بلوچستان؛ سردی کی شدت میں اضافہ، مختلف علاقوں میں بارش اور برفباری شروع
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
کوئٹہ:
بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ اور اس کے مضافات میں سردی کی شدت میں اضافہ ہو گیا ہے۔ شہر کے مختلف علاقوں میں ہلکی سے درمیانی بارش کا سلسلہ جاری ہے جبکہ آس پاس کے پہاڑی علاقوں میں برفباری شروع ہو چکی ہے۔
محکمہ موسمیات اور پی ڈی ایم اے کے مطابق مغربی ہواؤں کا ایک طاقتور سسٹم بلوچستان میں داخل ہو چکا ہے جس کے نتیجے میں بارش، برفباری اور تیز ہواؤں کا سلسلہ جاری ہے۔
شہر کوئٹہ میں ہلکی بارش کے ساتھ سردی کی شدت میں واضح اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ مضافاتی علاقوں زیارت، کان مہترزئی، چمن، توبہ اچکزئی اور قلعہ عبداللہ میں برفباری ہو رہی ہے جبکہ مستونگ، سنجاوی، خانوزئی اور مسلم باغ میں بارش کے ساتھ سردی مزید شدید ہو گئی ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق زیارت، چمن، پشین، قلعہ عبداللہ، قلعہ سیف اللہ، نوشکی، ہرنائی اور ژوب سمیت کئی اضلاع میں برفباری کا امکان ہے، جہاں 2 سے 12 انچ تک برف پڑ سکتی ہے۔
مزید پڑھیںسوات، چترال میں بارش اور برفباری، سردی کی شدت بڑھ گئی
بلوچستان کے تقریباً 25 اضلاع میں بارش اور 9 اضلاع میں برفباری کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ دیگر علاقوں جیسے بارکھان، سبی، موسیٰ خیل، گوادر، لسبیلہ، کیچ، آواران، چاغی، لورالائی، تربت، قلات، خضدار، واشک اور خاران میں بھی گرج چمک کے ساتھ بارش متوقع ہے۔ تیز ہوائیں (30 سے 35 کلومیٹر فی گھنٹہ) چلنے کا امکان ہے جو کمزور ڈھانچوں اور بجلی کے نظام کو متاثر کر سکتی ہیں۔
محکمہ موسمیات کے مطابق یہ موسمی سلسلہ آئندہ ایک ہفتے (تقریباً 21 سے 28 جنوری تک) جاری رہنے کا امکان ہے، جس کے دوران 22 اور 23 جنوری کو شدت میں اضافہ متوقع ہے۔ اس دوران ندی نالوں میں طغیانی، سڑکوں پر پھسلن اور معمولات زندگی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ عوام کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
ادھر، شدید سردی اور برفباری کے باعث صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کے اکثر علاقوں میں بجلی غائب ہے۔ لوڈشیڈنگ کی دورانیہ میں اضافہ ہو گیا ہے اور کئی علاقوں میں گھنٹوں بجلی کی عدم فراہمی سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے ضلعی انتظامیہ نے شہریوں سے اپیل ہے کہ برفباری اور بارش کے دوران غیر ضروری طور پر باہر نہ نکلیں، گرم لباس پہنیں اور تیز ہواؤں سے متاثر ہونے والے علاقوں میں احتیاط برتیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سردی کی شدت علاقوں میں میں اضافہ
پڑھیں:
بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
تصویر سوشل میڈیا۔پراونشل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) پنجاب نے مون سون بارشوں کے باعث نقصانات سے متعلق رپورٹ جاری کر دی۔
لاہور ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق مون سون بارشوں کے باعث پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، بارشوں میں چھتیں گرنے سے 15 افراد جاں بحق ہوئے۔
بارش رکنے کے بعد ایم ڈی واسا نے تمام انڈر پاس کلیئر کر دینے کا دعویٰ کیا، بارش کے باعث نناوے فیڈرز بھی متاثر ہوئے، بحالی کا کام جاری ہے، ڈیفنس میں بارش کے پانی میں ایک منچلا کشتی لے آیا۔
ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق بارشوں میں کرنٹ لگنے سے 3 اور آسمانی بجلی گرنے سے 2 افرادجاں بحق ہوئے۔ بارش کے پانی میں ڈوبنے سے ایک شخص جاں بحق ہوا، بارشوں کے باعث 38 مکانات جزوی طور پر متاثر ہوئے۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے نے کہا کہ جاں بحق افراد کے خاندانوں کو 10 سے 50 لاکھ روپے تک امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
انھوں نے کہا کہ شہریوں سے گزارش ہے موسم برسات میں احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔