ریاست تلوارسے سب کو اڑا دینا چاہتی ہے،سلمان اکرم راجا
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد : پاکستان تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل بیرسٹر سلمان اکرم راجا کا کہنا ہے کہ کوئی ڈیڈلاک شاک نہیں ہے، یہ قوم ہمیں مسئلوں سے نکالے گی، اگر ہم نے اب سر جھکا دیا تو ہمیشہ ایسا ہوتا رہے گا، یہ قوم ہمیں فتح دلائے گی۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کی بات ہم نے آج کرنی ہے اور آج کے نوجوان کو جواب آج ہم نے دینا ہے، آگے بڑھنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ مانا جائے آج کا نظام غلط ہے۔
اگر یہ کہتے ہیں 2018ءکے انتخابات پر بات ہو گی تو 1990ءمیں کیا ہوا تھا، میں نے تو اصغر خان کیس لڑا ہوا ہے، اس لیے نہ ہم 8 فروری 2024ءکو بھولیں گے اور نہ ہی ہم مٹی ڈالنے دیں گے، انہیں ہر صورت مداوا کرنا ہوگا۔
سیکرٹری جنرل پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ ہم کوئی پر تشدد جتھہ نہیں ہیں، ہم حملہ آور نہیں ہیں، تحریکیں ایسے ہی آگے بڑھتی ہیں، ہم کوشش جاری رکھیں گے۔
انہوں نے 1951ءپھر 1954ءکے انتخابات میں بے مثال دھاندلی کرکے اس جرم کا آغاز کیا تھا، اگر تب کہا ہوتا کہ ہم مٹی نہیں ڈالیں گے تو 8 فروری کو ایسا نہ ہوتا۔
تاریخ گواہ ہے جب کوئی قوم شرافت کے ساتھ حق پر کھڑی ہو جائے تو کوئی ظالم جابر سامنے کھڑا نہیں ہوسکتا۔
انہوں نے کہا کہ ریاست بدمست ہے، اندھی، گونگی، بہری ہوگئی ہے، اس کے ہاتھ میں صرف تلوار ہے وہ ہر ایک کو اڑا دینا چاہتی ہے، عمران خان پر ایکس اکائونٹ کے حوالے سے مقدمہ کیا گیا لیکن یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ آپ مقدمہ کریں اور دفاع کا موقع نہ دیں۔
4 نومبر کو جج ارباب طاہر نے حکم دیا کہ وکلاءکی عمران خان سے ملاقات کروائی جائے لیکن آج تک ہماری عمران خان سے ملاقات نہیں کروائی گئی اور ہم مشاورت نہیں کر سکے۔
سماعت میں جیل انتظامیہ نے کہا ان کی ضرور عمران خان سے مشاورت ہوگئی ہوگی کیونکہ یہ توشہ خانہ کیس میں عمران خان کو ملے تھے۔
بیرسٹر سلمان اکرم راجا کہتے ہیں کہ ہماری تو توشہ خانہ کیس میں آخری ملاقات 16 اکتوبر کو ہوئی تھی جبکہ ایکس کیس بعد میں بنایا گیا اسی لیے 4 نومبر کو جج کو ملاقات کروانے کا حکم دینا پڑا لیکن عمران خان سے ملاقات کیلیے ہائیکورٹ کا ایک اور حکم حکومت نے پھاڑ کر پھینک دیا ہے اور کہا ہے کہ ملاقات کی کوئی ضرورت نہیں ہے، آج پھر جج نے جیل حکام کو کہا ہے ’دیکھ لیجئے گا‘ اب پتہ نہیں اس کا مطلب کیا ہے بہر حال ہم دوبارہ ملاقات کی کوشش کریں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔