پاکستان مخالف بالی ووڈ فلم ’بارڈر 2‘ پر جاوید اختر کی شدید تنقید
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
پاکستان کی مخالفت میں اندھا بالی ووڈ نیا مواد تخلیق کرنے کی صلاحیت کھو بیٹھا، پرانی فلموں اور گانوں پر ہی اکتفا کرنے پر اپنے ہی لوگ تنقید کرنے لگے۔
حال ہی میں بالی ووڈ کے مشہور نغمہ نگار اور شاعر جاوید اختر نے پاکستان مخالف فلم ’بارڈر 2‘ بنانے والوں پر سخت تنقید کی ہے۔
بھارتی میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں جاوید اختر نے کہا کہ جب اصل گانے غیر معمولی کامیابی حاصل کر چکے ہوں تو انہیں نئے انداز میں پیش کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔
ان کے مطابق فلم سازوں کو یا تو نئے اور معیاری نغمات تخلیق کرنے چاہئیں یا یہ تسلیم کرلینا چاہیے کہ وہ ماضی جیسا معیار برقرار نہیں رکھ سکتے۔
انہوں نے واضح کیا کہ اسی سوچ کے تحت انہوں نے ’بارڈر 2‘ کے لیے لکھنے سے انکار کیا۔
سر پر ٹوپی، ہاتھ میں تسبیح، جاوید اختر اپنی ہی وائرل ویڈیو پر برہم
پردے کا سخت مخالف ہوں، جاوید اختر کا نقاب کھینچنے کے معاملے پر ردعمل سامنے آگیا
یاد رہے کہ 1997 میں ریلیز ہونے والی فلم بارڈر کے گیت جاوید اختر ہی نے تحریر کیے تھے، اسی وجہ سے سیکوئل کے لیے بھی ان سے رابطہ کیا گیا، تاہم انہوں نے اس پیشکش کو مسترد کر دیا۔
جاوید اختر کا کہنا ہے کہ پرانے گیتوں کو دوبارہ استعمال کرنا تخلیقی دیوالیہ پن کے مترادف ہے۔
جاوید اختر نے فلموں میں گانوں کو ری میک کرنے کے بڑھتے ہوئے رجحان پر بھی سوال اٹھایا اور کہا کہ جو ماضی کا حصہ بن چکا ہے، اسے وہیں رہنے دینا چاہیے۔
ان کے مطابق نئی فلمیں بن رہی ہیں تو موسیقی بھی نئی ہونی چاہیے، نہ کہ ماضی کی کامیابیوں پر انحصار کیا جائے۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل جاوید اختر
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔