہ درآمدی پابندی وفاقی حکومت نے آئینی اختیار استعمال کرتے ہوئے عائد کی، پالیسی برقرار رکھتے ہوئے ہدایات دینا عدالتی حدود سے تجاوز ہے۔
خارجہ، تجارتی اور قومی سلامتی پالیسی عدالتوں کا دائرہ اختیار نہیں،دشمن ممالک سے تجارت کے فیصلے خالصتاً حکومتی اختیار ہیں،عدالتیں پالیسی پر نظرثانی یا ازسرنو غور کی ہدایات نہیں دے سکتیں،ہائی کورٹ کی ہدایات آئینی اختیارات کی تقسیم کے منافی ہیں،ایسے احکامات برقرار رہے تو عدالتی مداخلت کا سیلاب آ جائے گا۔
وفاقی حکومت کی طرف سے دوران سماعت استدعا کی گئی کہ درآمدی پابندی برقرار رکھتے ہوئے ہائی کورٹ کی ہدایات کالعدم قرار دی جائیں۔
ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نے دلائل میں کہا ہائی کورٹ پالیسی معاملات میں داخل نہیں ہو سکتی، ہدایات کالعدم قرار دی جائیں.
واضح رہے وفاقی حکومت نے فارن پالیسی ، نیشنل سیکورٹی کو مدنظر رکھتے ہوئے 2019 میں بھارت اور اسرائیل سے درآمدات پر پابندی عائد کی تھی۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بھارت اور اسرائیل سے درآمدات پر پابندی وفاقی آئینی عدالت وفاقی حکومت فیصلہ محفوظ ہائی کورٹ
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔