سانحہ گل پلازہ کی تحقیقات میں تیزی، بڑے انکشافات سامنے آگئے
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
سانحہ گل پلازہ کے بعد سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی جاگ گئی اور تحقیقات کر کے 7 فائلوں پر مبنی ریکارڈ کمشنر کو جمع کرادیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق گل پلازہ سانحے کی تحقیقات تیزی سے جاری ہیں جس کے تحت ایس بی سی اے نے 7 فائلوں پر مبنی ریکارڈ کمشنر کو جمع کرادیا۔
ذرائع کے مطابق 7 فائلوں میں سے 3 گل پلازہ کے زیر التواء کورٹ کیسز کی ہیں، عمارت کے حوالے سے 1992، 2015 اور 2021 میں کیسز زیر سماعت تھے جن پر عدالتوں نے اسٹے دیا۔
ایس بی سی اے کی جانب سے جمع کرائی گئی فائلوں میں خلاف ضابطہ تعمیرات کے دستاویزات بھی شامل ہیں، ریکارڈ میں ریوائز پرپوز اور ریگولرائزیشن پلان کے کاغذات بھی موجود ہیں۔
اتھارٹی نے چار روز بعد عمارت کی منظوری سمیت مکمل رپورٹ اور فائل بھی انتظامیہ کو حوالے کردیں۔
مزید پڑھیںسانحہ گل پلازہ؛ آتشزدگی کا شکار ایک ہی دکان سے 30 لاشیں برآمد، جاں بحق افراد کی تعداد 61 ہوگئی
سانحہ گل پلازہ کے بعد تجارتی و رہائشی عمارتوں میں فائر سیفٹی سسٹم نصب کروانے کیلیے 3 دن کا الٹی میٹم
سانحہ گل پلازہ کے متاثرہ تاجروں کو صدر پارکنگ پلازہ میں جگہ دی جائے، گورنر سندھ
ترجمان کے مطابق اصل فائلیں پلاٹ نمبر 32، پی آر-01 پریڈی کوارٹرز، ضلع ساؤتھ میں جمع کرائی گئیں، جن میں عدالت کے کیسز، خلاف ضابطہ تعمیرات، رپورٹ اور ریگولرائزیشن پلان شامل ہیں،
عدالت کیس فائل سی پی نمبر 4138/2015 میں 86 صفحات اور نوٹنگ موجود ہیں جبکہ کیس فائل سی پی نمبر 971/2021 میں 50 صفحات کی تفصیلات شامل ہیں۔
اس کے علاوہ عدالتی کیس فائل سی پی نمبر 1081/92 میں 16 صفحات اور نوٹنگ شامل کی گئی ہیں اور خلاف ضابطہ فائل میں چھ صفحات کی خط و کتابت کو بھی رپورٹ میں شامل کیا گیا ہے۔
ترجمان کے مطابق ریوائز پرپوزڈ بلڈنگ پلان فائل میں 57 صفحات اور نوٹنگ 06 صفحات شامل ہیں، رپورٹ فائل میں 135 صفحات اور نوٹنگ 07 صفحات تک موجود ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: صفحات اور نوٹنگ سانحہ گل پلازہ گل پلازہ کے کے مطابق شامل ہیں
پڑھیں:
مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ وائرل ہورہا تھا کہ پنجاب کے سیاحتی مقام مری میں 31 مئی تک غیر شادی شدہ مردوں (بیچلرز) کے داخلے پر سرکاری پابندی عائد کردی گئی ہے، تاہم فیکٹ چیک کے بعد یہ واضح ہوا ہے کہ یہ دعویٰ گمراہ کن ہے اور مکمل طور پر درست نہیں۔
فیس بک سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر شیئر کی جانے والی پوسٹس میں کہا جا رہا تھا کہ عید سے قبل مری میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے بیچلرز کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے اور صرف فیملیز کو ہی شہر میں جانے کی اجازت ہوگی۔ ان دعوؤں میں یہ تاثر دیا گیا کہ مبینہ پابندی پورے مری شہر پر لاگو ہے۔
حقیقت اس کے برعکس ہے۔ حکام کے مطابق مری میں غیر شادی شدہ مردوں کے داخلے پر کوئی مکمل پابندی عائد نہیں کی گئی۔ صرف مخصوص ہدایت کے تحت مال روڈ پر ایک تبدیلی کی گئی ہے، جہاں اکیلے آنے والے مردوں یا بیچلرز گروپس کو داخلے کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ فیملیز بدستور وہاں جا سکتی ہیں۔
ضلع مری کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) کامران صغیر کے مطابق 31 مئی تک دفعہ 144 نافذ تھی، جس کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا۔ ان کے مطابق مری شہر میں بیچلرز کے داخلے پر کوئی پابندی نہیں، البتہ مال روڈ پر صرف فیملیز کو جانے کی اجازت دی گئی ہے تاکہ سیاحتی نظم و ضبط بہتر بنایا جا سکے۔
انہوں نے مزید وضاحت کی کہ ’’مال روڈ کے اوپر اکیلے مردوں کو اجازت نہیں، صرف فیملیز جا سکتی ہیں، پورا مری بند نہیں ہے، بیچلرز کی انٹری پر مکمل پابندی نہیں ہے۔‘‘
ڈپٹی کمشنر مری کے سرکاری فیس بک اکاؤنٹ سے بھی 20 مئی کو جاری نوٹیفکیشن شیئر کیا گیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ پولیس کی سفارش پر مال روڈ پر صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ سیاحوں کو بہتر سہولت فراہم کی جا سکے۔
یہ دعویٰ کہ مری میں بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد ہے، غلط ثابت ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود ہے، جبکہ مری شہر بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے۔