Jasarat News:
2026-07-24@02:21:42 GMT

اسلام دین فطرت اور نام نہاد جدید اقدار

اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام کو اگر ایک جملے میں سمجھا جائے تو اسے بجا طور پر دین ِ فطرت کہا جا سکتا ہے، کیونکہ جو کچھ انسانی فطرت کے عین مطابق ہے، اسلام نے اسی کو اختیار کرنے کی دعوت دی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام اور جدید دور کی بہت سی خراب اور غیر فطری چیزوں کے درمیان ٹکراؤ ہوتا ہے۔ یہ ٹکراؤ دراصل قدامت اور جدت کا نہیں بلکہ فطرت اور بگاڑ کا ہے۔ اسلام نے جن بنیادی امور پر سب سے زیادہ زور دیا، ان میں صفائی اور پاکیزگی سرِفہرست ہے۔ دنیا کے کسی اور مذہب یا تہذیب نے صفائی کو وہ مقام نہیں دیا جو اسلام نے دیا۔ یہاں تک کہ صفائی کو نصف ایمان قرار دیا گیا۔ اگر ایمان کو سو فی صد مان لیا جائے تو اس کا پچاس فی صد حصہ صفائی سے متعلق ہے۔ جسم، لباس، ماحول اور دل کی پاکیزگی یہ سب اسلام کے نزدیک نہایت اہم ہیں۔ وضو کی پابندی انسان کو نہ صرف جسمانی بلکہ روحانی طور پر بھی پاکیزہ بناتی ہے، اور یہی وہ پہلو ہے جو جدید مادہ پرست معاشروں میں ناپید ہوتا جا رہا ہے۔

ہجرت کا وہ لمحہ تاریخ ِ انسانیت کا نہایت نازک ترین لمحہ تھا۔ قریش کے سردار، عرب کے قبائل اور یہودی خاندان سب کی نظریں ایک ہی ذات پر جمی ہوئی تھیں کہ کسی طرح محمدؐ مکہ سے نکل نہ پائیں۔ ہر طرف خطرہ تھا، ہر قدم پر جان جانے کا اندیشہ تھا، مگر ان حالات میں بھی رسولِ اکرمؐ نے اصولوں اور معاملات کی پاکیزگی پر کوئی سمجھوتا نہ کیا۔ جب یارِ غار ابوبکر صدیقؓ ہجرت کے لیے دو اونٹنیاں لے آئے ایک اپنے لیے اور ایک رسول اللہؐ کے لیے تو آپؐ نے فوراً دریافت فرمایا: ’’یہ اونٹنی کتنے کی خریدی گئی ہے؟‘‘

سیدنا ابوبکرؓ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ آپؐ کے لیے ہے۔ مگر نبی کریمؐ نے فرمایا کہ جب تک اس کی قیمت ادا نہ کر دی جائے، میں اس پر سوار نہیں ہوں گا۔ چنانچہ آپؐ نے اونٹنی کی پوری قیمت ادا فرمائی، پھر اس پر سوار ہوئے۔

سوچیے! جان خطرے میں ہے، دشمن تعاقب میں ہیں، مگر امانت، دیانت اور حق تلفی سے اجتناب ہر حال میں مقدم ہے۔ یہی اسلام ہے، یہی زمینی حقائق ہیں، یہی دین ِ فطرت ہے، اور یہی اس کی صداقت کی روشن ترین دلیل ہے۔

مغربی تہذیب، جو آج انسانی حقوق کی سب سے بڑی علمبردار بننے کی دعوے دار ہے، اپنی تاریخ پر نظر ڈالے تو اس کے چہرے سے بہت سے نقاب اُتر جاتے ہیں۔ عورت، جسے آج آزادی کے نام پر ایک شے بنا دیا گیا ہے، اسے بیسویں صدی تک بنیادی انسانی حقوق بھی نہیں دیے گئے تھے۔ امریکا جیسے ملک میں عورت کو ووٹ کا حق بھی بیسویں صدی میں جا کر ملا۔ سوال یہ ہے کہ جو معاشرہ صدیوں تک عورت کو سیاسی اور سماجی وجود دینے سے قاصر رہا، وہ آج عورت کی آزادی کا درس کیسے دے سکتا ہے؟ اس کے برعکس اسلام نے عورت کو ابتدا ہی سے عزت، وقار اور تحفظ عطا کیا۔ قرآنِ پاک میں عورت کے مقام کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ خواتین میں صرف سیدہ مریمؑ کا نام صراحت کے ساتھ آیا، باقی خواتین کا ذکر نسبت سے کیا گیا کسی کو فرعون کی بیوی کہا گیا، کسی کو ایک علاقے کی ملکہ، اور کسی کو نبی کی زوجہ۔ یہ اندازِ بیان خود اس بات کی دلیل ہے کہ اسلام عورت کی عزت کو نمائش نہیں بناتا بلکہ پردۂ احترام میں رکھتا ہے۔

نبی کریمؐ کی سیرتِ طیبہ عورت کے احترام کی عملی تفسیر ہے۔ آپؐ اپنی صاحبزادی کے احترام میں کھڑے ہو جاتے تھے۔ رات کے وقت اگر بیدار ہوتے تو اس قدر آہستگی اختیار کرتے کہ ازواجِ مطہرات کی نیند میں خلل نہ آئے۔ یہ بظاہر چھوٹے اعمال درحقیقت ایک گہرے شعور اور نفسیاتی حساسیت کی عکاسی کرتے ہیں، جو ایک مثالی اور فطرتی ازدواجی زندگی کی پہچان ہے۔

ہم اکثر اسلام کو احکام کی فہرست سمجھ لیتے ہیں، حالانکہ وہ انسان کی فطرت کا آئینہ ہے۔ نماز اس دین ِ فطرت کا سب سے مضبوط ستون ہے، بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ یہی اسلام کی روح ہے۔ ذرا فجر کی نماز پر غور کیجیے۔ انسان نیند سے بیدار ہوتا ہے، ذہن ابھی دنیا کے شور میں داخل نہیں ہوتا، ماحول میں خاموشی اور سکون ہوتا ہے۔ اگر اسی لمحے فجر کی نماز میں عشاء جتنی رکعتیں ہوتیں، تو صبح کا آغاز عبادت سے نہیں بلکہ مشقت کے احساس سے ہوتا۔ مگر یہ اسلام ہے، جو انسان پر بوجھ نہیں ڈالتا۔ خالقِ کائنات انسان کی ساخت، اس کی حدود اور اس کی استعداد کو ہم سے بہتر جانتا ہے۔ اسی لیے فجر میں صرف دو رکعت سنت اور دو رکعت فرض مقرر کی گئیں، تاکہ بندہ آسانی سے اپنے ربّ کے حضور کھڑا ہو سکے۔ کیونکہ احادیث میں بھی آیا ہے جس کا مفہوم ہے کہ جو عمل خوش دلی سے کیا جائے اللہ اس کو پسند فرماتے ہیں چاہے وہ تھوڑا سا ہی کیوں نہ ہو۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں اسلام دیگر نظاموں سے ممتاز نظر آتا ہے۔ یہاں عبادت سزا نہیں، سہولت ہے؛ حکم جبر نہیں، حکمت ہے۔ پانچ وقت کی نماز انسان کو نظم بھی دیتی ہے اور سکون بھی۔ وہ انسان جو یہ سمجھتا ہے کہ عبادت زندگی سے وقت چھین لیتی ہے، دراصل اس حقیقت سے ناواقف ہے کہ نماز زندگی کو بامقصد بناتی ہے۔ یہی دین ِ فطرت کی اصل پہچان ہے۔

امیر محمد کلوڑ سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: اسلام نے

پڑھیں:

ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر

ایس یو سی کے مرکزی رہنماء نے رہبر معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ ڈیرہ اسماعیل خان جامعۃ النجف کوٹلی امام حسین میں گرمیوں کی چھٹیوں سے استفادہ کرتے ملت جعفریہ کے بچوں کے لیے پرنسپل جامعتہ النجف علامہ محمد رمضان توقیر کی نگرانی بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں ڈیرہ شہر اور مضافات سے کثیر تعداد میں بچوں نے شرکت کی۔اس دین شناسی شارٹ کورس میں بچوں کو قرآن وحدیث،وضو،صوم ،صلوات اور بنیادی فقہی احکام سے روشناس کرایا گیا۔ جس میں جامعتہ النجف کے دیگر مدرسین محنت و لگن کے ساتھ بچوں کی رہنمائی کرتے رہیں۔ دین شناسی شارٹ کورس کے آخر میں مدرسین نے اپنی محنت اور طلاب کرام کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے بچوں سے امتحان لیا۔اساتذہ کی محنت اور بچوں کی محنت قابلِ تعریف تھی۔تقسیم تقریب انعامات کا اہتمام کیا گیا۔

پرنسپل جامعہ علامہ محمد رمضان توقیر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اساتذہ کی محنت اور طلاب کرام کی امتحانات میں تسلی بخش نتائج کو سراہتے ہوئے کہا کہ انشاء اللہ اس طرح دین مبین کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور ملت کے جوانوں کی دینی تعلیم و تربیت کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہیں گے۔ اس موقع پر رہبرِ انقلاب کی دینی و انقلابی خدمات اور ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اسی قرآن و سنت کی آگاہی اور خدا تعالیٰ کی وحدانیت کے پختہ عقیدہ کی وجہ سے ایران کی حکومت اور عوام شیطان بزرگ کے خلاف استقامت اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے دن بدن حاوی ہوتی جا رہا ہے، جو قابلِ تعریف ہے۔ لیکن کچھ ناقدین آج بھی ایران کی استقامت اور کامیابیوں سے پریشان ہیں اور شیطان بزرگ کی خوشنودی کے لیے ایران پر تنقید کر رہے ہیں کہ ایران عرب ممالک پر حملہ کر رہا ہے۔

علامہ محمد رمضان توقیر نے کہا کہ ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے۔ اس موقع پر نئے رہبر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا گیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ تقریب تقسیم انعامات میں مدرسین اور معززین علاقہ نے شرکت کی اور امتحان میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلاب کرام کو انعامات سے نوازا گیا اور انکی حوصلہ افزائی کی گئی۔ امتِ مسلمہ کے اتحاد، ایران کی فتح و نصرت، پاکستان کی سلامتی اور شہدائے اسلام، بالخصوص رہبر شہید کے لئے دعا کی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف