’جب میاں بیوی راضی ہیں تو ۔۔۔‘ چائلڈ میرج ایکٹ کے تحت گرفتار ملزم کی ضمانت
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
سپریم کورٹ نے چائلڈ میرج ایکٹ کے تحت گرفتار محمد عرفان کی ضمانت بعد از گرفتاری درخواست منظور کر لی ہے۔ عدالت نے ملزم کو ایک لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض عارضی رہائی دی، جبکہ مقدمہ چائلڈ میرج ایکٹ کے تحت جاری رہے گا۔
یہ بھی پڑھیں:کم عمری کی شادی کے خاتمے کے لیے ملک گیر مہم کا آغاز
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے محمد عرفان کی ضمانت پر سماعت کی۔ ملزم عرفان جون 2025 سے گرفتار تھا اور اس پر الزام تھا کہ اس نے ایک 16 سالہ لڑکی کو اغوا کیا اور گھر سے سونا و پیسے چوری کیے۔ وکیل درخواستگزار نے عدالت کو بتایا کہ لڑکی کی عمر 16 سال ہے۔
ملزم کے وکیل محمد صدیق اعوان نے کہا کہ لڑکی نے کورٹ میرج کی اور مجسٹریٹ کے سامنے بیان بھی ریکارڈ ہے۔ عدالت میں بتایا گیا کہ کورٹ میرج کرنے والی لڑکی جڑواں بہنیں ہیں اور لڑکی کی دوسری بہن کی شادی 3 سال قبل ہو چکی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ ’جب میاں بیوی راضی ہیں تو کیا ایشو ہے‘ اور استفسار کیا کہ ملزم کب سے گرفتار ہے، جس پر وکیل ملزم نے جواب دیا کہ جون 2025 سے۔ عدالت نے کہا کہ فیملی ٹری نہ نکالا جائے اور اگر آپ چاہتے ہیں تو کارروائی علیحدہ ہو۔
عدالت میں بتایا گیا کہ لڑکی تین بار مجسٹریٹ کے سامنے پیش ہو چکی ہے اور ہر بار بیان دیا کہ وہ مرضی سے شادی کے لیے راضی تھی۔
یہ بھی پڑھیں:بلوچستان اسمبلی میں کم عمری کی شادیوں کے خلاف بل منظور، اپوزیشن کا احتجاج
پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ چائلڈ میرج ایکٹ کے تحت 16 سال 4 ماہ کی سزا ممکن ہے۔ عدالت نے دلائل مکمل ہونے کے بعد محمد عرفان کو ایک لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض عارضی ضمانت دے دی، جبکہ مقدمہ چائلڈ میرج ایکٹ کے تحت جاری رہے گا۔
عدالت نے واضح کیا کہ یہ ضمانت عارضی ہے اور قانونی کارروائی مکمل ہونے تک مقدمہ برقرار رہے گا، تاکہ چائلڈ میرج ایکٹ کے تحت مجاز سزا دی جا سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
جسٹس ہاشم کاکڑ چائلڈ میرج ایکٹ سپریم کورٹ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: جسٹس ہاشم کاکڑ چائلڈ میرج ایکٹ سپریم کورٹ عدالت نے
پڑھیں:
سارا انعام قتل کیس: شاہنواز امیر کی اپیلوں پر سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی
---فائل فوٹواسلام آباد ہائی کورٹ نے سارا انعام قتل کیس میں سزا یافتہ مجرم شاہنواز امیر کی سزا کے خلاف اپیل اور دیگر متعلقہ اپیلوں کی سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی کر دی۔
کیس کی سماعت جسٹس خادم حسین سومرو اور جسٹس محمد آصف نے کی، مجرم کی والدہ ثمینہ شاہ کی بریت کے خلاف درخواست بھی زیرِ سماعت آئی۔
سماعت کے دوران شاہنواز امیر کی جانب سے وکیل چوہدری عبدالعزیز جبکہ مقتولہ سارا انعام کے والد کی جانب سے رضوان عباسی عدالت میں پیش ہوئے۔
جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس انعام امین منہاس نے کیس کی سماعت کی۔
جسٹس خادم حسین سومرو نے استفسار کیا کہ کیا فریقین دلائل کے لیے تیار ہیں جس پر دونوں جانب کے وکلا نے آمادگی ظاہر کی، بعد ازاں وکیل چوہدری عبدالعزیز نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے سب سے پہلے ایف آئی آر کا متن پڑھا۔
وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ اس مقدمے میں ایاز امیر ابتدا ہی میں کیس سے ڈسچارج ہو گئے تھے اور اس حکم کو کسی فورم پر چیلنج نہیں کیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ ثمینہ شاہ کو بھی ٹرائل کورٹ نے عدم شواہد کی بنیاد پر بری کیا تھا تاہم اس وقت ان کے وکیل عدالت میں موجود نہیں تھے۔
عدالت نے آئندہ تاریخ کے حوالے سے فریقین سے رائے طلب کی جس پر رضوان عباسی نے سماعت آئندہ ہفتے یا موسم گرما کی تعطیلات کے بعد مقرر کرنے کی استدعا کی۔
اسلام آباداسلام آباد کی مقامی عدالت نے سارہ...
بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی کر دی۔
واضح رہے کہ ستمبر 2022ء میں سارا انعام کو ان کے شوہر شاہنواز امیر نے قتل کر دیا تھا جبکہ ٹرائل کورٹ شاہنواز امیر کو سزائے موت سنا چکی ہے۔