آباد و فد کا گل پلازہ کا دورہ ،مشکل گھڑی میں متاثرین کیساتھ کھڑے ر ہنے کا عزم
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی(اسٹاف رپورٹر) ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز(آباد) کے چیئرمین سدرن ریجن احمداویس تھانوی نے گل پلازہ میں پیش آنے والے ہولناک آتشزدگی میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع اور اربوں روپے کے مالی نقصان پر گہرے دکھ اور افسوس کااظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ آتشزدگی سے صرف 1200 دکانیں نہیں جلیں بلکہ 12 ہزار افراد کاروزگار بھی سانحے کے نذر ہوا۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے گزشتہ روز آباد کے اعلیٰ سطح وفد کے ہمراہ کراچی کے تجارتی مرکز گل پلازہ میں لگنے والی آگ سے ہونے والے نقصانات کا جائزہ لینے کے لیے جائے وقوع کا دورہ کرتے ہوئے کیا۔ احمد اویس تھانوی نے گل پلازہ میں لگنے والی آگ کے نتیجے میں جانی ومالی نقصان کو کراچی شہر کا سب سے بڑا سانحہ قرار دیتے ہوئے متاثرہ تاجروں اور خاندانوں سے دلی ہمدردی کااظہارکرتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ آباد اس مشکل گھڑی میں متاثرین کے ساتھ کھڑی ہے۔چیئرمین سدرن ریجن نے امدادی کارروائیوں میں تاخیر اور آلات کی کمی پر گہری تشویش کا اظہارکرتے ہوئے کہاکہ اس میٹرو پولیٹن شہر میں اگر انتظامیہ بروقت وسائل فراہم کر دیتی تو حالات مختلف ہوتے۔انھوں نے امدادی کارروائیوں میں تاخیر اور آلات کی کمی پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انھوں نے کہا کہ سانحہ گل پلازہ کے متاثرین اسی ملک کے شہری اور محب وطن پاکستانی ہیں، کوئی غیر نہیں، جنھوں نے ہمیشہ ملک کی معیشت میں اپنا حصہ ڈالا ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ فائر فائٹرز نے اپنی کوششیں کیں لیکن فائر بریگیڈ کے پاس پانی کی کمی اور جدید آلات کا نہ ہونا ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ جو شہر پورے ملک کو ریونیو دیتا ہے، اسے اس قدر بے یار و مددگار چھوڑنا انتہائی افسوسناک ہے۔احمداویس تھانوی نے آبادکی جانب سے متاثرہ عمارت کی بحالی کے لیے تکنیکی اور اخلاقی طور پر مدد فراہم کرنے کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہاکہ یہ وہ لوگ ہیں جو ہمیشہ دوسروں کو دینے والے ہاتھ تھے، لیکن آج حالات کی وجہ سے پریشان ہیں۔ انھوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ متاثرہ ٹیکس پیئرز کی فوری مالی مدد کی جائے اور عمارت کی بحالی کے کام کو ہنگامی بنیادوں پر شروع کیا جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
بانی سے ملاقات تک خیبرپختونخوا کا بجٹ پاس نہ کیا جائے، علیمہ خان کی سہیل آفریدی کو تنبیہ
راولپنڈی: بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو تنبیہ کی ہے کہ عمران خان سے ملاقات ہونے تک صوبے کا بجٹ منظور نہ ہونے دیں۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعلی سہیل آفریدی نے علیمہ خان کے ساتھ فیکٹری ناکے پر میڈیا سے گفتگو کی۔ اس دوران سہیل آفریدی نے بجٹ پاس کرنے کی بات کی تو علیمہ خان نے انہیں ٹوک دیا۔
علیمہ خان نے سہیل آفریدی کو خیبرپختونخوا کا بجٹ پاس کرنے پر تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ بجٹ پاس کیوں کر رہے ہیں؟ ان سے کہیں پہلے میری بانی سے ملاقات کروائیں‘۔
علیمہ خان نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے پچھلے سال بھی کہا تھا میرے ساتھ بجٹ پر بات کرو ، آپ آج بھی ان سے کہیں بجٹ سے پہلے بانی سے ملاقات کرائیں ۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ گلگت بلتستان میں سارے لوگ ظلم کیخلاف کھڑے ہوگئے ہیں۔ بانی پی ٹی آئی کو تنہا کیا گیا جو غیر قانونی اور غیر آئینی ہے، ہمارا یہاں آنے کا ایک ہی مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشل منتقل کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ بانی کا علاج انکی فیملی اور ذاتی معالج کی موجودگی میں ہو، ان کے مقاصد کچھ اور ہیں اس لئے یہ ملنے نہیں دے رہے۔ عید سے پہلے انہون نے ہمیں گیارہ گھنٹے تک روک کر عوام کو مصیبت میں ڈالا گیا
اُن کا کہنا تھا کہ مجھے اگر نہیں ملنے دیتے تو فیملی کو کم از کم ملنے دیا جائے، پاکستان تحریک انصاف بانی پی ٹی آئی کا نام ہے، بانی نے جیل سے فیصلہ کیا کہ فلاں وزیر اعلیٰ نہیں ہو گا، بانی کے فیصلے کے بعد کوئی بھی طاقت اس کو نہیں بچا سکتی تھی۔
مزید پڑھیںاڈیالہ جیل میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات
190 ملین پاؤنڈ کیس: عمران خان اور بشریٰ بی بی کے وکالت ناموں پر دستخط نہ ہو سکے
علیمہ خان نے سابق آرمی چیف کی عمران خان سے ملاقات کی خبر کو بے بنیاد قرار دیدیا
انہوں نے کہا کہ بانی نے کہا سہیل آفریدی وزیر اعلیٰ ہو گا تو دنیا کی کوئی طاقت اس کو تبدیل نہیں کرسکتی، اڈیالہ جیل سے جب تک بانی کا کوئی نیا پیغام نہیں آئے گا میں ہی وزیر اعلیٰ رہوں گا۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ کے پی کی حکومت فقط بانی پی ٹی ہی ختم کر سکتے ہیں اور اس کے علاوہ یہ کام کوئی نہیں کرسکتا، صوبے میں فارورڈ بلاک پروپیگینڈا ہے اور یہ اس لئے کیا گیا وفاقی بجٹ میں ایک بار پھر عوام کا خون چوسا جائے گا۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ پاکستان کے اندرونی و بیرونی قرضے 97 ارب تک پہنچ چکے، حکومت ٹیکس کے اہداف پورے نہیں کر سکی اور آج حکومت میں شامل پارٹیاں عوام کا نہیں سوچ رہیں۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ پاکستان کا تجارتی خسارہ دن بدن بڑھتا جا رہا ہے، میری تمام لوگوں سے درخواست ہے کہ وہ بانی کے علاج کیساتھ اس بجٹ پر فوکس رکھیں۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ کے پی حکومت نے کابینہ سے بجٹ پیپر پاس کر دیا ہے اور ہم نے کوئی سرپلس بجٹ نہیں دیا، اس سال بھی عوام دوست بجٹ پیش کیا جائے گا۔ ہمارا سارا فوکس صحت تعلیم زراعت نوجوان اور جنگلات پر ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم اپنے بجٹ میں بہت اچھی اور عوام دوست چیزیں لا رہے ہیں، وفاقی بجٹ کا اثر سارے صوبوں بشمول گلگت بلتستان پر پڑے گا۔