ایران میں اس وقت کیا ہو رہا ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
آپ کی نظروں سے خبریں تو گزرتی ہی ہوں گی۔ سڑکوں پر احتجاج، نعرے بازی، اور سرکاری عمارتوں بلکہ مساجد تک کو آگ لگانے کی ویڈیوز۔ ان خبروں کو دیکھ کر دو طرح کے تبصرے عام ملتے ہیں۔ ایک طرف سوشل میڈیا پر انہیں غدار، مغربی ایجنٹ اور اسلام کا دشمن کہا جاتا ہے، تو دوسری طرف یہ تاثر ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جو مہنگائی اور پٹرول کی قیمتوں سے تنگ آ کر باہر نکلے ہیں۔
لیکن سچ یہ ہے کہ ایران کی کہانی اتنی سادہ نہیں، یہ بہت پیچیدہ ہے۔ اگر آپ اس صورتحال کو گہرائی سے سمجھنا چاہتے ہیں، تو ہمیں خبروں کی سرخیوں سے نکل کر ایران کی تاریخ اور اس کی شناخت کے بحران کو دیکھنا ہوگا۔
ایران کوئی ایسا ملک نہیں جسے بیسویں صدی میں نقشے پر لکیریں کھینچ کر بنایا گیا ہو۔ یہ ہزاروں سال پرانی تہذیب ہے۔ وہ سرزمین جسے کبھی ’پرشیا‘ کہا جاتا تھا۔ جب یورپ قبیلوں میں بٹا ہوا تھا، تب ایران میں ایک مکمل ریاستی نظام، ٹیکس سسٹم اور بیوروکریسی موجود تھی۔
ایرانی ذہن میں ’ریاست‘ کا تصور بہت واضح اور قدیم ہے۔ اسلام سے پہلے وہاں زرتشت مذہب رائج تھا، جو محض ایک عقیدہ نہیں بلکہ ایک ریاستی فلسفہ تھا۔ ’’اچھی سوچ، اچھے الفاظ اور اچھے اعمال‘‘۔ وہاں مذہب کا مقصد صرف عبادت نہیں بلکہ معاشرے میں نظم و ضبط پیدا کرنا تھا۔ اسی لیے ایرانی شناخت میں ’ریاست‘ ایک مقدس ادارہ رہی ہے۔
ساتویں صدی میں جب عرب لشکر ایران پہنچے، تو ایران سیاسی طور پر تو ہار گیا، لیکن ثقافتی طور پر نہیں۔ یہ دنیا کے ان چند خطوں میں سے ہے جہاں اسلام تو آیا مگر عربی زبان رائج نہ ہو سکی۔ فارسی نہ صرف زندہ رہی بلکہ اس نے عربی کے اثرات کو جذب کرکے خود کو مزید طاقتور بنا لیا۔ ایرانیوں نے دین تو قبول کیا، مگر اپنی ایرانی شناخت نہیں چھوڑی۔ فردوسی کا ’شاہنامہ‘ محض شاعری نہیں، ایک سیاسی اعلان تھا کہ ’’ہم تھے، ہم ہیں اور ہم رہیں گے۔‘‘
یہیں سے ایک اور سوال جنم لیتا ہے، ایران نے سنی مکتبہ فکر کے بجائے شیعہ اسلام کو کیوں اپنایا؟
اس کی وجہ یہ تھی کہ شیعہ روایات، یعنی ظلم کے خلاف مزاحمت، مظلومیت، شہادت اور اقتدار کے آگے نہ جھکنا، ایرانیوں کے تاریخی تجربے اور ان کی شناخت سے میل کھاتی تھیں۔ ایران میں کربلا صرف ایک مذہبی واقعہ نہیں، بلکہ ایک سیاسی استعارہ بن گیا۔
1979 کا انقلاب بھی محض مہنگائی یا کرپشن کے خلاف نہیں تھا۔ وہ ایک ’شناختی انقلاب‘ تھا۔ شاہِ ایران پر الزام تھا کہ وہ مغرب کا ایجنٹ بن کر ایرانی شناخت کا سودا کررہا ہے۔ جب اخبار میں خمینی کو ’غیر ایرانی‘ لکھا گیا، تو عوام بھڑک اٹھے۔ ان کےلیے مسئلہ مذہب سے زیادہ یہ تھا کہ ایران کی نمائندگی کون کر رہا ہے؟ ایک ’اصیل ایرانی‘ یا ایک ’مغربی مہرہ‘؟
خمینی کی طاقت ان کی فقہ سے زیادہ ان کی سادگی اور ان کی ایرانیت میں تھی۔ لوگوں نے انہیں اپنی شناخت کا محافظ سمجھا اور شاہ کو باہر نکال دیا۔ لیکن انقلاب کے بعد پیدا ہونے والے خلا کو ایک منظم مذہبی گروہ نے پُر کیا اور یہاں سے ’ولایتِ فقیہ‘ کا آغاز ہوا۔
اب یہ سمجھتے ہیں کہ آج کا بحران کیا ہے؟
آج کا ایرانی نوجوان پوچھتا ہے ’’ہم کون ہیں؟ کیا ہماری ریاست ہماری نمائندگی کرتی ہے؟‘‘ ریاست کہتی ہے ’’تم پہلے مسلمان ہو، پھر ایرانی۔‘‘ نوجوان کہتا ہے ’’میں پہلے ایرانی ہوں، پھر مسلمان۔‘‘
ایران میں اجنبیوں کا خوف دکھا کر اختلافِ رائے کو غداری قرار دے دیا گیا۔ ملک میں ایک ’دہری ریاست‘ قائم ہوگئی۔ ایک منتخب صدر اور پارلیمنٹ، اور دوسری طرف ایک غیر منتخب ’سپریم لیڈر‘ اور ’گارڈین کونسل‘ جو یہ طے کرتی ہے کہ الیکشن کون لڑ سکتا ہے اور کون نہیں۔ یہ ایک ’فلٹرڈ جمہوریت‘ ہے۔
پھر پاسدارانِ انقلاب جو صرف فوج نہیں رہی، بلکہ میڈیا، تیل، تعمیرات اور تجارت کا ایک بڑا معاشی کمپلیکس بن چکی ہے۔ ادارہ جو انقلاب کی حفاظت کے لیے بنا تھا، اب خود انقلاب اس کے وجود کا بہانہ بن گیا ہے۔
آج سڑکوں پر نعرے بدل رہے ہیں۔ اب بات صرف اصلاحات یا مہنگائی کی نہیں رہی، اب نعرہ ہے ’’ہمیں یہ نظام ہی نہیں چاہیے۔‘‘ یہ تبدیلی موجودہ حکومت کے لیے بہت خطرناک ہے۔ لیکن ایک بڑا مسئلہ قیادت کا فقدان بھی ہے۔ مذہبی نظام نے ہر متبادل قیادت کو جیل یا جلاوطنی میں بھیج دیا ہے۔ رضا پہلوی جیسے نام سوشل میڈیا پر تو نظر آتے ہیں، مگر ان کے پاس ایران کے اندر وہ منظم نیٹ ورک نہیں جو کبھی خمینی کے پاس مساجد کی شکل میں تھا۔
ایران کا یہ بحران اتنی آسانی سے حل ہوتا نظر نہیں آتا۔ یہ احتجاج دب بھی جائے تو پھر ابھرے گا، کیونکہ مسئلہ ایشو بیسڈ نہیں، اسٹرکچر بیسڈ ہے۔ یہ وقار، شناخت اور انتخاب کا مسئلہ ہے۔
ایران کی تاریخ گواہ ہے کہ یہ قوم اپنی جڑوں سے کبھی کٹتی نہیں ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آنے والا وقت اس عظیم تہذیب کو کس موڑ پر لے جاتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جوہری مذاکرات کی بحالی کے امکانات روشن ہیں اور ایران بعض ایسے نکات پر بات چیت کے لیے آمادہ ہو گیا ہے جن پر وہ ماضی میں گفتگو سے انکار کرتا رہا تھا تاہم اس بات کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی کہ مذاکرات کسی قابل قبول معاہدے پر منتج ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے سامنے اپنے بیان میں مارکو روبیو نے کہا کہ ایران نے اپنے جوہری پروگرام کے بعض پہلوؤں پر بات چیت پر آمادگی ظاہر کی ہے جو چند ماہ قبل تک ممکن نہیں سمجھی جا رہی تھی۔
انہوں نے کہا کہ ایران ایسے معاملات پر مذاکرات کے لیے تیار ہوا ہے جن کا ذکر کرنے سے بھی وہ پہلے گریز کرتا تھا تاہم یہ اس بات کی ضمانت نہیں کہ بالآخر کوئی ایسا معاہدہ طے پا جائے گا جو سب کے لیے قابل قبول ہو۔
روبیو کے مطابق ایرانی قیادت کے اندر پائی جانے والی غیر یقینی صورتحال بھی مذاکراتی عمل کو پیچیدہ بنا رہی ہے۔
تاہم امریکی وزیر خارجہ کی امید افزا باتیں ایسے وقت سامنے آئی ہیں جب ایران اور امریکا کے درمیان بالواسطہ رابطوں میں نئی رکاوٹیں پیدا ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق اسرائیل کی جانب سے بیروت پر حملوں کی دھمکیوں کے بعد ایران نے ثالثوں کے ساتھ رابطے معطل کر دیے ہیں۔
ادھر امریکا کی میزبانی میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان سیاسی مذاکرات کا نیا دور بھی جاری ہے جبکہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے پہلے سے موجود نازک جنگ بندی کو مزید غیر یقینی بنا دیا ہے۔
مزید پڑھیے: لبنان جنگ بندی پراتفاق ہونے کے بعد امریکا، ایران مذاکرات دوبارہ تیز رفتاری سے شروع ہو گئے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان
مارکو روبیو نے کانگریس میں 2 روزہ بریفنگ کے دوران ایران، مشرق وسطیٰ، کیوبا، غیر ملکی امداد اور دیگر خارجہ پالیسی امور پر قانون سازوں کے سوالات کے جوابات دیے۔
ایران جنگ پر سوالاتکانگریس میں اپنی پہلی عوامی پیشی کے دوران روبیو کو ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں سے متعلق سخت سوالات کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
متعدد ڈیموکریٹ ارکان نے جنگ کے آغاز سے قبل کانگریس کی منظوری نہ لینے پر تنقید کی جبکہ بیشتر ریپبلکن ارکان نے ایران کے خلاف کارروائی کی حمایت کی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے فیصلے پر بھی بحث جاری ہے خصوصاً ایسے وقت میں جب انہوں نے ماضی میں مشرق وسطیٰ میں طویل جنگوں سے گریز کا وعدہ کیا تھا۔
جنگ کے معاشی اثراتایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں کی آمدورفت متاثر ہوئی ہے جس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
مزید پڑھیں: ٹرمپ نے ایران جنگ بندی معاہدے کی شرائط مزید سخت کر دیں، تہران کے جواب کا انتظار، امریکی میڈیا
ماہرین کے مطابق دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور قدرتی گیس کی تجارت آبنائے ہرمز کے ذریعے ہوتی ہے اس لیے خطے میں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی معیشت پر براہ راست اثر ڈال سکتی ہے۔
کیوبا سے متعلق بھی سخت مؤقفمارکو روبیو کو سماعت کے دوران کیوبا کے حوالے سے بھی سوالات کا سامنا کرنا پڑا۔ سماعت کے آغاز پر چند مظاہرین نے ’کیوبا کو جینے دو‘ اور ’کیوبن عوام کا قتل بند کرو‘ جیسے نعرے لگائے جنہیں بعد ازاں کمرے سے باہر نکال دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیے: ایران ڈیل کے قریب ہیں، مگر جلد بازی نقصان دہ ہوگی، صدر ٹرمپ کا فوکس نیوز کو انٹرویو میں دعویٰ
روبیو، جو کیوبن تارکین وطن خاندان سے تعلق رکھتے ہیں، طویل عرصے سے کیوبا کو امریکی قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کیوبا کے امریکا کے مخالف ممالک کے ساتھ تعلقات واشنگٹن کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔
امریکی انتظامیہ نے حالیہ دنوں میں کیوبا کے سابق صدر راول کاسترو کے خلاف فوجداری الزامات بھی عائد کیے ہیں جس پر کیوبا کی حکومت نے شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے سیاسی اقدام قرار دیا ہے۔
مزید پڑھیں: ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی معاہدہ تیار، ٹرمپ کی منظوری باقی، امریکی نیوز ویب سائٹ کا دعویٰ
مارکو روبیو بدھ کے روز بھی کانگریس کی مختلف کمیٹیوں کے سامنے پیش ہو کر امریکی محکمہ خارجہ کے بجٹ اور خارجہ پالیسی سے متعلق معاملات پر بریفنگ دیں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو ایران امریکا تنازع ایران امریکا مذاکرات ایران امریکا معاہدہ