اوپن اے آئی کا مصنوعی ذہانت کو روزمرہ زندگی میں شامل کرنے کا ہدف
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
مصنوعی ذہانت تیار کرنے والی معروف کمپنی اوپن اے آئی دنیا بھر میں اے آئی کے استعمال کو عام بنانے کے لیے سرگرم ہو گئی۔
یہ بھی پڑھیں: مصنوعی ذہانت سے جذباتی تعلقات طلاقوں کی نئی وجہ بنتے جا رہے ہیں، انتباہ
غیرملکی میڈیا کے مطابق اس مقصد کے تحت کمپنی بین الاقوامی حکام کو مزید ڈیٹا سینٹرز قائم کرنے پر آمادہ کرنے کے ساتھ ساتھ تعلیم، صحت اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے جیسے شعبوں میں اے آئی کے وسیع پیمانے پر استعمال کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے۔
اوپن اے آئی کا بنیادی مقصد اپنی مصنوعات کے دائرۂ کار کو وسعت دینا اور مختلف ممالک کے درمیان موجود تکنیکی فرق کو کم کرنا ہے کیونکہ کمپنی کے مطابق اے آئی ٹیکنالوجی تک وسیع رسائی کے بغیر عالمی ترقی ممکن نہیں۔
پیچیدہ سوچ رکھنے والے نئے اے آئی سسٹمزاوپن اے آئی کو توقع ہے کہ پیچیدہ نوعیت کے تجزیاتی اور منطقی کام انجام دینے کی صلاحیت رکھنے والے اس کے جدید اے آئی سسٹمز صارفین کو مزید گہرے استعمال کی جانب راغب کریں گے۔
مزید پڑھیے: مصنوعی ذہانت کے تاریک پہلو کیا ہیں، دنیا میں کتنے افراد استعمال کر رہے ہیں؟
رائٹرز کے مطابق اوپن اے آئی کی جانب سے جاری کی گئی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ زیادہ تر ممالک اب بھی اس سطح سے کہیں کم پر کام کر رہے ہیں جو آج کے جدید اے آئی سسٹمز ممکن بنا سکتے ہیں۔
عالمی منصوبے کا آغازاوپن اے آئی نے بتایا کہ یہ عالمی اقدام گزشتہ سال اس وقت شروع ہوا جب برطانوی وزیر خزانہ کے سابق عہدیدار جارج اوسبورن کو اس منصوبے کی نگرانی کے لیے مقرر کیا گیا۔
کمپنی کے چیف گلوبل افیئرز افسران، جارج اوسبورن اور کرس لہانے اس ہفتے ڈیووس کے دورے کے دوران حکومتی عہدیداروں سے ملاقاتیں کر رہے ہیں۔ اس حکمت عملی کا مقصد عالمی اے آئی انقلاب میں اوپن اے آئی کی قیادت کو مزید مضبوط بنانا ہے۔
ممکنہ عوامی پیشکش اور بڑھتی قدرفی الحال اوپن اے آئی، جس کی حالیہ قدر تقریباً 500 ارب ڈالر لگائی گئی ہے، ایک ممکنہ عوامی پیشکش (آئی پی او) پر غور کر رہی ہے جس کے نتیجے میں کمپنی کی مجموعی مالیت ایک کھرب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔
قدرتی آفات سے نمٹنے میں شراکت داریاوپن اے آئی کے اعلیٰ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ کمپنی آفات سے نمٹنے اور منصوبہ بندی جیسے شعبوں میں بھی شراکت داری کی خواہاں ہے۔
مزید پڑھیں: چین میں مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے کمالات: بزرگوں کی خدمت گار، نابیناؤں کی ’آنکھ‘، اور بہت کچھ!
جنوبی کوریا میں اوپن اے آئی حکومت کی واٹر اتھارٹی کے ساتھ مل کر ایک ریئل ٹائم آبی آفات کی وارننگ اور دفاعی نظام تیار کرنے پر کام کر رہی ہے جس کا مقصد موسمیاتی تبدیلی سے پیدا ہونے والے آبی بحران سے نمٹنا ہے۔
استعمال میں نمایاں فرقاوپن اے آئی کے مطابق اس کے عام صارفین کے مقابلے میں 95ویں فیصد میں آنے والے ’پاور یوزرز‘ جدید منطقی صلاحیتوں کا استعمال 7 گنا زیادہ کرتے ہیں۔ یہ فرق نہ صرف مختلف ممالک بلکہ ایک ہی ملک کے اندر بھی نمایاں ہے۔
یہ بھی پڑھیے: وزیرِ اطلاعات کا انتباہ: مصنوعی ذہانت اور تخلیقی روزگار کا مستقبل
ماہرین کے مطابق آنے والے سال یہ طے کریں گے کہ اوپن اے آئی کس حد تک مصنوعی ذہانت کو محض ایک تکنیکی جدت سے نکال کر عملی اور روزمرہ استعمال کا مؤثر ذریعہ بنا پاتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اوپن اے آئی اوپن اے آئی کا منصوبہ اے آئی مصنوعی ذہانت مصنوعی ذہانت روزمرہ زندگی میں.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اوپن اے ا ئی اوپن اے ا ئی کا منصوبہ اے ا ئی مصنوعی ذہانت مصنوعی ذہانت روزمرہ زندگی میں مصنوعی ذہانت اوپن اے آئی اے آئی کے کے مطابق رہے ہیں
پڑھیں:
دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
دبئی: دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم کے ذریعے مسافروں کے لیے سفر کو مزید تیز اور آسان بنانے کی جانب ایک اہم قدم اٹھا لیا گیا ہے۔ مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی جدید بارڈر کنٹرول نظام کی آزمائش کامیاب رہی ہے، جس کے تحت مسافر صرف 3.4 سیکنڈ میں امیگریشن کا مرحلہ مکمل کر سکتے ہیں۔
دبئی کی جنرل ڈائریکٹوریٹ آف آئیڈینٹیٹی اینڈ فارنرز افیئرز (GDRFA) کے مطابق اس جدید نظام میں اے آئی سے لیس بایومیٹرک کیمرے بیک وقت 10 مسافروں کی شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
بغیر پاسپورٹ دکھائے امیگریشن کلیئر
نئے سسٹم کے تحت “ریڈ کارپٹ لین” استعمال کرنے والے رجسٹرڈ مسافروں کو پاسپورٹ یا بورڈنگ پاس دکھانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ انہیں صرف اپنا چہرہ کھلا رکھ کر بایومیٹرک کیمرے پر موجود سبز اشارے کی طرف دیکھنا ہوگا، جس کے بعد شناخت کا عمل خودکار طور پر مکمل ہو جائے گا۔
ابتدائی مرحلے میں کن مسافروں کے لیے؟
ابتدائی طور پر اس جدید سسٹم کا آغاز دبئی ایئرپورٹ کے ٹرمینل 3 پر فرسٹ کلاس اور بزنس کلاس کے مسافروں کے لیے کیا گیا تھا، تاہم کامیاب آزمائش کے بعد اب اس سہولت کو مزید آنے والے مسافروں تک توسیع دی جا رہی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے دوران 5 لاکھ 28 ہزار سے زائد مسافروں نے دبئی کے “اسمارٹ کوریڈور” سے استفادہ کیا، جبکہ گزشتہ سال 2 کروڑ 60 لاکھ سے زیادہ مسافروں نے اسمارٹ گیٹس کے ذریعے سفر کیا۔
کن افراد کو یہ سہولت حاصل ہوگی؟
حکام کے مطابق متحدہ عرب امارات اور خلیجی ممالک کے شہری، یو اے ای کے رہائشی اور بایومیٹرک پاسپورٹ رکھنے والے ویزا آن ارائیول مسافر اس سہولت سے خودکار طور پر فائدہ اٹھا سکیں گے۔ تاہم 1.2 میٹر سے کم قد رکھنے والے بچوں کے لیے یہ نظام فی الحال دستیاب نہیں ہوگا۔
دبئی ایئرپورٹس کے چیف ایگزیکٹو پال گریفتھس کا کہنا ہے کہ اس جدید ٹیکنالوجی کا مقصد سیکیورٹی کو برقرار رکھتے ہوئے امیگریشن کے عمل کو زیادہ تیز، آسان اور مؤثر بنانا ہے۔ ان کے مطابق مستقبل میں دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم تمام مسافروں کے لیے دستیاب ہوگا، جس سے ہوائی سفر کا تجربہ مزید بہتر ہونے کی توقع ہے۔