وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ 18ویں آئینی ترمیم کے وقت سب سے نمایاں بات اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کرنے کا وعدہ تھا، تاہم یہ واضح نہیں کہ یہ اختیارات عملی طور پر کہاں منتقل ہوئے۔

نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے سوال اٹھایا کہ آخر کن شعبوں یا اداروں میں اختیارات کی حقیقی منتقلی کی گئی ہے۔

مزید پڑھیں: 18ویں ترمیم کے خلاف خواجہ آصف کا بیان، پیپلزپارٹی کا ن لیگ سے احتجاج، وضاحت مانگ لی

قبل ازیں قومی اسمبلی میں 18ویں آئینی ترمیم سے متعلق خواجہ آصف کی گفتگو پر پیپلز پارٹی نے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے وضاحت مانگ لی تھی۔

قومی اسمبلی کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے رہنما نوید قمر کا کہنا تھا کہ خواجہ آصف نے سانحہ گل پلازہ پر بات کرتے ہوئے اچانک 18ویں ترمیم کو موضوع بنا دیا، اور چونکہ وہ مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی لیڈر ہیں، اس لیے ان کے بیان کو حکومتی مؤقف تصور کیا جائے گا۔

خواجہ آصف کے بیان کوحکومتی پالیسی سمجھیں گے ،آگ سے کھیلنا بند کردیں ،آپ کوپتہ نہیں فیڈرلزم کیا ہے ،بلوچستان کوایسے نہیں چلا سکتے جیسا چلا رہے ہیں،ہم سب پاکستانی ہیں اور اس کومضبوط دیکھنا چاہتے ہیں،تاریخ سے آنکھیں بند نہ کی جائیں،نوید قمر کا قومی اسمبلی میں ردعمل pic.

twitter.com/yXd3pMOkAK

— Tayyab Khan (@TayyabKhanARY) January 21, 2026

نوید قمر نے مزید کہاکہ ماضی میں ملک پر متعدد تجربات آزمائے گئے جن کے نتائج ہمیشہ نقصان دہ نکلے، یہاں تک کہ ہر تجربے کے بعد ملک مزید کمزور ہوا۔ انہوں نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیاکہ اب مزید تجربات سے گریز کیا جائے۔

نوید قمر نے کہاکہ خواجہ آصف کے بیان کو حکومتی پالیسی سمجھا جائے گا۔ آگ سے کھیلنا بند کیا جائے۔ انہوں نے واضح کیاکہ آپ کو فیڈرلزم کا صحیح مفہوم معلوم نہیں ہے۔

پی پی رہنما نے کہاکہ بلوچستان کو اس انداز میں نہیں چلایا جا سکتا جیسے چلایا جا رہا ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ ہم سب پاکستانی ہیں اور ملک کو مضبوط دیکھنا چاہتے ہیں، تاریخ سے نظریں نہ چرائی جائیں۔

دوسری جانب وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے خواجہ آصف کے بیان سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے اسے ذاتی رائے قرار دے دیا۔

مزید پڑھیں: 28ویں ترمیم میں لوکل گورنمنٹ کو بااختیار بنانے کی تجویز تھی، مگر اتفاق ہونے کے باوجود اس سے پیچھے ہٹنا پڑا، خواجہ آصف

ان کا کہنا تھا کہ ہر فرد کی اپنی سوچ اور رائے ہوتی ہے، تاہم حکومتی فیصلے ہمیشہ پارلیمنٹ کی مشاورت اور منظوری سے ہی کیے جاتے ہیں۔

18ویں ترمیم سے متعلق یہ بحث اس وقت ہوئی جب کراچی کے گل پلازہ میں ہونے والی خوفناک آتشزدگی کے دوران درجنوں افراد موت کے منہ میں چلے گئے، تاہم انہیں بچانے کے لیے کوئی مؤثر اقدامات سامنے نہیں آئے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews آئینی ترمیم اختیارات کی منتقلی خواجہ آصف وزیر دفاع وی نیوز

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اختیارات کی منتقلی خواجہ ا صف وزیر دفاع وی نیوز 18ویں ترمیم خواجہ ا صف خواجہ آصف کرتے ہوئے نوید قمر

پڑھیں:

میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ

سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت یا اے آئی پر مبنی چیٹ بوٹس کے خلاف ایک نئے قسم کے سائبر حملے سامنے آئے ہیں جن کے ذریعے ہیکرز سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ذاتی معلومات تک غیر مجاز رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: دنیا بھر کی اہم شخصیات کے انسٹاگرام اکاؤنٹس ہیک ہونے کا انکشاف، میٹا نے سب بتادیا

ماہرین کے مطابق جدید بڑی زبان کے ماڈلز(ایل ایل ایمز) جن میں میٹا اے آئی سمیت دیگر اے آئی چیٹ بوٹس شامل ہیں کو ایک تکنیک پرومپٹ انجیکشن‘ کے ذریعے دھوکا دیا جا سکتا ہے۔ اس طریقے میں حملہ آور چیٹ بوٹس کے حفاظتی نظام کو بائی پاس کرتے ہوئے انہیں ایسے احکامات پر عمل کرنے پر آمادہ کرتے ہیں جو عام حالات میں ممکن نہیں ہوتے۔

سائبر سیکیورٹی ماہر بروس شنائر کے مطابق ہیکرز اس مقصد کے لیے ’پرولیج ایسکلیشن‘ نامی حکمت عملی استعمال کرتے ہیں جس کے تحت اے آئی ماڈل کو ایسی فرضی شخصیت اختیار کرنے پر قائل کیا جاتا ہے جو حفاظتی قواعد کو نظر انداز کر دے یوں چیٹ بوٹ کی محدود صلاحیتیں وسیع ہو جاتی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق حملہ آور یہ خفیہ ہدایات بظاہر بے ضرر مواد، جیسے ای میلز، ویب سائٹس یا آن لائن پیغامات میں شامل کرتے ہیں۔ اگر چیٹ بوٹ ان ہدایات کو قبول کر لے تو ہیکرز کو صارف کے منسلک اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل سروسز تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔

مزید پڑھیے: اوپن اے آئی نے ’سورا‘ ایپ لانچنگ کے چند ماہ بعد ہی اچانک کیوں بند کردی؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک بار چیٹ بوٹ کے متاثر ہونے کے بعد اسے ذاتی معلومات چرانے، حساس ڈیٹا باہر منتقل کرنے یا صارف کے اکاؤنٹس تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے جیسے اقدامات کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خطرہ اس وقت مزید بڑھ جاتا ہے جب صارفین اے آئی ٹولز کو اپنی ای میل، کیلنڈر یا دیگر ذاتی سروسز تک رسائی دے دیتے ہیں کیونکہ اس سے حملہ آوروں کے لیے نقصان دہ سرگرمیوں کے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں: ’کوئی پڑھے نہ پڑھے اے آئی تو پڑھے گی‘: قدیم زمانوں کے محبت نامے، خفیہ تحریریں آشکار

ماہرین کے مطابق ہیکرز کا حتمی مقصد مالی فراڈ، شناختی معلومات کی چوری اور دیگر نقصان دہ سرگرمیوں کو انجام دینا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کی اپنی استدلالی صلاحیتیں بھی صارفین کے خلاف استعمال کی جا سکتی ہیں جس سے روایتی سائبر سیکیورٹی اقدامات کو مؤثر بنانا مزید مشکل ہو جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اے آئی مصنوعی ذہانت ہیکنگ

متعلقہ مضامین

  • دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • میرب علی سرجری کے بعد اسپتال منتقل، مداحوں سے صحت یابی کی دعاؤں کی اپیل
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • گلگت بلتستان کو بھی آئینی وبنیادی حقوق ملنے چاہئیں ، سعد رفیق
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • پنجاب میں انسداد ڈینگی کارروائیوں کیلئے افسران کو فوری متحرک ہونے کی ہدایت
  • لاہور میں وین ڈرائیور سے بدتمیزی ٹریفک وارڈن کو مہنگی پڑ گئی