ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو دو دن کی مزید حفاظتی ضمانت
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد:اسلام آباد ہائی کورٹ نے اقدامِ قتل، دہشت گردی اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کی دفعات کے تحت درج مقدمہ میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی دو دن کے لیے حفاظتی ضمانت منظور کر لی۔ عدالت نے دونوں درخواست گزاروں کو 10 ہزار روپے کے مچلکوں کے عوض حفاظتی ضمانت دیتے ہوئے ہدایت کی کہ وہ دو دن کے اندر متعلقہ عدالت سے رجوع کریں۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محمد اعظم خان نے نیشنل پریس کلب کے باہر احتجاج کے دوران تھانہ کوہسار میں درج مقدمہ میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی حفاظتی ضمانت کی درخواست پر سماعت کی۔ سماعت کے موقع پر اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر، سیکرٹری اور وکلا کی بڑی تعداد عدالت میں موجود تھی، جبکہ درخواست گزاروں کی جانب سے کامران مرتضیٰ ایڈووکیٹ پیش ہوئے۔
کامران مرتضیٰ ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ یہ پہلا موقع ہے کہ کسی خاتون نے رات احاطہ عدالت میں گزاری، انہیں محسوس ہوتا ہے کہ یہ صورتحال ان کی وجہ سے بنی کیونکہ انہوں نے ہی ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو عدالت آنے کا کہا تھا۔ وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ جب عدالت سے ضمانت مل گئی تو ایک نئی ایف آئی آر سامنے لا کر گرفتاری کی کوشش کی گئی۔
انہوں نے عدالت کو بتایا کہ ستائیس جولائی کے واقعے پر درج پرانی ایف آئی آر موجود ہے، جس کے بعد ایمان مزاری درجنوں مرتبہ عدالتوں میں پیش ہو چکی ہیں۔ اگر انہیں گرفتار کرنا مقصود ہوتا تو پراسیکیوشن پہلے ہی ایسا کر لیتی۔
وکیل کے مطابق اس عدالت سے ضمانت ملنے کے بعد پولیس ایک پرانے کیس میں گرفتاری کے لیے آ گئی، جس کا پہلے علم ہی نہیں تھا، ایف آئی آر میں فائرنگ کا ذکر ہے، حالانکہ وکیل نے پستول کو ہاتھ تک نہیں لگایا۔
سماعت کے دوران جسٹس محمد اعظم خان نے استفسار کیا کہ کیا درخواست گزار حفاظتی ضمانت مانگ رہے ہیں؟ اس پر کامران مرتضیٰ نے کہا کہ نہ صرف اس مقدمے میں بلکہ اس مقدمے میں بھی پروٹیکشن دی جائے جس کا انہیں علم نہیں۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ فی الحال جو فائل عدالت کے سامنے ہے، اسی مقدمے میں حفاظتی ضمانت دی جا رہی ہے۔ وکیل نے عدالتی نظائر پیش کرنے کی پیشکش کی جس پر عدالت نے کہا کہ ان کی نقول فراہم کر دی جائیں، فی الحال اسی مقدمے تک محدود رہتے ہوئے حکم دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف نئی ایف آئی آر سامنے آنے کے بعد ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد میں واقع لیگل برانچ کو تالا لگا دیا گیا۔ ذرائع کے مطابق لیگل برانچ کے عملے پر ایف آئی آر لیک کرنے کا الزام ہے، جس پر پولیس کے سینئر افسران کے حکم پر یہ اقدام کیا گیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف ایف آئی آر جولائی میں درج کی گئی تھی، تاہم اس مقدمے میں انہوں نے ضمانت نہیں کروائی تھی۔ نئی پیش رفت کے بعد ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ گزشتہ روز سے حفاظتی ضمانت کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ میں موجود تھے، جہاں آج عدالت نے انہیں عارضی ریلیف فراہم کر دیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ اسلام آباد ہائی کورٹ حفاظتی ضمانت ایف آئی آر عدالت نے کے بعد
پڑھیں:
حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)ایران نے صدر ٹرمپ کی تازہ دھمکی کے جواب میں خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا باز نہ آیا تو مشرق وسطیٰ میں اس کے انفرا اسٹریکچرز بھی محفوظ نہیں رہیں گے۔ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق ایک نامعلوم فوجی ذریعے نے کہا کہ آبنائے ہرمز پر اپنی خودمختاری کے استعمال میں ایران کا عزم فولادی ہے اور وہ کبھی بھی اس اہم آبی گزرگاہ کو اپنے خلاف خطرہ بننے کی اجازت نہیں دے گا۔فوجی عہدیدار نے مزید کہا کہ اگر امریکا نے ایران کے پلوں یا بجلی گھروں پر حملہ کیا تو ایران بھی عرب ممالک میں موجود امریکا سے وابستہ اہم شہری بنیادی ڈھانچوں بشمول پلوں، بجلی گھروں اور تنصیبات پر حملے کرے گا۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکیوں کو گزشتہ دس دنوں کے واقعات کے بعد اب پوری طرح یقین ہو جانا چاہیے کہ ایران جہاں چاہتا ہے وہیں حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ایرانی فوجی عہدیدار نے مزید کہا کہ لہٰذا ٹرمپ اگر اس طرح کا کوئی خطرناک جوا کھیلتے ہیں تو اس کا انجام ایک بار پھر ان کی سبکی اور شرمندگی کی صورت میں نکلے گا۔انھوں نے کہا کہ ایران آبنائے ہرمز پر اپنی خودمختاری کا حق استعمال کرتا رہے گا اور اس اہم آبی گزرگاہ پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے کے اپنے پختہ عزم سے کسی صورت دستبردار نہیں ہوگا۔
یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اعلان کیا تھا کہ اگر ایران کی پاسدارانِ انقلاب آبنائے ہرمز میں کسی تجارتی جہاز پر میزائل، راکٹ، ڈرون یا کسی اور ہتھیار سے حملہ کرتی ہے تو امریکا ہر ایسے واقعے کے جواب میں ایران کے ایک پل یا بجلی گھر کو تباہ کر دے گا چاہے وہ تہران کے قریب ہی کیوں نہ واقع ہو۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی سطح پر تیل اور گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے اور اسے ایران نے بند کر رکھا ہے جس کے باعث عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتیں بڑھ گئی ہے۔
مزید :