سانحہ گل پلازہ :الخدمت کا یتیم بچوں کی کفالت کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260122-01-17
کراچی(اسٹاف رپورٹر) الخدمت کر اچی کے شعبہ ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے تحت گل پلازہ میں سرچ آپر یشن جاری ہے جبکہ الخدمت نے سانحے میں جاں بحق افرادکے بچوں کی آرفن کیئر پروگرام کے ذریعے کفالت کر نے کا اعلان کیا ہے ۔5 روز قبل پیش آنے والے سانحے کے فوراً بعد الخدمت ڈیزاسٹر مینجمنٹ کی مستعد ٹیم سینئر منیجر سرفراز شیخ کی قیادت میں جائے حادثہ پر پہنچی تھی اور وہاں سرچ آپریشن میں شریک ہو ئی تھی ،الخدمت کی ڈیزاسٹر مینجمنٹ ٹیم نے نہ صرف سرچ آپریشن میں حصہ لیا بلکہ وہاں متاثرہ خاندانوں اور ریسکیو اہلکاروں کو واٹر وینز کے ذریعے پینے کے صاف پانی اورکھانا فراہم کیا۔الخدمت ڈیزاسٹر مینجمنٹ کی ٹیم تاحال گل پلازہ میں موجود ہے اور ہاں لاپتا افراد کی تلاش کا کام کر رہی ہے ۔ چیف ایگز یکٹو الخدمت نوید علی بیگ نے اپنے خصوصی بیان میں کہا ہے کہ گل پلازہ کا سانحہ انتہا ئی افسوسناک ہے ،جس میں بہت سے قیمتی جانیں جا چکی ہیں ،یہ وقت دکھ کا وقت ہے ،سانحے نے ہم سب کو دکھی کردیا ہے ۔ہم حادثے میں جاں بحق افراد کے اہل خانہ سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں اور تمام جاں بحق افراد کی مغفرت اور بلند درجات کے لیے دعا گوہیں ۔نوید علی بیگ نے کہا کہ الخدمت کراچی شہر میں اپنے آرفن کیئر پروگرام کے تحت 2400باہمت یتیم بچوں کی ان کے گھروں پر کفالت کررہی ہے ،انہوں نے اعلان کیا کہ الخدمت اپنے آرفن پروگرام کے تحت سانحہ گل پلازہ میں جاں بحق افراد کے بچوں کی کفالت کرے گی ۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ڈیزاسٹر مینجمنٹ جاں بحق افراد گل پلازہ بچوں کی
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔