خیبر پختونخوا اور آزاد کشمیر میں بارش اور برفباری سے فلیش فلڈ کا خطرہ
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
ملک کے بالائی علاقوں کو 21 سے 24 جنوری کے دوران ایک طاقتور مغربی لہر متاثر کرے گی جس کے سبب دریائے کابل سے منسلک ندی نالوں میں بہاؤ بڑھ سکتا ہے۔
این ڈی ایم اے کے الرٹ کے مطابق صوبہ خیبر پختونخوا کے بالائی علاقوں سوات، چترال، بنیر، شانگلہ، لوئر اور اپر دیر، مالاکنڈ، باجوڑ، مردان، صوابی، ایبٹ آباد، مانسہرہ، بٹگرام، تورغر، ہری پور، کولائی پاس کوہستان اور آزاد کشمیر میں موسلادھار بارش اور برفباری سے فلیش فلڈ کا خطرہ ہے۔
این ڈی ایم اے نے کے پی اور ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ رہنے اور حساس مقامات کی نگرانی کی ہدایت کی ہے۔
گزشتہ روز خیبر پختونخوا کے چترال، کالام، مالم جبہ، پٹن کوہستان اور دیر میں بارش اور پہاڑوں پر برفباری ریکارڈ ہوئی۔ بارش و برفباری سے کالام، مالم جبہ اور پاراچنار میں درجہ حرارت منفی 4 ریکارڈ کیا گیا۔
دیر بالا کا درجہ حرارت صفر، چترال کا 1 اور پشاور میں 5 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا، گزشتہ روز کالام میں سب سے زیادہ برفباری ہوئی۔
دوری جانب، پی ڈٰی ایم اے پنجاب کے مطابق مری، گلیات اور قرب و جوار میں شدید بارش و برفباری کی پیشگوئی ہے، 23 جنوری تک مری اور گردونواح میں برفباری کے امکانات ہیں۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے کے مطابق مری میں سیاحوں کی سہولیات کے لیے 13 فسیلیٹیشن سینٹرز قائم کیے گئے ہیں، سیاحوں سے گزارش ہے کہ سفر سے پہلے موسم کی صورتحال کا جائزہ لیں۔
ریلیف کمشنر پنجاب نبیل جاوید نے متعلقہ اداروں کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایات کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی ناگہانی آفت سے بچنے کے لئے انتظامیہ 24 گھنٹے الرٹ رہے، ضلعی انتظامیہ سیاحوں کی رہنمائی اور تحفظ کے لئے موجود رہے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ایم اے
پڑھیں:
مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ
ایک نئی سائنسی تحقیق میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال یادداشت اور ذہنی صلاحیتوں میں تیزی سے آنے والی کمی سے تعلق رکھ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ اجزا چینی کے متبادل کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں، تاہم ان کے طویل المدتی اثرات دماغی صحت کے لیے تشویش کا باعث بن سکتے ہیں۔
یہ تحقیق امریکن اکیڈمی آف نیورولوجی کے جریدے نیورولوجی میں شائع ہوئی، جس میں تقریباً 13 ہزار بالغ افراد کی آٹھ برس تک نگرانی کی گئی۔ تحقیق کے دوران کم یا بغیر کیلوریز والی مٹھاس کے سات عام اجزا کا جائزہ لیا گیا، جن میں ایسپارٹیم، سیکرین، ایسی سلفیم کے، اریتھریٹول، زائیلیٹول، سوربیٹول اور ٹیگاٹوز شامل تھے۔
تحقیقی نتائج کے مطابق وہ افراد جو روزانہ اوسطاً 191 ملی گرام مصنوعی مٹھاس استعمال کرتے تھے، جو تقریباً ایک کین ڈائٹ سوڈا میں موجود ایسپارٹیم کے برابر مقدار ہے، ان میں کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں یادداشت اور ذہنی کارکردگی میں کمی کی رفتار 62 فیصد زیادہ دیکھی گئی۔
اسی طرح درمیانی مقدار میں مصنوعی مٹھاس استعمال کرنے والے افراد میں بھی ذہنی صلاحیتوں میں کمی کا خطرہ نمایاں رہا، جہاں یہ شرح کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں 35 فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئی۔
محققین کے مطابق یہ تعلق 60 سال سے کم عمر افراد اور ذیابیطس کے مریضوں میں زیادہ نمایاں دیکھا گیا، کیونکہ یہ افراد عام چینی کے بجائے مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال کرتے ہیں۔
تحقیق میں شامل سات میٹھے اجزا میں سے صرف ٹیگاٹوز ایسا جز تھا جس کا ذہنی صلاحیتوں میں تیز رفتار کمی سے واضح تعلق سامنے نہیں آیا، جبکہ باقی چھ اجزا اس خطرے سے منسلک پائے گئے۔
تحقیق کی مرکزی مصنفہ، یونیورسٹی آف ساؤ پالو سے وابستہ ڈاکٹر کلاڈیا کیمی سوئیموتو نے کہا کہ مصنوعی مٹھاس کو عموماً صحت مند متبادل سمجھا جاتا ہے، لیکن تحقیق کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بعض مصنوعی میٹھے اجزا طویل عرصے تک استعمال کیے جانے کی صورت میں دماغی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
یہ مصنوعی مٹھاس عام طور پر ڈائٹ سوڈا، فلیورڈ واٹر، انرجی ڈرنکس، دہی اور دیگر کم کیلوریز والی پراسیسڈ غذاؤں میں استعمال کی جاتی ہے۔
تاہم محققین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ ایک مشاہداتی تحقیق ہے، اس لیے اس سے یہ حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ مصنوعی مٹھاس ہی براہِ راست یادداشت میں کمی کی وجہ بنتی ہے۔ ان کے مطابق ان نتائج کی مزید تصدیق اور مختلف متبادل میٹھے اجزا کے اثرات جانچنے کے لیے مزید سائنسی تحقیق کی ضرورت ہے۔