مصنوعی ذہانت سے ریسرچرز کی جاب کو سب سے زیادہ خطرہ، حیران کن دعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
ٹیکنالوجی کی صنعت میں ایک نیا تنازعہ پیدا ہو گیا ہے کیونکہ ایک اوپن اے آئی ملازم کے حوالے سے یہ دعویٰ سامنے آیا ہے کہ تحقیقاتی کردار پہلے خودکار ہو سکتے ہیں، جبکہ انجینئرنگ یا سیلز کی ملازمتیں نسبتاً زیادہ دیر تک محفوظ رہیں گی۔
یہ بھی پڑھیں: مصنوعی ذہانت: کون سی نوکریاں ختم اور کون سی جنم لے رہی ہیں؟
یہ دعویٰ ہائپر بولک لیبز کے شریک بانی اور سی ٹی او یوچن جن کے ایک بیان میں سامنے آیا، جنہوں نے کہا کہ اوپن اے آئی کے ایک محقق نے انہیں بتایا کہ محققین کو سب سے پہلے خودکار کرنے والی ملازمت سمجھا جاتا ہے۔
یوچن جن نے ایکس پر کہا کہ اس کے بعد انفراسٹرکچر انجینئرز کی باری آئے گی، جبکہ سیلز ٹیمیں سب سے دیر تک انسانی قیادت میں رہیں گی۔ اوپن اے آئی ملازم کا نام ظاہر نہیں کیا گیا، مگر یہ قول فوراً وائرل ہو گیا کیونکہ یہ اے آئی تحقیقاتی لیبز میں ملازمتوں کی سیکیورٹی کے روایتی نظریے سے متصادم تھا۔
?https://twitter.
ان کے مطابق جدید تحقیقاتی کام میں بہت سے ایسے عناصر شامل ہیں جن میں خیال سازی، تجرباتی ڈیزائن، مختلف اختیارات کی جانچ اور نتائج کا تجزیہ شامل ہے، اور وہ یہ شعبے ہیں جہاں انتہائی ترقی یافتہ اے آئی نظام تیزی سے اور بڑے پیمانے پر کام کر سکتے ہیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ زیادہ تر تحقیقاتی کام پیش گوئی کے قابل پیٹرن پر مبنی ہوتا ہے، جس سے اے آئی کے لیے اسے نقل کرنا آسان ہو جاتا ہے۔ تاہم، بہترین محققین جو مسائل کو نئے سرے سے تعریف کر سکتے ہیں، انہیں بدلنا مشکل ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: ایلون مسک نے اے آئی کو ’سپر سونک سونامی‘ قرار دے دیا، ان کی وارننگ کیا ہے؟
اس سے انفراسٹرکچر انجینئرز کی ملازمتیں نسبتاً زیادہ محفوظ رہ سکتی ہیں کیونکہ اے آئی کے نظاموں کی پیچیدگی اور ان کے انفراسٹرکچر میں کئی طرح کے کنارے کے معاملات اور انتہائی مخصوص کوڈ بیسز شامل ہوتے ہیں جن پر اے آئی ماڈلز کی تربیت نہیں ہوئی۔
اے آئی کی غلطیاں مہنگی ثابت ہوسکتی ہیں اور انسانی فیصلے کی ضرورت رہتی ہے۔ سیلز کی ملازمتیں اس وقت سب سے زیادہ محفوظ نظر آتی ہیں کیونکہ ان میں اعتماد، تعلقات، جذبات اور مذاکرات کا کردار زیادہ ہوتا ہے۔ جن نے سیلز کو اے آئی کے لیے آخری چیلنج قرار دیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news انجنیئرنگ اے آئی ریسرچرز سیلز نوکریاں
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اے ا ئی سیلز نوکریاں اے ا ئی
پڑھیں:
ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
ماہرین فلکیات نے نظام شمسی سے باہر موجود سیاروں (ایگزوپلینیٹس) میں مقناطیسی میدانوں کے شواہد دریافت کر لیے ہیں جسے اس حوالے سے اب تک کا مضبوط ترین ثبوت قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا پلوٹو کو سیارے کا درجہ دوبارہ مل جائے گا، یہ سیاروں کی فہرست سے نکالا کیوں گیا؟
سائنس دانوں نے چلی اور ہوائی میں نصب جدید دوربینوں کی مدد سے 7 بڑے اور انتہائی گرم گیسوں پر مشتمل سیاروں کا مشاہدہ کیا۔ تحقیق کے دوران ان سیاروں کی فضائی ہواؤں کے غیرمعمولی رویے کا جائزہ لیا گیا جس سے معلوم ہوا کہ ان پر مقناطیسی میدان موجود ہیں۔
یہ تحقیق جریدے نیچر آسٹرونومی میں شائع ہوئی ہے اور اس کے مطابق مقناطیسی میدان وہ غیر مرئی قوت ہے جو کسی سیارے کے اندر موجود پگھلے ہوئے دھاتی مواد کی حرکت اور اس کی گردش سے پیدا ہوتی ہے۔
تحقیق کی سربراہ اور فرانس کے آبزرویٹری ڈی لا کوٹ ڈی آزور سے وابستہ ماہر فلکیات جولیا سیڈل کے مطابق سائنس دانوں کی توقع تھی کہ زیادہ گرم سیاروں پر ہوائیں زیادہ تیز ہوں گی کیونکہ وہاں توانائی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے لیکن مشاہدات میں اس کے برعکس نتائج سامنے آئے۔
مزید پڑھیے: 45 نئے سیارے دریافت جہاں زندگی کے امکانات موجود ہیں
انہوں نے کہا کہ سب سے زیادہ گرم سیاروں پر ہواؤں کی رفتار توقع سے کم دیکھی گئی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ستاروں سے ملنے والی اضافی توانائی کسی اور طریقے سے ضائع ہو رہی ہے۔
ان کے مطابق اس کی سب سے ممکنہ وجہ مقناطیسی میدان اور فضا میں موجود برقی ذرات کے درمیان تعامل ہے۔
تحقیق میں شامل ساتوں سیارے اپنے ستاروں کے انتہائی قریب گردش کرتے ہیں۔ ان کا ایک حصہ مسلسل ستارے کی طرف جبکہ دوسرا حصہ ہمیشہ تاریکی میں رہتا ہے۔ اس قسم کے سیاروں کو ’ہاٹ جیوپیٹر‘ کہا جاتا ہے کیونکہ ان کا حجم اور ساخت مشتری سے ملتی جلتی ہوتی ہے تاہم ان کا درجہ حرارت بہت زیادہ ہوتا ہے۔
ان سیاروں پر ہواؤں کی رفتار بعض مقامات پر 25 ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ تک ریکارڈ کی گئی جو نظامِ شمسی کے سب سے بڑے سیارے مشتری کی ہواؤں سے بھی زیادہ ہے۔
مزید پڑھیں: سب سے چھوٹے سیارے عطارد کا وجود ایک معمہ، جانیے اس پراسرار جہان کی حقیقت؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ چونکہ نظام شمسی کے بیشتر سیاروں میں مقناطیسی میدان موجود ہیں اس لیے یہ بات حیران کن نہیں کہ دوسرے نظاموں کے سیاروں میں بھی یہ خصوصیت پائی جائے تاہم اب تک اس کے واضح شواہد دستیاب نہیں تھے۔
تحقیق میں شامل جرمنی کے یورپی جنوبی رصدگاہ سے وابستہ ماہر فلکیات بیبیانا پرنوتھ کے مطابق مقناطیسی میدان کسی سیارے کو قابلِ رہائش بنانے کا واحد عنصر نہیں لیکن یہ طویل عرصے تک فضا کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ زندگی کے لیے فضا کا موجود ہونا انتہائی ضروری ہے کیونکہ فضا سطحی دباؤ کو برقرار رکھنے، درجہ حرارت کو متوازن رکھنے اور زمین کی طرح مائع پانی کے وجود کو ممکن بناتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: زمین جیسے سیارے کی تلاش ایک دلچسپ جدوجہد، سائنسدان پرامید
ماہرین کے مطابق اگرچہ اس تحقیق میں شامل تمام سیارے گیسوں پر مشتمل ہیں اور زندگی کے لیے موزوں نہیں سمجھے جاتے تاہم ان میں مقناطیسی میدانوں کی موجودگی کی دریافت مستقبل میں زمین جیسے چٹانی سیاروں کے مطالعے اور قابلِ رہائش دنیاوں کی تلاش میں اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ مقناطیسی میدان رکھنے والے سیارے نظام شمسی ہاٹ جیوپیٹر