فچ ریٹنگ کی پاکستان کی طویل مدتی کریڈٹ ریٹنگ بی نیگٹیو برقرار
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
کی پاکستان کی طویل مدتی کریڈٹ ریٹنگ بی نیگٹیو برقرار
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)عالمی ریٹنگ ایجنسی ’فنچ ‘ نے پاکستان کی معاشی صورتحال پر رپورٹ جاری کر دی ہے جس میں پاکستان کی طویل مدتی کریڈٹ ریٹنگ بی نیگٹیو برقرار رکھی گئی ہے، عالمی ریٹنگ ایجنسی نے پاکستان کیلئےریکوری ریٹنگ بھی مقررکردی ہے، رپورٹ کے مطابق پاکستان میں سیاسی استحکام، قانون کی حکمرانی کا اسکور کمزور ہے۔
پاکستان کی طویل مدتی کریڈٹ ریٹنگ بی نیگٹیو برقرار رکھتے ہوئے کہا گیا کہ سیکیورٹیزمیں سرمایہ کاروں کو 31 سے 50 فیصد تک رقم واپس ملنے کا امکان ہے، فچ کے مطابق پاکستان کی آؤٹ لک مستحکم ہے، ڈیفالٹ کی صورت میں پاکستان کےقرضوں میں اوسط درجے کی ریکوری متوقع ہے۔ اس کی وجہ حکومتی قرضوں اور سود کی ادائیگیوں کا زیادہ ہونا ہے۔
پاکستان میں سیاسی استحکام ،قانون کی حکمرانی اور ادارہ جاتی معیار کے حوالے سے گورننس کا اسکور بھی کمزور ہے۔ عالمی بینک گورننس انڈیکس میں پاکستان بائیس فیصد کی سطح پر ہے۔ فچ رپورٹ کے مطابق حکومتی قرض اورسود کی ادائیگیوں میں کمی نہ ہونےسےریٹنگ متاثرہوتی ہے۔ آئی ایم ایف پروگرام میں تاخیر یا بیرونی مالی دباؤ میں اضافہ بھی وجوہات میں شامل ہے۔ فچ نے پندرہ اپریل دوہزار پچیس کو پاکستان کی ریٹنگ ٹرپل سی پازیٹو سےبڑھا کربی نیگٹوکی تھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
سپریم کورٹ آف پاکستان نے 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کرنے والے مجرم سنی مسیح کی اپیل مسترد کرتے ہوئے اس کی سزائے موت برقرار رکھنے کا فیصلہ سنا دیا۔
عدالت عظمیٰ نے اپنے اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ اپنی مرضی سے نشہ کرکے جرم کا ارتکاب کرنے والا شخص اپنے مجرمانہ عمل سے استثنیٰ کا دعویٰ کرنے کا حق نہیں رکھتا۔
3 رکنی بینچ، جس میں جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ، جسٹس صلاح الدین پہنور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے، نے مجرم کی اپیل پر فیصلہ جاری کیا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ صرف اس صورت میں کیا جا سکتا ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا اس کے علم میں لائے بغیر نشہ آور چیز دی گئی ہو۔
عدالتی فیصلے کے مطابق مجرم سنی مسیح کے خلاف 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے اور قتل کرنے کا مقدمہ 22 جنوری 2014 کو سبی میں درج کیا گیا تھا۔
ٹرائل کورٹ نے جرم ثابت ہونے پر مجرم کو سزائے موت سنائی تھی، جسے بعد ازاں ہائیکورٹ نے بھی برقرار رکھا اور اب سپریم کورٹ نے بھی اس فیصلے کی توثیق کردی ہے۔
دوران سماعت مجرم کے وکیل نے مؤقف اختیار کیاکہ وقوعہ کے وقت ملزم نشے کی حالت میں تھا، اس لیے سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا جائے۔
تاہم سپریم کورٹ نے اس استدعا کو مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ کسی شخص کو ایسے عمل کی سزا نہیں دی جا سکتی جس کے ارتکاب کا اس کا ارادہ نہ ہو، لیکن رضاکارانہ طور پر نشہ کرکے اسے اپنے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ مجرم نے خود تسلیم کیاکہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
عدالت نے واضح کیاکہ جو شخص اپنی مرضی سے شراب نوشی کرتا ہے وہ بعد میں مجرمانہ ذمہ داری سے استثنیٰ کا مطالبہ نہیں کر سکتا۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ مجرم نے بے دردی کے ساتھ کمسن بچی کو قتل کیا، لہٰذا اس کی اپیل خارج کرتے ہوئے سزائے موت برقرار رکھی جاتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews سزائے موت برقرار قتل کیس کمسن بچی وی نیوز