data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد:پیپلز پارٹی کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر نوید قمر نے کہا ہے کہ اٹھارہویں آئینی ترمیم کو نشانہ بنانے کے لیے کراچی کے گل پلازہ میں لگنے والی آگ کو دانستہ طور پر بہانہ بنایا جا رہا ہے۔

قومی اسمبلی کے اجلاس میں نکتۂ اعتراض پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے نوید قمر نے کہا کہ ایک افسوسناک واقعے کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کر کے صوبائی خودمختاری پر حملہ کیا جا رہا ہے جو نہایت قابلِ افسوس اور قابلِ مذمت عمل ہے۔

نوید قمر نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی لیڈر اور وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف کی جانب سے اٹھارہویں ترمیم سے متعلق دیے گئے بیانات کو پیپلز پارٹی محض ذاتی رائے قرار نہیں دیتی بلکہ اسے حکومتی پالیسی کا عکاس سمجھتی ہے، جب وفاقی کابینہ کے اہم ارکان اس نوعیت کے بیانات دیتے ہیں تو اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ حکومت کے بعض حلقے منظم انداز میں اٹھارہویں ترمیم کو متنازع بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آج ایک بار پھر ایک وفاقی وزیر نے آگ کے واقعے کی آڑ میں اٹھارہویں ترمیم پر سوالات اٹھائے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ اصل مسئلے یعنی انتظامی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش کی جا رہی ہے، کراچی میں آگ لگنے جیسے واقعات ناقص عملدرآمد، کمزور نگرانی اور انتظامی غفلت کا نتیجہ ہوتے ہیں، نہ کہ کسی آئینی ترمیم کا۔

پیپلز پارٹی کے رہنما نے کہا کہ پاکستان ایک وفاقی ریاست ہے اور اس کی بنیاد صوبائی خودمختاری پر رکھی گئی ہے، مضبوط پاکستان کی تشکیل مضبوط صوبوں کے بغیر ممکن نہیں، اور اٹھارہویں ترمیم اسی وفاقی ڈھانچے کو مستحکم کرتی ہے۔ اس ترمیم پر حملہ دراصل وفاقی نظام کو کمزور کرنے کے مترادف ہے، جسے پیپلز پارٹی کسی صورت قبول نہیں کرے گی۔

نوید قمر نے مزید کہا کہ برسوں تک قوم کو ایسا نصاب پڑھایا گیا جس میں تاریخ کو مسخ کیا گیا اور جھوٹ کو سچ بنا کر پیش کیا گیا، جس کے منفی اثرات آج بھی معاشرے میں محسوس کیے جا سکتے ہیں،تاریخ سے سبق سیکھنے کے بجائے اسے اپنی مرضی کے مطابق بدلنے کی کوششیں قومی وحدت اور فکری ہم آہنگی کو نقصان پہنچاتی ہیں۔

آخر میں انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا ہم اب بھی ساٹھ اور ستر کی دہائی کی سیاست سے باہر نہیں نکل سکے؟ اگر محض سیاسی مفادات کے لیے ملک کے مستقبل کو داؤ پر لگایا گیا تو اس کے نتائج نہایت خطرناک ہوں گے، اٹھارہویں ترمیم پر کسی بھی قسم کا حملہ دراصل پاکستان کے وفاقی ڈھانچے پر حملہ ہے، جس کے خلاف پیپلز پارٹی ہر فورم پر آواز اٹھاتی رہے گی۔

ویب ڈیسک وہاج فاروقی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: اٹھارہویں ترمیم پیپلز پارٹی نوید قمر نے نے کہا کہ کے لیے

پڑھیں:

امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا

کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔

دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔

ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔

دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔

انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔

انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔

دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے
  • ورلڈ کپ تیاریوں کے لیے سست وکٹوں پر تنقید مسترد، مائیک ہیسن کا دوٹوک مؤقف
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا