Jasarat News:
2026-06-02@23:11:14 GMT

اسلام دین فطرت اور نام نہاد جدید اقدار

اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام کو اگر ایک جملے میں سمجھا جائے تو اسے بجا طور پر دین ِ فطرت کہا جا سکتا ہے، کیونکہ جو کچھ انسانی فطرت کے عین مطابق ہے، اسلام نے اسی کو اختیار کرنے کی دعوت دی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام اور جدید دور کی بہت سی خراب اور غیر فطری چیزوں کے درمیان ٹکراؤ ہوتا ہے۔ یہ ٹکراؤ دراصل قدامت اور جدت کا نہیں بلکہ فطرت اور بگاڑ کا ہے۔ اسلام نے جن بنیادی امور پر سب سے زیادہ زور دیا، ان میں صفائی اور پاکیزگی سرِفہرست ہے۔ دنیا کے کسی اور مذہب یا تہذیب نے صفائی کو وہ مقام نہیں دیا جو اسلام نے دیا۔ یہاں تک کہ صفائی کو نصف ایمان قرار دیا گیا۔ اگر ایمان کو سو فی صد مان لیا جائے تو اس کا پچاس فی صد حصہ صفائی سے متعلق ہے۔ جسم، لباس، ماحول اور دل کی پاکیزگی یہ سب اسلام کے نزدیک نہایت اہم ہیں۔ وضو کی پابندی انسان کو نہ صرف جسمانی بلکہ روحانی طور پر بھی پاکیزہ بناتی ہے، اور یہی وہ پہلو ہے جو جدید مادہ پرست معاشروں میں ناپید ہوتا جا رہا ہے۔

ہجرت کا وہ لمحہ تاریخ ِ انسانیت کا نہایت نازک ترین لمحہ تھا۔ قریش کے سردار، عرب کے قبائل اور یہودی خاندان سب کی نظریں ایک ہی ذات پر جمی ہوئی تھیں کہ کسی طرح محمدؐ مکہ سے نکل نہ پائیں۔ ہر طرف خطرہ تھا، ہر قدم پر جان جانے کا اندیشہ تھا، مگر ان حالات میں بھی رسولِ اکرمؐ نے اصولوں اور معاملات کی پاکیزگی پر کوئی سمجھوتا نہ کیا۔ جب یارِ غار ابوبکر صدیقؓ ہجرت کے لیے دو اونٹنیاں لے آئے ایک اپنے لیے اور ایک رسول اللہؐ کے لیے تو آپؐ نے فوراً دریافت فرمایا: ’’یہ اونٹنی کتنے کی خریدی گئی ہے؟‘‘

سیدنا ابوبکرؓ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ آپؐ کے لیے ہے۔ مگر نبی کریمؐ نے فرمایا کہ جب تک اس کی قیمت ادا نہ کر دی جائے، میں اس پر سوار نہیں ہوں گا۔ چنانچہ آپؐ نے اونٹنی کی پوری قیمت ادا فرمائی، پھر اس پر سوار ہوئے۔

سوچیے! جان خطرے میں ہے، دشمن تعاقب میں ہیں، مگر امانت، دیانت اور حق تلفی سے اجتناب ہر حال میں مقدم ہے۔ یہی اسلام ہے، یہی زمینی حقائق ہیں، یہی دین ِ فطرت ہے، اور یہی اس کی صداقت کی روشن ترین دلیل ہے۔

مغربی تہذیب، جو آج انسانی حقوق کی سب سے بڑی علمبردار بننے کی دعوے دار ہے، اپنی تاریخ پر نظر ڈالے تو اس کے چہرے سے بہت سے نقاب اُتر جاتے ہیں۔ عورت، جسے آج آزادی کے نام پر ایک شے بنا دیا گیا ہے، اسے بیسویں صدی تک بنیادی انسانی حقوق بھی نہیں دیے گئے تھے۔ امریکا جیسے ملک میں عورت کو ووٹ کا حق بھی بیسویں صدی میں جا کر ملا۔ سوال یہ ہے کہ جو معاشرہ صدیوں تک عورت کو سیاسی اور سماجی وجود دینے سے قاصر رہا، وہ آج عورت کی آزادی کا درس کیسے دے سکتا ہے؟ اس کے برعکس اسلام نے عورت کو ابتدا ہی سے عزت، وقار اور تحفظ عطا کیا۔ قرآنِ پاک میں عورت کے مقام کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ خواتین میں صرف سیدہ مریمؑ کا نام صراحت کے ساتھ آیا، باقی خواتین کا ذکر نسبت سے کیا گیا کسی کو فرعون کی بیوی کہا گیا، کسی کو ایک علاقے کی ملکہ، اور کسی کو نبی کی زوجہ۔ یہ اندازِ بیان خود اس بات کی دلیل ہے کہ اسلام عورت کی عزت کو نمائش نہیں بناتا بلکہ پردۂ احترام میں رکھتا ہے۔

نبی کریمؐ کی سیرتِ طیبہ عورت کے احترام کی عملی تفسیر ہے۔ آپؐ اپنی صاحبزادی کے احترام میں کھڑے ہو جاتے تھے۔ رات کے وقت اگر بیدار ہوتے تو اس قدر آہستگی اختیار کرتے کہ ازواجِ مطہرات کی نیند میں خلل نہ آئے۔ یہ بظاہر چھوٹے اعمال درحقیقت ایک گہرے شعور اور نفسیاتی حساسیت کی عکاسی کرتے ہیں، جو ایک مثالی اور فطرتی ازدواجی زندگی کی پہچان ہے۔

ہم اکثر اسلام کو احکام کی فہرست سمجھ لیتے ہیں، حالانکہ وہ انسان کی فطرت کا آئینہ ہے۔ نماز اس دین ِ فطرت کا سب سے مضبوط ستون ہے، بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ یہی اسلام کی روح ہے۔ ذرا فجر کی نماز پر غور کیجیے۔ انسان نیند سے بیدار ہوتا ہے، ذہن ابھی دنیا کے شور میں داخل نہیں ہوتا، ماحول میں خاموشی اور سکون ہوتا ہے۔ اگر اسی لمحے فجر کی نماز میں عشاء جتنی رکعتیں ہوتیں، تو صبح کا آغاز عبادت سے نہیں بلکہ مشقت کے احساس سے ہوتا۔ مگر یہ اسلام ہے، جو انسان پر بوجھ نہیں ڈالتا۔ خالقِ کائنات انسان کی ساخت، اس کی حدود اور اس کی استعداد کو ہم سے بہتر جانتا ہے۔ اسی لیے فجر میں صرف دو رکعت سنت اور دو رکعت فرض مقرر کی گئیں، تاکہ بندہ آسانی سے اپنے ربّ کے حضور کھڑا ہو سکے۔ کیونکہ احادیث میں بھی آیا ہے جس کا مفہوم ہے کہ جو عمل خوش دلی سے کیا جائے اللہ اس کو پسند فرماتے ہیں چاہے وہ تھوڑا سا ہی کیوں نہ ہو۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں اسلام دیگر نظاموں سے ممتاز نظر آتا ہے۔ یہاں عبادت سزا نہیں، سہولت ہے؛ حکم جبر نہیں، حکمت ہے۔ پانچ وقت کی نماز انسان کو نظم بھی دیتی ہے اور سکون بھی۔ وہ انسان جو یہ سمجھتا ہے کہ عبادت زندگی سے وقت چھین لیتی ہے، دراصل اس حقیقت سے ناواقف ہے کہ نماز زندگی کو بامقصد بناتی ہے۔ یہی دین ِ فطرت کی اصل پہچان ہے۔

امیر محمد کلوڑ سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: اسلام نے

پڑھیں:

جنگ امن اور معیشت کی کہانی

پاکستان کو اگر ترقی کے تناظر میں آگے بڑھنا ہے تواسے معاشی ترقی کو بنیاد بنانا ہوگا۔سیاست بھی عام آدمی یا محروم طبقات کے مفادات یا ان کو معاشی طور پر مستحکم کرنے سے جڑی ہونی چاہیے۔یہ عمل اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اول ہم داخلی ،علاقائی اور خارجی محاذ پر موجود تنازعات سے باہر نہیں نکلیں گے۔

دوئم ہمیں اپنے داخلی نظام میں شفافیت، جوابدہی،احتساب ،درست ترجیحات کا تعین ،وسائل کی منصفانہ تقسیم اور ادارہ جاتی عمل کو مضبوط کرنے اور ان کو آئین اور قانون کی حکمرانی کے تابع کرنے سے جوڑنا ہوگا۔امن ہماری بنیادی ضرورت ہے اور اہم بات یہ ہے کہ اس نظام میں وہ لوگ جو مختلف سیاسی ،سماجی اور معاشی یا قانونی انصاف کی محرومی کا شکار ہیں ان کونظرانداز کرکے ہم معاشی ترقی کے اہداف حاصل نہیں کرسکیں گے۔ لوگوںکے ذہن میں موجود سیاسی اور معاشی نظام نے اس کے مسائل کو اور زیادہ گھمبیر بنادیا ہے۔

علاقائی سیاست میں جو نئی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں ہمیں اس کے لیے جہاں اپنی علاقائی سطح کی پالیسیوں پر نئی فکر اور سوچ کو اختیار کرنا ہے وہیں اسی کی بنیاد پر اپنی داخلی سیاست کے خدوخال یا دائرہ کار میں بھی بنیادی نوعیت کی تبدیلیوں کی ضرورت ہے ۔بالخصوص جب ہمیں ایک ہی وقت میں بھارت اور افغانستان سے جنگ یا کشیدگی کا سامنا ہے یا ان دونوں ممالک کی بنیاد پر پاکستان مخالف گٹھ جوڑ یا ان کی پاکستان مخالف پراکسی کی موجودگی میں ہم اپنی داخلی اور علاقائی سیاست کو کیسے مضبوط کرسکیں گے ،اہم سوال بنتا ہے ۔

کیونکہ اب جو ہم نئی تبدیلیاں علاقائی یا خلیجی ممالک کی سطح پر دیکھ رہے ہیں اور جس انداز سے یو اے ای سمیت دیگر خلیجی ممالک کی پالیسیوں میں تبدیلیاں پیدا ہورہی ہیں اس میں ہمیں بھی ایک نئے فریم ورک کی ضرورت ہے ۔اسی طرح چین،روس،امریکا کی سطح پر جو حالات بن رہے ہیں ان میں ہمارے تعلقات کی نوعیت یاسیاسی و معاشی روابط کی بنیاد کیا ہوگی ۔بنیادی سوال انسانی ترقی کا ہے ۔لیکن کیا انسانی ترقی کے اس ماڈل میں ہم صرف اسلحہ اور جنگوں پر وسائل خرچ کرکے یا اپنے دفاع کو مضبوط کرکے انسانی ترقی کو نئی جہت دے سکیں گے اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ کسی بھی ریاست کا دفاع اس کی بنیادی ضرورت بنتا ہے اور بالخصوص موجودہ حالات میں دفاع کا مضبوط ہونا اہم ہے ۔لیکن اسی تناظر میں ایک متوازن پالیسی دفاع اور انسانی ترقی کی بنیاد پر قائم ہونی چاہیے اور یہ ہی تعلق بنیادی طور پر ریاست،حکومت اور شہریوں کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے اس کی ساکھ کو قائم کرنے میں مدد دے گا۔

بدقسمتی سے ہمیں علاقائی تعلقات کی بحالی میں جو تعاون بھارت اور افغانستان سے درکار ہے، اس میں کافی چیلنجز کا سامنا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ان دونوں ممالک کی ترجیحات میںپاکستان سے تعلقات کو بہتر بنانا ایجنڈے کا حصہ نہیں ۔اگرچہ پچھلے دنوں سے کچھ آوازیں ہمیں بھارت کی جانب سے سننے کو ملی ہیں جہاں کچھ بڑے انفرادی لوگوں نے مودی حکومت کو کہا ہے کہ وہ جنگ کے ماحول سے نکل کر پاکستان سے تعلقات کی بہتری میں بات چیت کے راستے کھولیں ۔لیکن کیا نریندر مودی کی حکومت اس معاملے میں کوئی بڑی پیش رفت دکھاتی ہے، اس پر کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا ۔لیکن ایک بات طے ہے کہ بھارت اور افغانستان سے پاکستان سے تعلقات کی بہتری محض ان ملکوں تک ہی محدود نہیں ہوگی بلکہ مجموعی طور پر علاقائی سیاست میں سیاسی اور معاشی استحکام دیکھنے کو ملے گا۔پا کستان،بھارت اور افغانستان کو تعلقات کی بہتری کے لیے موجودہ کشیدہ حالات کے خاتمہ میں غیر معمولی اقدامات اور اپنے قد سے اوپر اٹھ کر کچھ ایسا کرکے دکھانا ہوگا جو ان ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لاسکے ۔لیکن یہ عمل کسی سیاسی تنہائی میں نہیں ہوگا اس میں بڑی طاقتوں جن میں امریکا،چین اور روس کو ایک موثر سطح کا کردار ثالثی کا ادا کرنا ہوگا ۔

کیونکہ پاکستان ،بھارت اور افغانستان کے درمیان جو بھی تعلقات کی بہتری کا فریم ورک بنے گا وہ ان بڑے ممالک کی حمایت اور نگرانی کے ممکن نہیں ہے۔بالخصوص دہشت گردی جو پاکستان، بھارت اور افغانستان کا مشترکہ مسئلہ ہے اس کے لیے عملی طور پر ان ممالک کے درمیان اس سے نمٹنے کے لیے مشترکہ میکنزئم درکار ہے اور یہ عمل عالمی حمایت کے بغیر ممکن نہیں ۔کیونکہ محض الزام تراشی کی بنیاد پر مسائل کا علاج تلاش نہیں کیا جاسکے گا اور نہ ہی ان مسائل کا حل مزید جنگ یا تنازعات کو آگے بڑھانے سے ممکن ہوسکے گا لیکن کیا ہم اپنی اس حکمت عملی نظرثانی کے لیے تیار ہیں اس کا جواب بھی تلاش کرنا ہوگا۔یہ بات طے ہے کہ پاکستان سمیت کوئی بھی ملک اسٹیٹس کو کی بنیاد پر علاقائی تعلقات کی بہتری میں کوئی بڑی مثبت تبدیلیاں پیدا نہیں کرسکے گا اور نہ ہی معاملات بہتری کی طرف جاسکیں گے۔

لیکن سوال یہ ہی بنتا ہے کہ بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا اور کون معاملات کی درستگی کو ممکن بنانے میں پہل کرے گا یا ایسا کیا قدم اٹھائے گا جوعملا دوسروں کو ترغیب دے کہ وہ بھی امن کا راستہ بات چیت کی مدد سے طے کرے ۔مگر یہ جو اعتماد سازی یا بداعتمادی کا بحران ہے اس نے مجموعی طور پر علاقائی سیاست کو ایک بڑے بحران کی طرف دکھیل دیا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ہم اپنی حقیقی منزل سے کافی دور ہیں۔ان دوریوں کو ختم کرنا علاقائی سیاست اور ان میںشامل ممالک کی مشترکہ حکمت عملی کا حصہ ہونا چاہیے۔

جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو ایک طرف اسے علاقائی سیاست کا چیلنج ہے تو دوسری طرف حالات کی بہتری کے لیے اسے اپنے داخلی سطح کے معاملات کو درست کرنے پر بھی توجہ دینی ہوگی کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ ہم اپنے داخلی معاملات کو درست کیے بغیر علاقائی سیاست میں بہت کچھ حاصل کرسکیں گے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ موجودہ ایک برس میں ہم نے عالمی اور علاقائی سفارت کاری کی سطح پر اپنی صلاحیتوں کو خوب منوایا ہے اور اس کی ہر سطح پر پزیرائی بھی کی جارہی ہے۔لیکن اس کے باوجود ہم اپنے داخلی معاملات کی درستگی میں کچھ کمزوریوں کے پہلو ہم کو دیکھنے کو ملتے ہیں۔ہم جہاںعالمی ثالثی میں اپنا کردار ادار کررہے ہیں وہیںہماری داخلی سیاست کی تقسیم کے تناظر میں جو سیاسی کشیدگی اور سیاسی دشمنی یا سیاسی ڈیڈ لاک اسے بھی ختم کرنا ریاست اور حکمرانوں کی ذمے داری کے زمرے میں آتا ہے ۔یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہماری سیاسی تقسیم نے ہمیں مجموعی طور پر نہ صرف تقسیم کردیا ہے بلکہ اس کے نتیجے میں کشیدگی بھی بڑھ رہی ہے ۔اسی طرح قومی سیکیورٹی یا دہشت گردی سے جڑے مسائل بھی اہم ہیں اور موجودہ دہشت گردی کے داخلی واقعات نے ہمارے لیے سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں ۔

بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں مسلسل دہشت گردی جاری رہنا یا وہاں تسلسل کے ساتھ دہشت گردی کے واقعات کا ہونا، ہماری داخلی کمزوریوں کی نشاندہی کرتا ہے ۔گورننس سے جڑے معاملا ت کا حل تلاش نہ کرنا بھی ہماری مسلسل ناکامی کی نشاندہی کرتا ہے ۔18ویں ترمیم کے باوجود وفاق اور صوبوں کے درمیان گورننس سے مسائل کا حل تلاش نہ کرنا اور اس کا عام فرد پر براہ راست اثر انداز ہونالوگوں میںنظام کے بارے میں ایک بڑے ردعمل کی سیاست پیدا کررہا ہے۔یہ جو ہمارے ملک میں سرمائے کی کمی یا سرمایہ کاری کے نہ ہونے کا داخلی اور خارجی بحران ہے اس کی چند بڑی وجوہات میں ایک وجہ گورننس یا ادارہ جاتی نظام کی ناکامی سے جڑا ہوا بھی پہلو ہے۔

اگر ہم نے داخلی معاملات کو درست نہ کرنے کی سیاسی روش کو برقرار رکھا اور پرانے خیالات کے ساتھ ہی نظام کو چلانا ہے تو یہ نظام جدید تقاضوں کے مطابق نہیں چل سکے گا۔اہم نقطہ یہ ہے کہ پاکستان کے پالیسی سازوں کی عملا ترجیحات میں ہمیں مسلسل کمزوری کے پہلو دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ان امور کی نشاندہی مسلسل عالمی مالیاتی ادارے اور تھنک ٹینک بھی پیش کررہے ہیں کہ ہم اپنی داخلی درستگی کے لیے وہ کچھ نہیں کررہے جو ہمیں کرنا چاہیے۔سوال یہ ہی ہے کہ کیا ہم اپنی ترجیحات کو تبدیل کرسکیں گے یا ان تبدیلیوں کے تناظر میں ملک کی سطح پر کوئی بڑے دباؤ کی سیاست کو پیدا کیا جاسکے گا۔کیونکہ بدقسمتی سے جہاں حکمرانی کا نظام کمزور ہوا ہے وہیں دباو ڈالنے والی سیاست اور اس سے جڑے فریق بھی کمزور ہوئے ہیں،یہ بڑا المیہ بھی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
  •  محسن نقوی  کا نیشنل پولیس اکیڈمی اسلام آباد کا دورہ، ایم سی ایم سی کورس پر نظرثانی کی اصولی منظوری
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے
  • یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ برائے امور خارجہ آج اسلام آباد پہنچیں گی