اوپن اے آئی نے اسٹار گیٹ کمیونٹی منصوبہ پیش کیا ہے جس کا مقصد کمیونٹی مرکزیت والے اے آئی انفراسٹرکچر کو بڑھانا اور ڈیٹا سینٹرز کی توانائی کے اخراجات میں کمی لانا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ڈیجیٹل پاکستان کی جانب اہم قدم: بٹ کوائن مائننگ و اے آئی ڈیٹا سینٹرز کے لیے 2 ہزار میگاواٹ بجلی مختص

یہ منصوبہ جنوری 2025 میں پہلی بار اعلان کیا گیا تھا اور اس کی مالیت 500 ارب ڈالر ہے۔ یہ ایک کثیر سالہ منصوبہ ہے جس میں تربیت اور  نتیجہ سازی کے لیے ڈیٹا سینٹرز قائم کیے جائیں گے اور اس کی حمایت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور کمپنی اوریکل کر رہی ہے۔

اوپن اے آئی کے مطابق بڑھتی ہوئی توانائی کی لاگت ڈیٹا سینٹرز کی تیزی سے بڑھتی ہوئی ترقی میں ایک اہم رکاوٹ بن چکی ہے۔

توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کمپنی نے ایک مقامی کمیونٹی پر مبنی منصوبہ پیش کیا ہے جو کمیونٹی کی رائے اور مقامی خدشات پر مبنی ہے۔

اوپن اے آئی کا کہنا ہے کہ مقام کے حساب سے، منصوبہ نئے پاور اور اسٹوریج وسائل فراہم کرنے سے لے کر توانائی پیدا کرنے اور ٹرانسمیشن وسائل کے اخراجات پورے کرنے تک ہو سکتا ہے جسے منصوبہ مکمل طور پر فنڈ کرے گا۔

منصوبے کے اہم نکات

منصوبے کے لیے اضافی توانائی کی پیداوار، اسٹوریج اور گرڈ کی اپگریڈنگ کو مکمل فنڈ کرنا۔

مزید پڑھیے: مصنوعی ذہانت کے نئے قلعے: ہزاروں ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر جاری، لاگت کتنی؟

کیمپس کو لچکدار لوڈز کے طور پر چلانا تاکہ زیادہ طلب کے دوران توانائی کی کھپت کم کی جا سکے اور گرڈ کی استحکام برقرار رہے۔

مقامی کمیونٹی، یوٹیلٹی ریگولیٹرز اور ٹرانسمیشن فراہم کنندگان کے ساتھ شفاف اور پیشگی تعاون۔

مزید پڑھیں: کیا بڑے سائز کے ڈیٹا سینٹرز کا دور ختم ہونے والا ہے؟

اوپن اے آئی کا یہ اعلان اسی ہفتے مائیکروسافٹ کے اسی طرح کے منصوبے کے بعد سامنے آیا ہے جس میں امریکی ڈیٹا سینٹرز میں پانی کے استعمال کو کم کرنے اور مقامی کمیونٹی پر اثرات کو محدود کرنے کے اقدامات بھی شامل ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اوپن اے آئی اے آئی اے آئی ڈیٹا سینٹرز اے آئی ڈیٹا سینٹرز میں بجلی کی کھپت مصنوعی ذہانت.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اوپن اے ا ئی اے ا ئی اے ا ئی ڈیٹا سینٹرز مصنوعی ذہانت ڈیٹا سینٹرز اوپن اے آئی توانائی کی اے ا ئی کے لیے

پڑھیں:

حکومت کا مسلسل تین دنوں میں پیٹرولیم مصنوعات مہنگی کرنے کا نیا ریکارڈ

سٹی 42: حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں اضافہ کردیا

 حکومت کی جانب سے پیٹرول4روپے 40پیسے مہنگا کردیاگیاجبکہ ڈیزل کی قیمت میں 3روپے 62پیسےا ضافہ کیا گیا ہے۔

 پیٹرول کی نئی قیمت 331روپے 52پیسے ہوگئی،ڈیزل کی نئی قیمت 378روپے 66پیسے مقرر کردی۔ 

واضح رہے  پیٹرولیم  مصنوعات کی قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پرتعین کیا جارہا ہے ۔ 

پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • حکومت کا مسلسل تین دنوں میں پیٹرولیم مصنوعات مہنگی کرنے کا نیا ریکارڈ
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • ایلون مسک نے ’اوڈیسی‘ کا اے آئی ورژن اسی سال پیش کرنے کا اعلان کردیا
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران