قومی اسمبلی: الیکشنز ایکٹ میں مزید ترامیم منظور‘ آئینی عدالت اور اثاثوں سے متعلق بڑی تبدیلیاں
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) قومی اسمبلی نے الیکشنز ایکٹ 2017 میں مزید ترمیم کا بل منظور کر لیا ہے، جس کے تحت الیکشنز ترمیمی ایکٹ 2026 فوری طور پر نافذ العمل ہوگا۔ تفصیلات کے مطابق رکن قومی اسمبلی شازیہ مری کی جانب سے پیش کیے گئے بل کی منظوری کے بعد الیکشنز ایکٹ کی سیکشن 9 میں ترمیم کرتے ہوئے لفظ ’سپریم‘ کی جگہ ’فیڈرل آئینی عدالت‘ شامل کر دیا گیا ہے جبکہ سیکشن 66 میں ترمیم کے ذریعے دائرہ اختیار میں فیڈرل آئینی عدالت کو شامل کیا گیا ہے۔ اسی طرح سیکشن 104 میں ترمیم کے تحت الیکشن تنازعات میں فیڈرل آئینی عدالت کا کردار شامل کیا گیا ہے جبکہ الیکشنز ایکٹ کے سیکشن 104A میں بھی فیڈرل آئینی عدالت کو شامل کرنے کی شق منظور کر لی گئی ہے۔ قومی اسمبلی نے الیکشنز ایکٹ 2017 کے سیکشن 138 میں بھی اہم ترمیم منظور کی ہے، جس کے تحت اسپیکر قومی اسمبلی یا چیئرمین سینیٹ کو اثاثوں کی تفصیلات شائع نہ کرنے کا اختیار دے دیا گیا ہے۔ ترمیم کے مطابق جان یا سیکورٹی خطرے کی صورت میں کسی رکن کے اثاثے عوامی سطح پر شائع نہیں کیے جائیں گے جبکہ اسپیکر یا چیئرمین تحریری وجوہات کے ساتھ ایوان میں رولنگ دے سکیں گے۔ منظور شدہ ترمیم کے تحت اثاثوں کی تفصیلات زیادہ سے زیادہ ایک سال تک خفیہ رکھی جاسکیں گی، تاہم اثاثوں اور واجبات کی مکمل اور درست تفصیلات الیکشن کمیشن کو خفیہ طور پر جمع کرانا لازم ہوگا۔ بل کے تحت الیکشنز ایکٹ کے سیکشن 155 میں بھی ترمیم کرتے ہوئے لفظ ’’سپریم‘‘ کی جگہ ’’فیڈرل آئینی عدالت‘‘ شامل کیا گیا ہے۔ اسی طرح سیکشن 202 میں بڑی ترمیم کی گئی ہے جس کے تحت ذیلی شق 6 اور 7 میں سپریم کورٹ کے بجائے فیڈرل آئینی عدالت کا ذکر شامل کر دیا گیا ہے اور الیکشن قوانین کے تحت اپیلوں اور قانونی تشریح کا دائرہ اختیار وفاقی آئینی عدالت کو دے دیا گیا ہے۔ الیکشنز ایکٹ کے سیکشن 212 میں بھی ترمیم منظور کی گئی ہے جس میں ذیلی شق 2 اور 3 میں فیڈرل آئینی عدالت کو شامل کیا گیا ہے جب کہ سیکشن 232 میں ترمیم کے ذریعے دائرہ اختیار میں فیڈرل آئینی عدالت کا باضابطہ اندراج کر دیا گیا ہے۔ بل کے مطابق مختلف قانونی فورمز پر فیڈرل آئینی عدالت کا کردار واضح کر دیا گیا ہے۔ قائم مقام اسپیکر و ڈپٹی اسپیکر سید غلام مصطفی شاہ کی زیرصدرت ہونے والے قومی اسمبلی کے اجلاس میں سی آر پی سی ترمیمی بل 2026 بھی پیش کیا گیا جس میں ضابطہ فوجداری کی سیکشن 174 بی اور سی میں ترمیم تجویز کی گئی ہے۔ یہ بل مرزا اختیار بیگ نے پیش کیا جسے غور کے لیے قائمہ کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا۔ اجلاس کے دوران قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں خواتین کے مخصوص نشستوں کے خاتمے سے متعلق آئینی ترمیمی بل بھی قومی اسمبلی میں پیش کیا گیا۔ پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ رکن اسلم گھمن نے یہ آئینی ترمیمی بل پیش کیا جس میں خواتین کے قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں میں براہ راست انتخاب کی ترمیم شامل ہے۔ اسلم گھمن نے آئین کے آرٹیکل 51 اور 106 میں ترمیم کی تجویز بھی دی۔ قومی اسمبلی میں دستور ترمیمی بل 2026 بھی پیش کیا گیا، جس پر وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ وہ اصولی طور پر دستور ترمیمی بل 2026 کی مخالفت کرتے ہیں، تاہم بل کو کمیٹی کے سپرد کیا جائے تاکہ اس پر غور ہو سکے۔ بعد ازاں دستور ترمیمی بل غور کے لیے قائمہ کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا۔ وزیر قانون نے ایوان میں کہا کہ دونوں ایوانوں میں اپوزیشن لیڈر آ چکے ہیں اور اپوزیشن کو چاہیے کہ وہ قائمہ کمیٹیوں میں واپس آئے تاکہ کمیٹیوں کے کام میں بہتری آ سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ا ئینی عدالت کو شامل کیا گیا ہے الیکشنز ایکٹ کر دیا گیا ہے قومی اسمبلی کے سیکشن ترمیم کے میں بھی پیش کیا گئی ہے کے تحت
پڑھیں:
کوہستان اسکینڈل منظر عام پر لانے والے صحافی کو اعزاز سے نواز دیا گیا
فائل فوٹوچیئرمین قومی احتساب بیورو (نیب) لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد نے کوہستان اسکینڈل منظر عام پر لانے والے صحافی کو اعزاز سے نواز دیا۔
کوہستان مالیاتی کرپشن کیس میں قومی احتساب بیورو (نیب) نے 6 ارب روپے کے اثاثے ریکور کرکے خیبرپختونخوا حکومت کے حوالے کردیے جبکہ مزید ریکوری کا عمل جاری ہے۔
پشاور میں ایک خصوصی تقریب کے دوران لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد نے جنگ اور جیو گروپ کے سینئر صحافی ارشد عزیز ملک کو خصوصی شیلڈ اور سرٹیفکیٹ دیا۔
جنگ اور جیو نے 30 اپریل 2025ء کو کوہستان میں سرکاری بینک اکاؤنٹس سے 40 ارب روپے کی خرد برد کی خبر بریک کی تھی، کوہستان اسکینڈل ملکی تاریخ کا بڑا مالیاتی اسکینڈل تھا۔