این ڈی ایم اے کے الرٹ کے مطابق صوبہ خیبر پختونخوا کے بالائی علاقوں سوات، چترال، بنیر، شانگلہ، لوئر اور اپر دیر، مالاکنڈ، باجوڑ، مردان، صوابی، ایبٹ آباد، مانسہرہ، بٹگرام، تورغر، ہری پور، کولائی پاس کوہستان اور آزاد کشمیر میں موسلادھار بارش اور برفباری سے فلیش فلڈ کا خطرہ ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ملک کے بالائی علاقوں کو 21 سے 24 جنوری کے دوران ایک طاقتور مغربی لہر متاثر کرے گی جس کے سبب دریائے کابل سے منسلک ندی نالوں میں بہاؤ بڑھ سکتا ہے۔ این ڈی ایم اے کے الرٹ کے مطابق صوبہ خیبر پختونخوا کے بالائی علاقوں سوات، چترال، بنیر، شانگلہ، لوئر اور اپر دیر، مالاکنڈ، باجوڑ، مردان، صوابی، ایبٹ آباد، مانسہرہ، بٹگرام، تورغر، ہری پور، کولائی پاس کوہستان اور آزاد کشمیر میں موسلادھار بارش اور برفباری سے فلیش فلڈ کا خطرہ ہے۔ این ڈی ایم اے نے کے پی اور ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ رہنے اور حساس مقامات کی نگرانی کی ہدایت کی ہے۔ گزشتہ روز خیبر پختونخوا کے چترال، کالام، مالم جبہ، پٹن کوہستان اور دیر میں بارش اور پہاڑوں پر برفباری ریکارڈ ہوئی۔ بارش و برفباری سے کالام، مالم جبہ اور پاراچنار میں درجہ حرارت منفی 4 ریکارڈ کیا گیا۔

دیر بالا کا درجہ حرارت صفر، چترال کا 1 اور پشاور میں 5 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا، گزشتہ روز کالام میں سب سے زیادہ برفباری ہوئی۔ چترال کالاش ویلیز، لواری ٹنل، مڈک لشٹ، گرم چشمہ سمیت لوئر چترال کے کئی مقامات میں برفباری ہوئی۔ لواری ٹنل کے علاقے میں پانچ انچ برف ریکارڈ ہوئی۔ چترال کالاش ویلی بمبوریت میں 3 انچ، مڈک لشٹ میں چار انچ اور بگوشٹ میں پانچ انچ برف پڑی۔ اپر چترال میں شندور، لاسپور اور یارخون میں برفباری ہوئی۔ لواری ٹنل روڈ پر ٹریفک حسب معمول جاری ہے، انتظامیہ نے سنو چین کے استعمال کی ہدایت کر دی۔

دوری جانب، پی ڈی ایم اے پنجاب کے مطابق مری، گلیات اور قرب و جوار میں شدید بارش و برفباری کی پیشگوئی ہے، 23 جنوری تک مری اور گردونواح میں برفباری کے امکانات ہیں۔ ڈی جی پی ڈی ایم اے کے مطابق مری میں سیاحوں کی سہولیات کے لیے 13 فسیلیٹیشن سینٹرز قائم کیے گئے ہیں، سیاحوں سے گزارش ہے کہ سفر سے پہلے موسم کی صورتحال کا جائزہ لیں۔ ریلیف کمشنر پنجاب نبیل جاوید نے متعلقہ اداروں کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایات کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی ناگہانی آفت سے بچنے کے لئے انتظامیہ 24 گھنٹے الرٹ رہے، ضلعی انتظامیہ سیاحوں کی رہنمائی اور تحفظ کے لئے موجود رہے گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: خیبر پختونخوا ڈی ایم اے کے مطابق بارش اور

پڑھیں:

مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ

مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز

سری نگر(آئی پی ایس )مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق رپورٹ کے مطابق جنوری 1989 سے جولائی 2026 تک 96 ہزار 499 افراد شہید جبکہ ایک لاکھ 84 ہزار 149 سے زائد افراد گرفتار کیے جا چکے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اس عرصے میں ایک لاکھ 10 ہزار 605 سے زائد مکانات اور دیگر املاک کو نقصان پہنچایا گیا.اس عرصے میں 22 ہزار 992 خواتین بیوہ اور ایک لاکھ 8 ہزار 9 بچے یتیم ہوئے۔ جولائی 2026 میں بھارتی فورسز کے بڑے پیمانے پر کریک ڈان کے دوران 3 ہزار سے زائد کشمیریوں کو گرفتار کیا گیا اور متعدد مکانات مسمار کیے گئے۔

کشمیر میڈیا سروس کی رپورٹ کے مطابق جولائی 2026 میں بھارتی فوج، پولیس اور دیگر سیکیورٹی اداروں نے مقبوضہ جموں و کشمیر کے مختلف علاقوں میں سرچ اور محاصرے کی کارروائیاں تیز کر دیں۔ کلگام، پلوامہ، شوپیاں، اسلام آباد (اننت ناگ)، سرینگر، گاندربل، بارہمولہ، بڈگام، کپواڑہ، بانڈی پورہ، اونتی پورہ اور ہندواڑہ سمیت کئی علاقوں میں گھروں پر چھاپے مارے گئے۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ان کارروائیوں کے دوران 3 ہزار سے زائد کشمیری نوجوانوں کو حراست میں لیا گیا، جبکہ شہریوں کو سخت تلاشی، نگرانی اور نقل و حرکت کی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ بھارتی حکام کے مطابق سرچ آپریشنز کے دوران ہزاروں افراد کو حراست میں لیا گیا اور مزید کارروائیاں جاری رہیں گی۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ جولائی میں ضلع اسلام آباد (اننت ناگ) میں بھارتی پولیس اہلکار کی ہلاکت کے بعد وادی بھر میں کریک ڈان مزید تیز کیا گیا۔ اس دوران بھارتی انتظامیہ نے بیج بہاڑہ میں عادل ٹھوکر اور حسن پورہ میں ہارون گنائی کے مکانات بھی مسمار کردیے۔

اعداد و شمار کے مطابق جنوری 1989 سے جولائی 2026 تک مقبوضہ کشمیر میں مجموعی طور پر 96 ہزار 499 افراد شہید ہوئے، جن میں 7 ہزار 419 مبینہ حراستی یا جعلی مقابلوں میں شہادتیں شامل ہیں۔ اس دوران ایک لاکھ 84 ہزار 149 سے زائد افراد گرفتار کیے گئے، جبکہ ایک لاکھ 10 ہزار 605 سے زائد مکانات اور دیگر املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔

رپورٹ کے مطابق اس عرصے میں 22 ہزار 992 خواتین بیوہ، ایک لاکھ 8 ہزار 9 بچے یتیم اور 11 ہزار 278 خواتین مبینہ طور پر زیادتی یا اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنیں۔ رپورٹ کے مطابق 5 اگست 2019 سے جولائی 2026 تک ایک ہزار 66 افراد شہید ہوئے، جن میں 295 مبینہ حراستی شہادتیں یا جعلی مقابلے شامل ہیں۔ اس عرصے میں 2 ہزار 702 افراد تشدد یا شدید زخمی ہوئے، 37 ہزار 210 سے زائد گرفتاریاں ہوئیں، جبکہ ایک ہزار 211 سے زائد مکانات، دکانوں اور دیگر املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔ اس دوران 84 خواتین بیوہ، 234 بچے یتیم اور 148 خواتین مبینہ طور پر زیادتی یا اجتماعی زیادتی کا شکار ہوئیں۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookX پچھلی خبرلاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی اگلی خبرجدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2026, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

متعلقہ مضامین

  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن