سانحہ گل پلازہ : پورا شہر سوگ میں ڈوبا ہوا ہے، احسن حمید
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ٹنڈوجام (نمائندہ جسارت )ال پرائیویٹ انسٹی ٹیوشنز آرگنائزیشن سندھ کے چیئرمین احسن حمید نے ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں پیش آنے والے ہولناک آتشزدگی کے واقعے میں انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے رنج و غم اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس المناک سانحے کے نتیجے میں 28 قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع ہوا ہے جبکہ درجنوں افراد تاحال لاپتہ ہیں، جس سے پورا شہر سوگ میں ڈوب گیا ہے انہوں نے جاں بحق افراد کے لواحقین، متاثرہ خاندانوں اور تاجر برادری سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ نہایت دلخراش اور ناقابلِ برداشت ہے، گل پلازہ میں آتشزدگی کے باعث قیمتی جانوں کے ساتھ ساتھ کروڑوں روپے مالیت کا سامان بھی جل کر خاکستر ہو گیا ہے جس سے متاثرہ تاجروں اور ملازمین کو شدید مالی نقصان پہنچا ہے انہوں نے کہا کہ یہ سانحہ عمارتوں میں حفاظتی انتظامات کی کمی اور متعلقہ اداروں کی غفلت کا واضح ثبوت ہے، لہٰذا واقعے کی فوری، شفاف اور غیرجانبدار تحقیقات کر کے ذمہ داران کا تعین اور ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے تاکہ آئندہ ایسے افسوسناک واقعات کا تدارک ممکن ہو سکے۔ انہوں نے لاپتہ افراد کی جلد بازیابی، زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات کی فراہمی اور متاثرہ خاندانوں کے لیے فوری مالی امداد کا بھی مطالبہ کیا اس موقع پر انھوں نے فرض کی ادائیگی کے دوران شہید ہونے والے فائر فائٹر فرقان شوکت کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ فرقان شوکت کی قربانی ہمارے ریسکیو اداروں کی بہادری، فرض شناسی اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی عظیم مثال ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) بلوچستان نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔
انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لیے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔
بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔