انجمن طلبا اسلام پاکستان کے 58ویں جشن تشکیل کی تقریب
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (پ ر) انجمن طلبااسلام پاکستان کے 58 ویں جشن تشکیل کے موقع پر انجمن طلباء اسلام ضلع ملیر کے زیرِ اہتمام ایک پروقار اور بامقصد تقریب المصطفیٰ ویلفیئر سوسائٹی،کھوکھرا پار نمبر 2، ملیر کے لان میں منعقد ہوئی۔ تقریب میں طلبہ،علماء، تنظیمی عہدیداران اور معزز شخصیات کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔تقریب کی صدارت معروف دینی و سماجی رہنما ڈاکٹر وہاب اکرم قادری نے کی جبکہ جشنِ تشکیل کے مہمانِ خصوصی انجمن طلباء اسلام کے سابق صدر محمد عثمان خان نوری تھے۔ پروگرام کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا جس کے بعد نعت رسول مقبول پیش کی گئی۔جشنِ تشکیل کی اس تقریب میں مولانا شفیق الرحمن بٹ‘ ناظم کراچی انجمن احمد ترابی‘ ناظم ضلع ملیر حافظ جنید احمد،شکیل احمد صدیقی،ڈاکٹر بدرالزمان فاروقی،الخبیر عبد الرحمن، ڈاکٹر اقرار علی قریشی،ماجد رضا اور ٹرسٹی المصطفیٰ ویلفیئر سوسائٹی محمد اویس آفاقی نے خصوصی طور پر شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے انجمن طلباء اسلام کی 58 سالہ جدوجہد،دینی،تعلیمی اور فکری خدمات پر روشنی ڈالی۔ مقررین کا کہنا تھا کہ انجمن طلباء اسلام نے ہر دور میں طلبہ کی دینی و اخلاقی تربیت‘ نظریاتی تشخص کے تحفظ اور ملک و ملت کی خدمت کے لیے اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے نوجوان طلبہ پر زور دیا کہ وہ علم کے ساتھ ساتھ کردار سازی، اتحاد و نظم و ضبط کو اپنی زندگی کا شعار بنائیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: انجمن طلباء اسلام
پڑھیں:
نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
بھارت میں نیٹ (NEET) امتحان کے مبینہ پیپر لیک کے خلاف دہلی سے شروع ہونے والا احتجاج اب ملک کے مختلف شہروں تک پھیل گیا ہے۔ طلبہ کی جانب سے امتحانی نظام میں شفافیت، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی اور اصلاحات کے مطالبات زور پکڑتے جا رہے ہیں، جبکہ دہلی یونیورسٹی نے اپنے طلبہ اور اساتذہ کو جنتر منتر پر جاری احتجاج میں شرکت سے گریز کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
پیپر لیک کے خلاف احتجاج اب صرف دارالحکومت دہلی تک محدود نہیں رہا۔ ممبئی، کولکاتا، بنگلورو، حیدرآباد، پٹنہ، لکھنؤ، چندی گڑھ اور دیگر شہروں میں بھی طلبہ تنظیموں نے ریلیاں، دھرنے اور احتجاجی مظاہرے شروع کر دیے ہیں۔ متعدد مقامات پر طلبہ نے امتحانی نظام میں اصلاحات، پیپر لیک میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی اور شفاف امتحانی عمل کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔
Huge crowd of students floods roads of Nashik.
Student protest is now getting pan India surge. pic.twitter.com/tW5HlH2LuY
— VIZHPUNEET (@vizhpuneet) July 23, 2026
ادھر اپوزیشن جماعتیں بھی طلبہ کی حمایت میں میدان میں آ گئی ہیں۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہول گاندھی اور ’انڈیا اتحاد‘ کے دیگر رہنماؤں نے احتجاجی طلبہ سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے وفاقی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ دہرایا ہے۔
دوسری جانب نیٹ دہلی یونیورسٹی نے اپنے سرکاری بیان میں کہا ہے کہ جنتر منتر پر ہونے والے اجتماعات سپریم کورٹ کی ہدایات کے تحت منظم کیے جاتے ہیں اور کسی بھی غیرقانونی مظاہرے میں شرکت کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ انتظامیہ کے مطابق ایسے اقدامات طلبہ کی سلامتی، تعلیمی مستقبل اور پیشہ ورانہ مواقع کو متاثر کر سکتے ہیں، اس لیے انہیں احتجاجی سرگرمیوں سے دور رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:وزیرِ تعلیم کے استعفے کا مطالبہ، نئی دہلی میں طلبہ کے احتجاج پر لاٹھی چارج
یونیورسٹی نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی جعلی اور گمراہ کن خبروں سے بھی خبردار کرتے ہوئے طلبہ کو غیر مصدقہ معلومات شیئر نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ پیپر لیک معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی، تاہم طلبہ تنظیموں نے واضح کیا ہے کہ مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رہے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارت احتجاج دہلی احتجاج نیٹ پیپر لیک