Express News:
2026-07-24@03:11:35 GMT

داخلی سلامتی، پولیس کی ناگزیر حیثیت

اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT

 فیلڈ مارشل سید عاصم منیر چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز نے کہا ہے کہ مضبوط، پیشہ ور اور عوام دوست پولیس داخلی سلامتی اور قانون کی حکمرانی کے لیے ناگزیر ہے۔ انھوں نے نیشنل پولیس اکیڈمی، اسلام آباد کا دورہ کیا۔ فیلڈ مارشل نے کہا کہ مضبوط، پیشہ ور اور عوام دوست پولیس فورس داخلی سلامتی اور قانون کی حکمرانی کے لیے ناگزیر ہے، امن و امان کا قیام ایک مقدس ذمے داری ہے اور مسلح افواج پاکستان کے بہادر پولیس اہلکاروں کے شانہ بشانہ کھڑی ہیں۔

 پاکستان اس وقت جس پیچیدہ داخلی سلامتی کے منظر نامے سے گزر رہا ہے، اس میں دہشت گردی، انتہا پسندی، منظم جرائم اور سماجی بے چینی جیسے عوامل ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ ان حالات میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا نیشنل پولیس اکیڈمی اسلام آباد میں دیا گیا بیان محض ایک رسمی خطاب نہیں بلکہ ریاستی ترجیحات، زمینی حقائق اور مستقبل کی سمت کا واضح اشاریہ ہے۔ ان کا یہ کہنا کہ مضبوط، پیشہ ور اور عوام دوست پولیس داخلی سلامتی اور قانون کی حکمرانی کے لیے ناگزیر ہے، دراصل اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے کی جنگ صرف عسکری محاذ پر نہیں بلکہ شہری گلیوں، محلوں، بازاروں اور تھانوں میں بھی لڑی جاتی ہے۔

پولیس اس جنگ میں پہلی دفاعی لائن ہے، جو روزمرہ کی بنیاد پر براہِ راست عوام سے جڑی ہوتی ہے اور جس کے کندھوں پر امن و امان کی بھاری ذمے داری رکھی گئی ہے۔ پاکستان میں دہشت گردی کی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہوتی ہے کہ ہر بڑے سانحے کے بعد پولیس ہی وہ ادارہ ہے جو سب سے پہلے جائے وقوعہ پر پہنچتا ہے، شواہد اکٹھے کرتا ہے، زخمیوں کو اسپتال پہنچاتا ہے، خوفزدہ شہریوں کو حوصلہ دیتا ہے اور بعد ازاں طویل تفتیشی عمل میں مصروف رہتا ہے۔ چاہے وہ خودکش حملے ہوں، ٹارگٹ کلنگ، فرقہ ورانہ تشدد یا ریاست مخالف عناصر کی کارروائیاں، پولیس اہلکار اپنی جانیں داؤ پر لگا کر ان خطرات کا سامنا کرتے ہیں۔

فیلڈ مارشل کی جانب سے پولیس شہداء کی یادگار پر حاضری، پھولوں کی چادر چڑھانا اور فاتحہ خوانی دراصل اس اعتراف کی علامت ہے کہ پولیس کی قربانیاں کسی بھی طور کم نہیں اور ان کی خدمات کو قومی سطح پر تسلیم کیا جانا چاہیے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پولیس کا کردار محض ردِعمل تک محدود نہیں بلکہ یہ ادارہ انسدادِ دہشت گردی کی حکمت عملی میں بنیادی ستون کی حیثیت رکھتا ہے۔ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، مشتبہ نیٹ ورکس کی نگرانی، کالعدم تنظیموں کے سہولت کاروں کی نشاندہی اور شہری سطح پر امن و امان کی بحالی جیسے اہم فرائض پولیس ہی انجام دیتی ہے، اگر پولیس کمزور، غیر تربیت یافتہ یا عوام سے کٹی ہوئی ہو تو دہشت گرد عناصر کے لیے خلا پیدا ہو جاتا ہے جس سے وہ فائدہ اٹھاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ فیلڈ مارشل نے ادارہ جاتی تعاون، جدید پولیسنگ طریقہ کار اور عوامی اعتماد کے فروغ پر زور دیا، کیونکہ یہ تینوں عناصر مل کر ہی ایک مؤثر پولیس فورس کی تشکیل کرتے ہیں۔

پاکستان میں پولیس کو درپیش مسائل بھی کسی سے پوشیدہ نہیں۔ وسائل کی کمی، سیاسی مداخلت، جدید ٹیکنالوجی کا فقدان، ناکافی تربیت اور افرادی قوت پر بڑھتا ہوا دباؤ ایسے عوامل ہیں جو پولیس کی کارکردگی کو متاثر کرتے ہیں۔ اس کے باوجود پولیس نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ ہزاروں اہلکار شہید اور زخمی ہوئے، مگر ادارے نے اپنی ذمے داریوں سے پیچھے ہٹنے کے بجائے مزید عزم کے ساتھ کام جاری رکھا۔ فیلڈ مارشل کا یہ کہنا کہ امن و امان کا قیام ایک مقدس ذمے داری ہے، پولیس اہلکاروں کے حوصلے کو مزید تقویت دیتا ہے اور انھیں یہ احساس دلاتا ہے کہ ریاست ان کے ساتھ کھڑی ہے۔

دہشت گردی کے خاتمے میں پولیس کا بنیادی کردار اس وقت مزید نمایاں ہو جاتا ہے جب ہم شہری سطح پر انتہا پسندی کے پھیلاؤ کو دیکھتے ہیں۔ سوشل میڈیا کے ذریعے شدت پسند نظریات کا پھیلاؤ ایک خاموش مگر خطرناک عمل ہے۔ پولیس ہی وہ ادارہ ہے جو کمیونٹی کی سطح پر روابط استوار کر کے، مقامی علما، اساتذہ اور سماجی رہنماؤں کے ساتھ مل کر انتہا پسندی کے بیانیے کا توڑ کرسکتی ہے۔ عوام دوست پولیسنگ کا تصور اسی تناظر میں اہم ہے، جہاں پولیس خوف کی علامت نہیں بلکہ تحفظ اور اعتماد کی علامت بنے۔ جب عوام پولیس پر اعتماد کریں گے تو وہ مشکوک سرگرمیوں کی بروقت اطلاع دیں گے، جس سے دہشت گردی کی منصوبہ بندی ابتدائی مرحلے میں ہی ناکام بنائی جا سکتی ہے۔

 نیشنل پولیس اکیڈمی میں فیلڈ مارشل کو پولیس کی تربیتی سرگرمیوں، استعداد کار میں اضافے اور جدیدیت سے متعلق اقدامات پر دی گئی بریفنگ اس بات کا ثبوت ہے کہ پولیس کو بدلتے ہوئے چیلنجز کے مطابق ڈھالنے کی کوششیں جاری ہیں۔ اسکول فار ہائی امپیکٹ ایلیٹ لا انفورسمنٹ ڈیولپمنٹ (SHIELD) جیسے ادارے جدید تفتیشی تکنیک، انسدادِ دہشت گردی حکمت عملی، اور بحران سے نمٹنے کی صلاحیت پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

تاہم یہ کوششیں اس وقت تک مکمل ثمرات نہیں دے سکتیں جب تک انھیں قومی سطح پر مستقل پالیسی، وسائل کی فراہمی اور سیاسی عزم کی حمایت حاصل نہ ہو۔ پولیس اور فوج کے درمیان ہم آہنگی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک اور اہم پہلو ہے۔ ماضی میں مشترکہ آپریشنز، انٹیلی جنس شیئرنگ اور تربیتی تعاون نے نمایاں کامیابیاں حاصل کیں۔ فیلڈ مارشل کا یہ کہنا کہ مسلح افواج پاکستان بہادر پولیس اہلکاروں کے شانہ بشانہ کھڑی ہیں، اس ہم آہنگی کے تسلسل کا پیغام ہے۔ اس سے نہ صرف دہشت گرد عناصر کو واضح پیغام جاتا ہے بلکہ پولیس اہلکاروں کے حوصلے بھی بلند ہوتے ہیں کہ وہ تنہا نہیں بلکہ ایک منظم ریاستی نظام کا حصہ ہیں۔

تاہم اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے محض سیکیورٹی اقدامات کافی نہیں۔ سماجی و معاشی عوامل، غربت، بے روزگاری، تعلیمی پسماندگی اور انصاف کی عدم دستیابی ایسے مسائل ہیں جو دہشت گردی کے لیے زرخیز زمین فراہم کرتے ہیں۔ پولیس ان مسائل کے حل میں براہِ راست تو کردار ادا نہیں کر سکتی، مگر قانون کی حکمرانی کے ذریعے ایک ایسا ماحول ضرور پیدا کرسکتی ہے جہاں ریاستی رٹ قائم ہو اور شہری خود کو محفوظ محسوس کریں۔  پولیس اصلاحات کا سوال پاکستان میں طویل عرصے سے زیرِ بحث ہے، مگر عملی پیش رفت سست روی کا شکار رہی ہے۔

فیلڈ مارشل کے بیان کے بعد یہ توقع کی جا رہی ہے کہ پولیس کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں گے۔ بھرتیوں کا شفاف نظام، تربیت میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال، فرانزک سہولیات کی بہتری، ڈیجیٹل پولیسنگ اور اہلکاروں کی فلاح و بہبود ایسے اقدامات ہیں جو پولیس کی مجموعی کارکردگی کو بہتر بنا سکتے ہیں۔ ایک مطمئن اور محفوظ پولیس اہلکار ہی بہتر انداز میں عوام کی خدمت کر سکتا ہے۔

پولیس شہداء کی قربانیوں کو یاد رکھنا محض یادگاروں تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ ان کے خاندانوں کی کفالت، بچوں کی تعلیم اور معاشی تحفظ کو یقینی بنانا بھی ریاست کی ذمے داری ہے۔ جب ایک پولیس اہلکار یہ جانتا ہو کہ اگر وہ شہید ہوا تو اس کے اہلِ خانہ کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا، تو وہ زیادہ دلجمعی سے اپنی ڈیوٹی انجام دیتا ہے۔ فیلڈ مارشل کی جانب سے شہداء کو خراجِ عقیدت دراصل اسی احساسِ ذمے داری کی عکاسی کرتا ہے۔

داخلی سلامتی کے موجودہ چیلنجز میں سائبر کرائم، آن لائن انتہا پسندی اور سوشل میڈیا کے ذریعے نفرت انگیز مواد کا پھیلاؤ بھی شامل ہے۔ پولیس کو اب صرف روایتی جرائم سے نہیں بلکہ ڈیجیٹل دنیا کے خطرات سے بھی نمٹنا ہے۔ اس کے لیے خصوصی تربیت، جدید سافٹ ویئر اور ماہر افرادی قوت کی ضرورت ہے، اگر پولیس اس میدان میں مضبوط ہو جائے تو دہشت گرد تنظیموں کی آن لائن بھرتی اور پروپیگنڈا مہمات کو مؤثر انداز میں روکا جا سکتا ہے۔ عوامی اعتماد کے بغیر کوئی بھی پولیس فورس کامیاب نہیں ہو سکتی۔ ماضی میں پولیس پر الزامات، بدعنوانی اور طاقت کے غلط استعمال کی شکایات نے عوام اور پولیس کے درمیان فاصلے پیدا کیے۔

ان فاصلوں کو کم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ فیلڈ مارشل کا عوام دوست پولیسنگ پر زور اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ شفافیت، احتساب اور شہریوں کے ساتھ باوقار رویہ پولیس کی ساکھ کو بہتر بنا سکتا ہے۔ جب شہری پولیس کو اپنا محافظ سمجھیں گے تو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں وہ پولیس کے سب سے بڑے معاون بن جائیں گے۔آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ دہشت گردی کا خاتمہ کسی ایک ادارے کے بس کی بات نہیں، مگر پولیس اس جدوجہد میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا بیان ایک واضح پیغام ہے کہ ریاست پولیس کو محض ایک ماتحت فورس نہیں بلکہ داخلی سلامتی کا بنیادی ستون سمجھتی ہے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ اس بیان کو عملی اقدامات میں ڈھالا جائے، پولیس کو وہ وسائل، اختیار اور احترام دیا جائے جس کی وہ حق دار ہے، اور ایک ایسی عوام دوست، پیشہ ور اور مضبوط پولیس فورس تشکیل دی جائے جو دہشت گردی، جرائم اور بدامنی کے خلاف مؤثر انداز میں ڈٹ سکے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کو پائیدار امن، قانون کی حکمرانی اور محفوظ مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔
 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی

اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔

علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔

علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر کا بلوچستان میں پائیدار امن کے عزم کا اعادہ
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار