محفوظ بسنت کے انتظامات مکمل ؛ پتنگ اور ڈور کے سیلرز کی رجسٹریشن مکمل ؛تفصیل سامنے آگئی
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
سٹی 42: وزیراعلیٰ پنجاب کے صوبے میں محفوظ بسنت اور ثقافتی سرگرمیوں کی بحالی کا ویژن پرڈپٹی کمشنر لاہور کی بسنت کے پرامن انعقاد کے لیے تمام حفاظتی انتظامات کی نگرانی شروع ہوگئی ۔
بسنت پورٹل اور ای بز ایپ کے ذریعے شفاف رجسٹریشن کا عمل جاری ہے ۔ ابتک 12 ایسوسی ایشنز اور 683 پتنگ ساز مینوفیکچرز نے پورٹل پر رجسٹریشن کرائی۔
1088 پتنگ، ڈور کے سیلرز ،218 پتنگ، ڈور کے تاجروں کی رجسٹریشن مکمل ہوچکی ہے ۔ خطرناک دھاتی ڈور اور کیمیکل مواد کی روک تھام کیلئے خصوصی ٹیمیں متحرک ہیں ۔ فروری 6، 7 اور 8 کو لاہور میں محفوظ بسنت منانے کیلئے ضروری انتظامات مکمل ہوگئے ۔
پتنگوں اور ڈور کی فروخت صرف یکم تا 8 فروری تک کرنے کی اجازت ہوگی۔ پتنگ ساز اور ڈور فروش فوری طور پر بسنت پورٹل پر اندراج یقینی بنائیں، انسانی جانوں کے تحفظ کیلئے صرف حکومت کے منظور شدہ معیار کی ڈور بنائیں۔دھاتی تار، نائیلون اور پلاسٹک ڈور کی تیاری پر مکمل پابندی عائد رہے گی۔تمام مینوفیکچررز ای بز ایپ کے ذریعے قانونی ضابطے پورے کریں۔چھتوں پر حفاظتی اقدامات اور پبلک سیفٹی کو ہر صورت مقدم رکھا جائے۔
غیر قانونی ڈور کی فروخت کی اطلاع ضلعی انتظامیہ کے کنٹرول روم کو دیں۔ڈپٹی کمشنر لاہور کیپٹن (ر) محمد علی اعجاز ٹوانہ نے کہا بسنت پر حفاظتی قوانین سے متعلق زیرو ٹالرنس پالیسی ہے۔انسانی جان کا تحفظ ہماری اولین ترجیح اور ذمہ داری ہے۔جش بہاراں اور بسنت لاہور کی منفرد ثقافتی شناخت کا حصہ ہیں۔18 سال بعد بسنت کی بحالی شہریوں کیلئے بہترین تفریح ثابت ہوگی۔
بنگلہ دیش کے کرکٹ میچوں پر پابندی، بھارتی ہائیکورٹ نے درخواست مسترد کردی
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: پتنگ پتنگ ڈور سیلرز پتنگ ڈور ڈور ڈور پتنگ ڈور ڈور ڈور پابندی ڈور
پڑھیں:
کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
صدر مسلم لیگ (ن) نوازشریف(nawaz shrif) کا کہنا ہے کہ کسی پر تنقید کرکے،کسی کی برائی کرکے ووٹ نہیں مانگتا بلکہ اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ مانگتے ہیں۔
گلگت میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف کا کہنا تھا کہ کسی پارٹی یا حکومت کے خلاف بات نہیں کرنا چاہتا، حکومت ملنے پر کیوں اس علاقے کو نظر انداز کیا گیا؟
کیوں اس علاقے پر توجہ نہیں دی گئی؟ جب وزیراعظم تھا تو کئی بار گلگت آیا اور اسکردو گیا تھا، کئی برسوں بعد آپ سے گفتگو کرکے بہت خوشی ہورہی ہے۔
نوازشریف نے کہا کہ وزیراعلیٰ اور وزیراعظم بننے سے بھی پہلے گلگت،اسکردو آیاتھا، گلگت، بلتستان، اسکردو سے مجھے دلی محبت ہے، جس گلگت کو میں جانتا تھا وہ گلگت کہاں ہے؟ میرا دل روتا ہے کہ آپ کا پیسہ آپ پر کیوں نہیں لگا یاگیا۔
صدر مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ کسی ایک پارٹی نے یہاں منصوبے کی بنیاد نہیں رکھی، جومیرےزمانے میں ایئرپورٹ تھا، آج بھی وہی ہے، شہبازشریف سے کہوں گا اس ایئرپورٹ کو بڑا کریں، جیٹ طیارے لینڈ کرنے اور ٹیک آف کی گنجائش پیدا کریں گے۔
نوازشریف کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں لواری ٹنل 70سال سے مکمل نہیں ہورہی تھی، ہم نے اربوں روپےخرچ کرکے لواری ٹنل مکمل کی، یہاں منصوبہ شروع ہوتا ہے تو مکمل ہونے کا نام نہیں لیتا۔
گلگت بلتستان میں 10،10 اور12،12گھنٹےکی لوڈشیڈنگ منظور نہیں۔ ووٹ ملے نہ ملے، آپ کو ان چیزوں سے محروم نہیں کرسکتے۔
سابق وزیراعظم نے کہا کہ ہماری حکومت آئی تو یہاں ہر دوسرے تیسرے ماہ آتارہوں گا، اپنی نگرانی میں منصوبے مکمل کراؤں گا، تمام اسٹیک ہولڈرز کو بٹھا کر آپ کے حق میں فیصلہ کریں گے۔ تجارت بڑھنے پر گلگت بلتستان بہت خوشحال ہوجائے گا۔
مزید پڑھیں:پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
نوازشریف نے کہا کہ مجھے کیوں نکالا؟ کیوں مجھے ملک چھوڑ کر جانا پڑا؟ کیوں مجھے جیلوں میں ڈالا گیا۔ قصور آپ کا بھی ہے۔