سپریم کورٹ نے چائلڈ میرج ایکٹ کے تحت گرفتار محمد عرفان کی ضمانت بعد از گرفتاری درخواست منظور کر لی ہے۔ عدالت نے ملزم کو ایک لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض عارضی رہائی دی، جبکہ مقدمہ چائلڈ میرج ایکٹ کے تحت جاری رہے گا۔

یہ بھی پڑھیں:کم عمری کی شادی کے خاتمے کے لیے ملک گیر مہم کا آغاز

جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے محمد عرفان کی ضمانت پر سماعت کی۔ ملزم عرفان جون 2025 سے گرفتار تھا اور اس پر الزام تھا کہ اس نے ایک 16 سالہ لڑکی کو اغوا کیا اور گھر سے سونا و پیسے چوری کیے۔ وکیل درخواستگزار نے عدالت کو بتایا کہ لڑکی کی عمر 16 سال ہے۔

ملزم کے وکیل محمد صدیق اعوان نے کہا کہ لڑکی نے کورٹ میرج کی اور مجسٹریٹ کے سامنے بیان بھی ریکارڈ ہے۔ عدالت میں بتایا گیا کہ کورٹ میرج کرنے والی لڑکی جڑواں بہنیں ہیں اور لڑکی کی دوسری بہن کی شادی 3 سال قبل ہو چکی ہے۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ ’جب میاں بیوی راضی ہیں تو کیا ایشو ہے‘ اور استفسار کیا کہ ملزم کب سے گرفتار ہے، جس پر وکیل ملزم نے جواب دیا کہ جون 2025 سے۔ عدالت نے کہا کہ فیملی ٹری نہ نکالا جائے اور اگر آپ چاہتے ہیں تو کارروائی علیحدہ ہو۔

عدالت میں بتایا گیا کہ لڑکی تین بار مجسٹریٹ کے سامنے پیش ہو چکی ہے اور ہر بار بیان دیا کہ وہ مرضی سے شادی کے لیے راضی تھی۔

یہ بھی پڑھیں:بلوچستان اسمبلی میں کم عمری کی شادیوں کے خلاف بل منظور، اپوزیشن کا احتجاج

پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ چائلڈ میرج ایکٹ کے تحت 16 سال 4 ماہ کی سزا ممکن ہے۔ عدالت نے دلائل مکمل ہونے کے بعد محمد عرفان کو ایک لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض عارضی ضمانت دے دی، جبکہ مقدمہ چائلڈ میرج ایکٹ کے تحت جاری رہے گا۔

عدالت نے واضح کیا کہ یہ ضمانت عارضی ہے اور قانونی کارروائی مکمل ہونے تک مقدمہ برقرار رہے گا، تاکہ چائلڈ میرج ایکٹ کے تحت مجاز سزا دی جا سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

جسٹس ہاشم کاکڑ چائلڈ میرج ایکٹ سپریم کورٹ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: جسٹس ہاشم کاکڑ چائلڈ میرج ایکٹ سپریم کورٹ عدالت نے

پڑھیں:

چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس

چیف جسٹس آف پاکستان نے ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے سیکیورٹی اہلکار کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔

چیف جسٹس آف پاکستان نے پاکستان کی عدلیہ کی جانب سے شہدا کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کیا۔

ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے سیکیورٹی اہلکار مستونگ میں دورانِ ڈیوٹی دہشت گرد حملے میں شہید ہوئے تھے۔

چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی نے کہا کہ پاکستان کی عدلیہ اس ناقابلِ تلافی سانحے پر سوگوار خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان نے شہداء کے درجات کی بلندی اور اہلِ خانہ کے لیے صبر جمیل کی دعا کی۔

مزید پڑھیں

مستونگ: قومی شاہراہ پر فائرنگ، سیشن جج گن مین سمیت شہید، ایڈیشنل سیشن جج سمیت 2 افراد شدید زخمی

چیف جسٹس آف پاکستان نے زخمی ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری اور جوڈیشل مجسٹریٹ کی جلد صحت یابی کی دعا کی جبکہ شہداء سے اظہارِ عقیدت اور بلوچستان کی ضلعی عدلیہ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے 25 جولائی کو شیڈول جوڈیشل ویلبیئنگ کانفرنس مؤخر کر دی گئی۔

چیف جسٹس نے کہا پاکستان کی عدلیہ بلاخوف و خطر انصاف کی فراہمی کے عزم پر قائم ہے، تشدد اور دہشت گردی کے واقعات قانون کی حکمرانی کے لیے ہمارے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی عدلیہ ہر حال میں انصاف کی بالادستی اور عدلیہ کی آزادی کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں،  عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس مقابلے، 5 ڈاکو زخمی حالت میں گرفتار
  •  230 سے زائد پی ٹی آئی رہنماؤں  کارکنوں کی عبوری ضمانت میں توسیع
  • کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
  • کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم