بانی پی ٹی آئی کا ایکس اکاؤنٹ بند کرنے کا کیس 24 فروری تک ملتوی
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک) اسلام آباد ہائیکورٹ نے بانی پاکستان تحریک انصاف کے ایکس اکاؤنٹ بند کرنے کے لیے جیل حکام، پی ٹی اے اور دیگر فریقین کے جوابات موصول ہونے کے بعد کیس کی مزید سماعت 24 فروری تک ملتوی کر دی۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس ارباب محمد طاہر کی سربراہی میں کیس کی سماعت ہوئی، دوران سماعت سلمان اکرم راجا نے عدالت کو بتایا کہ وہ بانی پی ٹی آئی سے مشاورت کے لیے ملاقات نہیں کر سکے، عدالت نے کہا کہ اگر ملاقات ہو جائے تو 24 فروری کو حتمی دلائل سنے جائیں گے۔
عدالت نے ملاقات نہ کرانے پر توہین عدالت کی درخواست پر بھی تفصیلی جواب جمع کرانے کی ہدایت کی اور ایڈوکیٹ جنرل اسلام آباد آفس سے تحریری جواب طلب کیا، سرکاری وکیل نے بتایا کہ ملاقاتوں کے کیسز ایک لارجر بنچ دیکھ رہا ہے اور جب تک ملاقات نہیں ہوگی، کیس آگے نہیں بڑھ سکے گا۔
سلمان اکرم راجا نے عدالت کو بتایا کہ کیس فائل ہونے کے بعد انہیں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی، 2 ماہ پہلے 4 نومبر کو ملاقات کا آرڈر جاری ہوا تھا لیکن اس پر عمل نہیں ہوا، انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ جیل میں ملاقات کے لیے مناسب آرڈر جاری کیا جائے۔
جسٹس ارباب محمد طاہر نے کہا کہ اگر ملاقات کرائی گئی تو کیس آگے بڑھ سکے گا اور اس حوالے سے مناسب احکامات جاری کیے جائیں گے، عدالت نے کیس کی مزید سماعت 24 فروری تک ملتوی کر دی۔
علاوہ ازیں پی ٹی اے نے بانی پی ٹی آئی کے ایکس اکاؤنٹ بند کرنے کے کیس میں جواب داخل کرایا تاہم عدالت نے اسے غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’آپ دیکھ لیں رٹ پٹیشن کیا ہے اور آپ کا جواب کیا ہے‘۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: بانی پی ٹی آئی عدالت نے
پڑھیں:
کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
مزید :