ملزمان کا عدالت دیر سے آنا وتیرہ بن گیا ہے، جج کے ایمان مزاری و ہادی علی کیس میں ریمارکس
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
فائل فوٹو
ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد کے جج افضل مجوکہ نے ایمان مزاری اور ہادی علی کیس میں ریمارکس دیے کہ ملزمان کا عدالت دیر سے آنا وتیرہ بن گیا ہے۔
ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف متنازع ٹوئٹ کیس کی سماعت ایڈیشنل سیشن جج افضل مجوکہ نے کی۔
جج افضل مجوکہ نے کہا کہ ملزمان عدالت پیش نہیں ہوئے، پراسیکیوشن ٹیم عدالت میں ہے، 2 روزہ حفاظتی ضمانت کے باوجود ملزمان عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ ملزمان جان بوجھ کر عدالت میں پیش نہیں ہوئے، ہائیکورٹ نے 4 روز کے اندر جرح مکمل کرنے کی ہدایت کی۔
ایڈیشن سیشن جج نے مزید کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم 20 جنوری کو موصول ہوچکا ہے، ملزمان کو ہائیکورٹ حکم کے پیش نظر 24 جنوری ساڑھے 3 بجے تک جرح مکمل کرنی ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ ملزمان کا عدالت دیر سے آنا وتیرہ بن گیا ہے، ملزمان عدالت کا جان بوجھ کر وقت ضائع کر رہے ہیں۔
جج افضل مجوکہ نے یہ بھی کہا کہ ملزمان ساڑھے 9 بجے جرح شروع کریں اور ساڑھے 3 بجے مکمل کریں، ڈیڑھ بجے آدھے گھنٹے کا وقفہ دیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ ملزمان کی جانب سے وقت ضائع کرنے پر مزید وقت نہیں دیا جائے گا، 24 جنوری ساڑھے 3 بجے تک جرح مکمل نہ کی تو جرح کا حق ختم کردیا جائے گا۔
عدالت نے متنازع ٹوئٹس کی سماعت کل تک ملتوی کردی اور ایمان مزاری اور ہادی علی کو گواہان پر جرح مکمل کرنے کا شیڈول جاری کردیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: کہا کہ ملزمان ایمان مزاری ہادی علی
پڑھیں:
خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 02 جون2026ء) پاکستان ریلویز نے خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل ہونے کے بعد ذمہ دار افسران کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا ہے۔ریلوے حکام کے مطابق سابق ڈویژنل انجینئر(ڈی ای این)ملتان عابد رزاق کو ملازمت سے برطرف کر دیا گیا ہے جبکہ سابق اسسٹنٹ انجینئر (اے ای این)خانیوال راجا یوسف کو بھی سروس سے برخاست کر دیا گیا ہے۔یاد رہے کہ خانیوال پل حادثے میں ایک شخص جاں بحق جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے تھے۔ واقعے کے بعد وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ عوامی جانوں کے نقصان پر کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔وزیر ریلوے کی ہدایت پر حادثے کی جامع انکوائری شروع کی گئی تھی۔(جاری ہے)
انکوائری رپورٹ میں متعلقہ افسران کی غفلت اور ذمہ داری کا تعین کیا گیا جس کی روشنی میں محکمانہ کارروائی عمل میں لائی گئی۔
ریلوے حکام کے مطابق وفاقی وزیر ریلوے اپنے زیرو ٹالرنس مقف پر قائم رہے اور حادثے کا کیس منطقی انجام تک پہنچایا گیا۔ وزارت ریلوے کا کہنا ہے کہ احتساب کا عمل جاری رہے گا اور غفلت، لاپروائی یا نااہلی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ مسافروں کے جان و مال کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا اور ذمہ دار عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رہے گی۔