رمپا پلازہ: متاثرہ اسٹرکچرل ستونوں پر کنکریٹ جیکٹنگ کا باقاعدہ عمل شروع
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
کراچی:
رمپا پلازہ میں آتشزدگی کے باعث متاثر ہونے والے اسٹرکچرل ستونوں پر کنکریٹ جیکٹنگ کا باضابطہ تکنیکی عمل شروع کر دیا گیا ہے۔
سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) کے حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد کمزور ہونے والے کالمز کی لوڈ بیئرنگ کیپسٹی کو بحال کرنا ہے۔
ایس بی سی اے حکام کا کہنا ہے کہ جیکٹنگ کے دوران اسٹیل ری اِنفورسمنٹ، شیئر کیپسٹی اور مجموعی اسٹرکچرل اسٹرینتھننگ پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے تاکہ عمارت کی مضبوطی کو مکمل طور پر بحال کیا جا سکے۔ مرمتی کام مستند اور رجسٹرڈ اسٹرکچرل انجینئر کے منظور شدہ ڈیزائن اور سخت نگرانی میں انجام دیا جا رہا ہے۔
حکام کے مطابق کنکریٹ جیکٹنگ مکمل ہونے تک متاثرہ حصے کے استعمال پر مکمل پابندی عائد رہے گی۔ جیکٹنگ کے بعد کالمز کی کمپریشن اور بونڈ اسٹرینتھ کے دوبارہ ٹیسٹ کیے جائیں گے تاکہ عمارت کی مضبوطی اور سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے۔
ایس بی سی اے نے واضح کیا ہے کہ اسٹرکچرل اسیسمنٹ اور نان ڈسٹرکٹو ٹیسٹنگ کے بعد ہی حتمی سیفٹی کلیئرنس جاری کی جائے گی۔ تمام مرمتی اور تکنیکی کام سندھ بلڈنگ کوڈ اور منظور شدہ انجینئرنگ اسٹینڈرڈز کے مطابق کیے جا رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
ایران پر امریکی حملوں میں جاں بحق افراد کی تعداد 55 ہو گئی، 645 زخمی
تہران: ایران کی وزارتِ صحت نے دعویٰ کیا ہے کہ حالیہ امریکی فوجی حملوں میں ملک بھر میں کم از کم 55 افراد جاں بحق جبکہ 645 زخمی ہوئے ہیں۔
ایرانی حکام کے مطابق زیادہ تر جانی نقصان جنوبی اور جنوب مغربی صوبوں میں ریکارڈ کیا گیا ہے۔
ایرانی خبر رساں ادارے فارس کے مطابق وزارتِ صحت کے ترجمان نے بتایا کہ امریکی حملوں کے نتیجے میں زخمی ہونے والوں کی مجموعی تعداد 645 تک پہنچ گئی ہے، جبکہ 55 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔
ترجمان کے مطابق سب سے زیادہ متاثر ہونے والا صوبہ خوزستان رہا، جہاں سب سے زیادہ ہلاکتیں اور زخمی رپورٹ ہوئے۔ اس کے بعد صوبہ ہرمزگان اور صوبہ سیستان و بلوچستان میں بھی بڑی تعداد میں جانی نقصان سامنے آیا۔
ایرانی وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ زخمی ہونے والے 645 افراد میں سے 586 کو علاج کے بعد اسپتالوں سے فارغ کر دیا گیا ہے، جبکہ بعض افراد کو ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے بعد گھر بھیج دیا گیا۔
حکام کے مطابق اس وقت بھی 8 زخمی مختلف اسپتالوں میں زیرِ علاج ہیں، جن میں سے بعض کی مزید سرجری کیے جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام نے ان حملوں کو امریکی جارحیت قرار دیتے ہوئے بین الاقوامی برادری سے اس کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
دوسری جانب خبر شائع ہونے تک امریکا کی جانب سے ایران کی وزارتِ صحت کی جانب سے جاری کیے گئے ان اعداد و شمار پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے بھی تصدیق نہیں ہو سکی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان جاری فوجی کشیدگی کے باعث خطے میں انسانی اور سکیورٹی صورتحال مزید پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان تناؤ کم ہونے کے فوری آثار نظر نہیں آ رہے۔