Express News:
2026-07-24@03:05:49 GMT

فٹ پاتھ کا نوحہ، معاشی جبر نے مسیحائی چھین لی

اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT

 شدید سردی کی حالیہ لہر نے ایک بار پھر ہمارے سماجی نظام کی بے حسی کو بے نقاب کردیا ہے۔ فٹ پاتھوں پر زندگی گزارنے والے بے گھر افراد جو پہلے ہی غربت اور محرومی کے اندھیروں میں سانس لے رہے تھے، اب سردی کی سنگین شدت کے سامنے بے بس دکھائی دیتے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق ماہ جنوری کے غالباً 17 یوم میں سرد موسم کے باعث کم ازکم آٹھ افراد جان کی بازی ہارگئے جب کہ متعدد دیگر زندگی اور موت کے درمیان کی حالت میں ٹھٹھرتے ہوئے زندگی بسر کر رہے ہیں۔ آٹھ افراد کی اموات موسمی حادثہ نہیں، اجتماعی غفلت کا نتیجہ ہے۔ ایسے افراد جو چھت،کمبل، چادر و دیگر بنیادی ضرورتوں سے محروم ہوں، ان کے لیے سرد راتیں، کسی آزمائش سے کم نہیں ہوتیں۔ سوال یہ ہے کہ شہری ترقی کے باوجود فٹ پاتھ اب بھی قبروں میں کیوں تبدیل ہو رہے ہیں۔

رہائشی اداروں اور سماجی تنظیموں کی ذمے داری ہے کہ وہ سرد موسم میں ہنگامی بنیادوں پر پناہ گاہوں،گرم لباس،کمبل اور دیگر طبی سہولتوں کی فراہمی کو یقینی بنائیں۔ یہ صرف فلاحی اقدام نہیں بلکہ انسانی وقارکا تقاضا ہے۔ اگر اب بھی اس مسئلے کو نظراندازکیا گیا تو یہ خاموش اموات ہمارا اجتماعی ضمیر مزید مجروح کرتی رہیں گی۔

مردوں کے علاوہ پاکستان بھر میں نامعلوم کتنی خواتین، کتنے بچے بچیاں سردی میں ٹھٹھر کر انھی فٹ پاتھوں، پلوں کے نیچے یا کھلے آسمان تلے زندگی بسر کرتے ہیں اور خواتین کے لیے یہ فٹ پاتھ کبھی بھی محفوظ نہیں رہے کیونکہ رات کا اندھیرا، ہر سُو پھیلا ہوا خوف کا راج انھیں سونے نہیں دیتا اور ان کے لیے نیند کا مطلب کوئی ناخوشگوار حادثے کو دعوت دینا ہے اور پھر جب ایسے لوگ حکومتی شیلٹرز تک پہنچتے ہیں تو طرح طرح کے سوالات اور شناختی کارڈ کے نہ ہونے پر دوبارہ ان کو بے یار و مددگار سڑکوں کی طرف بھیج دیا جاتا ہے۔

اب تو یہ حالت ہو گئی ہے کہ اس سال کمبل اور گرم کپڑے بانٹنے والے ہاتھوں کو مہنگائی کے جبر نے روک رکھا ہے، پہلے متوسط طبقے کے لوگ ہی اس بات کا احساس کرتے ہوئے گرم کپڑے، رضائیاں، کمبل اور دیگر اشیا تقسیم کرتے تھے۔ ایسے حالات میں اشرافیہ قدم آگے بڑھائے، اگر انھوں نے ان یخ بستہ راتوں میں سردی سے ٹھٹھرتے ہوئے افراد کی کپکپی، بچوں اور بچیوں کی سسکیوں، بوڑھے افراد کے بڑھاپے کا خیال نہ کیا تو تاریخ انھیں معاف نہیں کرے گی،کیونکہ حالیہ برسوں میں ان کی تعداد میں اضافہ ہی ہو رہا ہے۔

اس سلسلے میں شہر کے ایک ریسکیو ادارے کے ٹرسٹی نے بتایا کہ شہر میں بے گھر افراد کی تعداد میں حالیہ برسوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ تاہم ان کا منظم ڈیٹا نہیں۔ ریاست کو اس بارے میں فوری اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے ان کو شمار میں لایا جائے اور بغیر کسی شرط و پابندی کے ان کو ملک بھر میں جگہ جگہ آرام دہ شیلٹرز بنا کر دیے جائیں۔جب میں یہ رپورٹ پڑھ رہا تھا کہ رواں ماہ سردی کی تاب نہ لاتے ہوئے 8 افراد کی لاشیں ملی ہیں تو سوال یہ اٹھتا ہے کہ ہماری معاشی پالیسیاں صرف اعداد و شمار کے لیے ہیں یا انسانوں کے لیے۔

لاہور کے لاری اڈے ہوں یا پنڈی کا ’’پیر ودھائی‘‘ پورے پاکستان میں بے گھر افراد موجود ہیں۔ بے گھر افراد میں حالیہ اضافے کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ شہری منصوبہ بندی میں غریب طبقے کو نظرانداز کر دیا گیا ہے اور حکومت کے وہ لوگ بھی خوب ہیں جنھوںنے پناہ گاہیں شہر کے مضافات میں بنائی ہیں جب کہ بے گھر لوگ اپنی گزر اوقات کے لیے شہر میں رہنا پسند کرتے ہیں۔

حکومت ملک کے بڑے بڑے شہروں کے اندر چاہے کرائے کی جگہ ہو، وہاں ایسے مراکز جابجا قائم کرے اور بغیر کسی شرط کے شناخت کے داخل کرے صرف اور صرف انسانیت کے نام پر، ورنہ پھر اسی طرح ملک بھر سے لاشیں ملتی رہیں گی۔ شاید حکومت غافل تو نہیں لیکن اس بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ مدد کا حق دارکون ہے اورکہاں ہے؟ اور ہم تک کیسے پہنچ سکتا ہے؟ کہا جاتا ہے کہ ان پناہ گاہوں کے کچھ رولز ہیں کچھ پابندیاں ہیں، اس لیے متاثرہ شخص یا عورت وہاں رجوع نہیں کرتے۔

اگر حکومت نے انسانیت کے نام پر پناہ دینی ہے تو پھر کیسے قواعد و قانون۔ جب ایک حق دار مرد، عورت، بچے، بچیاں، بوڑھا مرد، بوڑھی عورت آپ تک حکومتی ادارے تک پہنچ گیا تو اب اس سے کچھ سوال جواب نہ کریں اور اب وہ آپ کا مہمان بن گیا ہے۔ تین دن تک اس کی مہمان نوازی کریں کیونکہ اسلام بھی یہی تعلیم دیتا ہے۔ مہمان کی تین دن تک خوب مہمان نوازی کی جاتی ہے لہٰذا تین دن بعد پوچھنا چاہیے کہ آپ کون ہیں، کہاں سے آئے ہیں؟ یقینی طور پر تین دن کے بعد وہ ادارے کے ذمے داروں کو اپنی کہانی سنا دے گا۔

اس کے بعد منتظمین یہ فیصلہ کر لیں کہ اس کو پناہ دینی ہے یا یخ بستہ راتوں میں فٹ پاتھ پر دوبارہ واپس بھیجنا ہے۔بہرحال یہ ایک اہم ترین قابل توجہ اور فوری ترجیح کا مسئلہ ہے۔ حکومت کی ذمے داری کے ساتھ مدارس کے مہتمم اور مسجدوں کے متولی اگر رات کے اوقات میں ارد گرد کی سڑکوں فٹ پاتھوں کا جائزہ لیں تو بہت سے افراد بے سہارا، بیمار مل جائیں گے جن کو سردی سے بچانے کے لیے فوری پناہ فراہم کی جا سکتی ہے۔ مخیر حضرات کو کمبل، رضائی دے کر ان کو فٹ پاتھ پر ہی چھوڑ دیتے ہیں، لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ ان کو عارضی پناہ گاہ بھی فراہم کی جائے جہاں وہ رات بسر کر سکیں۔
 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق

صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطاق 19 جولائی سے اب تک خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور فلش فلڈز سے مجموعی طور پر 9 مرد، 10 بچے اور تین خواتین جاں بحق ہوئیں۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا میں ہونے والی بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 5 روز کے دوران 22 شہری جاں بحق جبکہ 23 زخمی ہوگئے۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطاق 19 جولائی سے اب تک خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور فلش فلڈز سے مجموعی طور پر 9 مرد، 10 بچے اور تین خواتین جاں بحق ہوئیں۔ اعلامیے کے مطابق زخمیں میں 11 مرد، 5 خواتین 7 بچے شامل ہیں جبکہ تیز بارشوں اور فلش فلڈ کے باعث مجموعی طور پر 37 گھروں کو نقصان پہنچا جس میں 29 گھروں کو جزوی جبکہ 8 گھر مکمل منہدم ہوگئے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق حادثات پشاور، نوشہرہ، خیبر، مردان , بونیر، باجوڑ، شانگلہ، صوابی، چترال لوئر، دیر لوئر اور اپر، ایبٹ آباد، مانسہرہ،ہری پور، ٹانک، تور غر اور کرم اور شمالی و جنوبی وزیرستان میں پیش آئے۔

اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ پی ڈی ایم اے، ریسکیو 1122، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداراے آپس میں رابطے میں اور امدادی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ متاثرہ اضلاع کی انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ متاثرین میں جلد امدادی سامان تقسیم کردے۔ ڈی جی پی ڈی ایم اے نے ضلعی انتظامیہ کو امدادی سرگرمیاں تیز کرنے اور متاثرین کو فوری معاونت فراہم کرنے کی ہدایت کی اور بتایا کہ صوبہ کے تمام دریاؤں اور ندی نالوں میں پانی کی سطح اور بہاو معمول کے مطابق ہے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق تیز بارشوں کا یہ سلسلہ آج تک وقفے وقفے سے جاری رہنے کا امکان ہے۔ پی ڈی ایم اے نے عوام سے اپیل کی کہ وہ غیر ضروری  سفر سے گریز کریں اور حساس سیاحتی مقامات کا رخ نہ کریں جبکہ حکومتی اداروں کی جانب سے الرٹس/ اور ایڈوائزری پر عمل کریں۔

ڈی جی پی ڈی ایم اے کے مطابق ایمرجنسی آپریشن سینٹر مکمل طور پر فعال ہے، عوام کسی بھی نا خوشگوار واقعے کی اطلاع ، موسمی صورتحال سے آگائی اور معلومات کے لیے فری ہیلپ لائن 1700 پر رابطہ کریں۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • مستونگ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سیشن جج عبد الحکیم کاکڑ جاں بحق