بنگلادیش کے میچز بھارت سے منتقل نہیں ہونگے: آئی سی سی اعلامیہ
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے واضح کیا ہے کہ بنگلادیش کرکٹ ٹیم کو بھارت میں کسی قسم کا سکیورٹی خطرہ لاحق نہیں اور ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کا شیڈول برقرار رہے گا۔ آئی سی سی کے اعلامیے کے مطابق بنگلادیش کے میچز بھارت سے منتقل نہیں کیے جائیں گے۔
آئی سی سی کا کہنا ہے کہ ٹورنامنٹ سے چند روز قبل کسی قسم کی تبدیلی ممکن نہیں، جبکہ میچز کی منتقلی سے آئندہ ایونٹس کی ساکھ متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اس طرح کی تبدیلی گورننگ باڈی کی غیر جانبداری پر بھی سوال اٹھا سکتی ہے۔
آئی سی سی کے مطابق تعطل ختم کرنے کے لیے بنگلادیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) سے متعدد رابطے کیے گئے اور انہیں تفصیلی سکیورٹی پلان سے آگاہ کیا گیا۔ تاہم تمام کوششوں کے باوجود بنگلادیش اپنے مؤقف پر قائم رہا۔
اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ بنگلادیش نے اپنی شرکت کو غیر متعلقہ معاملے سے جوڑے رکھا، جبکہ بی سی بی کا مؤقف کھلاڑیوں کی ڈومیسٹک لیگ میں شمولیت سے متعلق تھا۔
آئی سی سی نے واضح کیا کہ وینیو اور شیڈول سے متعلق فیصلے سکیورٹی جائزے کی بنیاد پر کیے جاتے ہیں اور اس ضمن میں میزبان ملک کی سکیورٹی گارنٹی کو بھی مدنظر رکھا جاتا ہے۔ آئی سی سی اجلاس میں تمام سکیورٹی رپورٹس کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، جس کے بعد میچز کو شیڈول کے مطابق رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔