ڈیٹا سینٹرز میں بجلی کی بے تحاشا کھپت، اوپن اے آئی نے حل ڈھوںڈ لیا
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
اوپن اے آئی نے اسٹار گیٹ کمیونٹی منصوبہ پیش کیا ہے جس کا مقصد کمیونٹی مرکزیت والے اے آئی انفراسٹرکچر کو بڑھانا اور ڈیٹا سینٹرز کی توانائی کے اخراجات میں کمی لانا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ڈیجیٹل پاکستان کی جانب اہم قدم: بٹ کوائن مائننگ و اے آئی ڈیٹا سینٹرز کے لیے 2 ہزار میگاواٹ بجلی مختص
یہ منصوبہ جنوری 2025 میں پہلی بار اعلان کیا گیا تھا اور اس کی مالیت 500 ارب ڈالر ہے۔ یہ ایک کثیر سالہ منصوبہ ہے جس میں تربیت اور نتیجہ سازی کے لیے ڈیٹا سینٹرز قائم کیے جائیں گے اور اس کی حمایت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور کمپنی اوریکل کر رہی ہے۔
اوپن اے آئی کے مطابق بڑھتی ہوئی توانائی کی لاگت ڈیٹا سینٹرز کی تیزی سے بڑھتی ہوئی ترقی میں ایک اہم رکاوٹ بن چکی ہے۔
توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کمپنی نے ایک مقامی کمیونٹی پر مبنی منصوبہ پیش کیا ہے جو کمیونٹی کی رائے اور مقامی خدشات پر مبنی ہے۔
اوپن اے آئی کا کہنا ہے کہ مقام کے حساب سے، منصوبہ نئے پاور اور اسٹوریج وسائل فراہم کرنے سے لے کر توانائی پیدا کرنے اور ٹرانسمیشن وسائل کے اخراجات پورے کرنے تک ہو سکتا ہے جسے منصوبہ مکمل طور پر فنڈ کرے گا۔
منصوبے کے لیے اضافی توانائی کی پیداوار، اسٹوریج اور گرڈ کی اپگریڈنگ کو مکمل فنڈ کرنا۔
مزید پڑھیے: مصنوعی ذہانت کے نئے قلعے: ہزاروں ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر جاری، لاگت کتنی؟
کیمپس کو لچکدار لوڈز کے طور پر چلانا تاکہ زیادہ طلب کے دوران توانائی کی کھپت کم کی جا سکے اور گرڈ کی استحکام برقرار رہے۔
مقامی کمیونٹی، یوٹیلٹی ریگولیٹرز اور ٹرانسمیشن فراہم کنندگان کے ساتھ شفاف اور پیشگی تعاون۔
مزید پڑھیں: کیا بڑے سائز کے ڈیٹا سینٹرز کا دور ختم ہونے والا ہے؟
اوپن اے آئی کا یہ اعلان اسی ہفتے مائیکروسافٹ کے اسی طرح کے منصوبے کے بعد سامنے آیا ہے جس میں امریکی ڈیٹا سینٹرز میں پانی کے استعمال کو کم کرنے اور مقامی کمیونٹی پر اثرات کو محدود کرنے کے اقدامات بھی شامل ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اوپن اے آئی اے آئی اے آئی ڈیٹا سینٹرز اے آئی ڈیٹا سینٹرز میں بجلی کی کھپت مصنوعی ذہانت.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اوپن اے ا ئی اے ا ئی اے ا ئی ڈیٹا سینٹرز مصنوعی ذہانت ڈیٹا سینٹرز اوپن اے آئی توانائی کی اے ا ئی کے لیے
پڑھیں:
بجلی صارفین کے لیے ایک اور جھٹکا، فی یونٹ نرخ بڑھنے کا امکان
اسلام آباد: بجلی کی قیمت میں اضافہ ایک بار پھر زیر غور آ گیا ہے، کیونکہ اپریل 2026 کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست نیپرا میں جمع کرا دی گئی ہے۔
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) میں ہونے والی سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے دوران خطے میں جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے باعث توانائی کے شعبے کو متعدد چیلنجز کا سامنا رہا، جس کے اثرات بجلی کی پیداوار پر بھی مرتب ہوئے۔
سی پی پی اے کے مطابق اپریل میں درآمدی ایل این جی کی دستیابی نہ ہونے کے برابر تھی، تاہم مئی کے آغاز میں ایل این جی کے معاہدہ شدہ اور اسپاٹ کارگوز موصول ہونے کے بعد ایل این جی سے چلنے والے بجلی گھروں کو دوبارہ فعال کیا گیا، جس سے نظام میں بہتری آئی۔
حکام نے نیپرا کو آگاہ کیا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تقریباً تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ آئندہ دو ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر منصوبہ بندی مکمل کر لی گئی ہے تاکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
سی پی پی اے حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ بجلی کی قیمت میں اضافہ تجویز کیا گیا ہے، تاہم مئی، جون اور جولائی کی فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو بڑے اضافی بوجھ کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ضروری انتظامات اور ایندھن کی دستیابی کو یقینی بنایا جا چکا ہے۔
اب نیپرا درخواست پر تمام فریقین کا مؤقف سننے کے بعد حتمی فیصلہ جاری کرے گا، جس کے بعد یہ طے ہوگا کہ صارفین کو بجلی کے بلوں میں کتنا اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑے گا۔