Jasarat News:
2026-07-24@03:56:50 GMT

اسلام دین فطرت اور نام نہاد جدید اقدار

اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام کو اگر ایک جملے میں سمجھا جائے تو اسے بجا طور پر دین ِ فطرت کہا جا سکتا ہے، کیونکہ جو کچھ انسانی فطرت کے عین مطابق ہے، اسلام نے اسی کو اختیار کرنے کی دعوت دی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام اور جدید دور کی بہت سی خراب اور غیر فطری چیزوں کے درمیان ٹکراؤ ہوتا ہے۔ یہ ٹکراؤ دراصل قدامت اور جدت کا نہیں بلکہ فطرت اور بگاڑ کا ہے۔ اسلام نے جن بنیادی امور پر سب سے زیادہ زور دیا، ان میں صفائی اور پاکیزگی سرِفہرست ہے۔ دنیا کے کسی اور مذہب یا تہذیب نے صفائی کو وہ مقام نہیں دیا جو اسلام نے دیا۔ یہاں تک کہ صفائی کو نصف ایمان قرار دیا گیا۔ اگر ایمان کو سو فی صد مان لیا جائے تو اس کا پچاس فی صد حصہ صفائی سے متعلق ہے۔ جسم، لباس، ماحول اور دل کی پاکیزگی یہ سب اسلام کے نزدیک نہایت اہم ہیں۔ وضو کی پابندی انسان کو نہ صرف جسمانی بلکہ روحانی طور پر بھی پاکیزہ بناتی ہے، اور یہی وہ پہلو ہے جو جدید مادہ پرست معاشروں میں ناپید ہوتا جا رہا ہے۔

ہجرت کا وہ لمحہ تاریخ ِ انسانیت کا نہایت نازک ترین لمحہ تھا۔ قریش کے سردار، عرب کے قبائل اور یہودی خاندان سب کی نظریں ایک ہی ذات پر جمی ہوئی تھیں کہ کسی طرح محمدؐ مکہ سے نکل نہ پائیں۔ ہر طرف خطرہ تھا، ہر قدم پر جان جانے کا اندیشہ تھا، مگر ان حالات میں بھی رسولِ اکرمؐ نے اصولوں اور معاملات کی پاکیزگی پر کوئی سمجھوتا نہ کیا۔ جب یارِ غار ابوبکر صدیقؓ ہجرت کے لیے دو اونٹنیاں لے آئے ایک اپنے لیے اور ایک رسول اللہؐ کے لیے تو آپؐ نے فوراً دریافت فرمایا: ’’یہ اونٹنی کتنے کی خریدی گئی ہے؟‘‘

سیدنا ابوبکرؓ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ آپؐ کے لیے ہے۔ مگر نبی کریمؐ نے فرمایا کہ جب تک اس کی قیمت ادا نہ کر دی جائے، میں اس پر سوار نہیں ہوں گا۔ چنانچہ آپؐ نے اونٹنی کی پوری قیمت ادا فرمائی، پھر اس پر سوار ہوئے۔

سوچیے! جان خطرے میں ہے، دشمن تعاقب میں ہیں، مگر امانت، دیانت اور حق تلفی سے اجتناب ہر حال میں مقدم ہے۔ یہی اسلام ہے، یہی زمینی حقائق ہیں، یہی دین ِ فطرت ہے، اور یہی اس کی صداقت کی روشن ترین دلیل ہے۔

مغربی تہذیب، جو آج انسانی حقوق کی سب سے بڑی علمبردار بننے کی دعوے دار ہے، اپنی تاریخ پر نظر ڈالے تو اس کے چہرے سے بہت سے نقاب اُتر جاتے ہیں۔ عورت، جسے آج آزادی کے نام پر ایک شے بنا دیا گیا ہے، اسے بیسویں صدی تک بنیادی انسانی حقوق بھی نہیں دیے گئے تھے۔ امریکا جیسے ملک میں عورت کو ووٹ کا حق بھی بیسویں صدی میں جا کر ملا۔ سوال یہ ہے کہ جو معاشرہ صدیوں تک عورت کو سیاسی اور سماجی وجود دینے سے قاصر رہا، وہ آج عورت کی آزادی کا درس کیسے دے سکتا ہے؟ اس کے برعکس اسلام نے عورت کو ابتدا ہی سے عزت، وقار اور تحفظ عطا کیا۔ قرآنِ پاک میں عورت کے مقام کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ خواتین میں صرف سیدہ مریمؑ کا نام صراحت کے ساتھ آیا، باقی خواتین کا ذکر نسبت سے کیا گیا کسی کو فرعون کی بیوی کہا گیا، کسی کو ایک علاقے کی ملکہ، اور کسی کو نبی کی زوجہ۔ یہ اندازِ بیان خود اس بات کی دلیل ہے کہ اسلام عورت کی عزت کو نمائش نہیں بناتا بلکہ پردۂ احترام میں رکھتا ہے۔

نبی کریمؐ کی سیرتِ طیبہ عورت کے احترام کی عملی تفسیر ہے۔ آپؐ اپنی صاحبزادی کے احترام میں کھڑے ہو جاتے تھے۔ رات کے وقت اگر بیدار ہوتے تو اس قدر آہستگی اختیار کرتے کہ ازواجِ مطہرات کی نیند میں خلل نہ آئے۔ یہ بظاہر چھوٹے اعمال درحقیقت ایک گہرے شعور اور نفسیاتی حساسیت کی عکاسی کرتے ہیں، جو ایک مثالی اور فطرتی ازدواجی زندگی کی پہچان ہے۔

ہم اکثر اسلام کو احکام کی فہرست سمجھ لیتے ہیں، حالانکہ وہ انسان کی فطرت کا آئینہ ہے۔ نماز اس دین ِ فطرت کا سب سے مضبوط ستون ہے، بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ یہی اسلام کی روح ہے۔ ذرا فجر کی نماز پر غور کیجیے۔ انسان نیند سے بیدار ہوتا ہے، ذہن ابھی دنیا کے شور میں داخل نہیں ہوتا، ماحول میں خاموشی اور سکون ہوتا ہے۔ اگر اسی لمحے فجر کی نماز میں عشاء جتنی رکعتیں ہوتیں، تو صبح کا آغاز عبادت سے نہیں بلکہ مشقت کے احساس سے ہوتا۔ مگر یہ اسلام ہے، جو انسان پر بوجھ نہیں ڈالتا۔ خالقِ کائنات انسان کی ساخت، اس کی حدود اور اس کی استعداد کو ہم سے بہتر جانتا ہے۔ اسی لیے فجر میں صرف دو رکعت سنت اور دو رکعت فرض مقرر کی گئیں، تاکہ بندہ آسانی سے اپنے ربّ کے حضور کھڑا ہو سکے۔ کیونکہ احادیث میں بھی آیا ہے جس کا مفہوم ہے کہ جو عمل خوش دلی سے کیا جائے اللہ اس کو پسند فرماتے ہیں چاہے وہ تھوڑا سا ہی کیوں نہ ہو۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں اسلام دیگر نظاموں سے ممتاز نظر آتا ہے۔ یہاں عبادت سزا نہیں، سہولت ہے؛ حکم جبر نہیں، حکمت ہے۔ پانچ وقت کی نماز انسان کو نظم بھی دیتی ہے اور سکون بھی۔ وہ انسان جو یہ سمجھتا ہے کہ عبادت زندگی سے وقت چھین لیتی ہے، دراصل اس حقیقت سے ناواقف ہے کہ نماز زندگی کو بامقصد بناتی ہے۔ یہی دین ِ فطرت کی اصل پہچان ہے۔

امیر محمد کلوڑ سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: اسلام نے

پڑھیں:

عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران

پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی سحر کامران کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں پیش آنے والے واقعے پر اب تک معافی نہیں مانگی جبکہ وزیراعظم کو اپنے وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لینا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے اگلے وزیراعظم بلاول بھٹو زرداری، سینیٹر سحر کامران نے دعویٰ کیوں کیا؟

وی ایکسکلوسیو میں گفتگو کرتے ہوئے سحر کامران نے بتایا کہ قائمہ کمیٹی کے اجلاس کے دوران انہوں نے وزارت اور متعلقہ سیکریٹری سے سوال کیا تھا کہ کمیٹی کے اجلاس میں تقریباً 12 ارب روپے مالیت کے 14 منصوبوں کی منظوری لی گئی تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ بجٹ میں 14 ارب روپے سے زائد مالیت کے 17 منصوبے منظور کیے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کا صرف یہ سوال تھا کہ وہ 3 اضافی منصوبے کون سے تھے جو قائمہ کمیٹی کے سامنے پیش نہیں کیے گئے۔ ان کے بقول انہوں نے پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) سے متعلق بھی ایجنڈے کے مطابق چند سوالات کیے لیکن اسی دوران وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اونچی آواز میں گفتگو کرنے لگے جس سے انہیں شدید تضحیک کا احساس ہوا۔

سحر کامران کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس صورتحال پر واک آؤٹ کرنے کا فیصلہ کیا تاہم ان کے مطابق عطا اللہ تارڑ نے دوبارہ بلند آواز میں کہا کہ ’یہ ممبر کمیٹی کو ہائی جیک کرنا چاہتی ہیں‘، حالانکہ ان کے بقول انہوں نے ایسا کوئی اقدام نہیں کیا تھا۔

مزید پڑھیے: امریکا ایران مذاکرات، پیپلز پارٹی کا کردار پسِ منظر میں کیوں؟

رکن قومی اسمبلی نے مزید کہا کہ یہ پہلا موقع نہیں تھا کہ عطا اللہ تارڑ کے رویے پر انہیں اعتراض ہوا ہو۔ ان کے مطابق اس سے قبل بھی ایک پارلیمانی سوال کے جواب میں وزیر اطلاعات نے ان کے سوال کا متعلقہ جواب نہیں دیا تھا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ جب انہوں نے قومی اسمبلی میں اس معاملے کی نشاندہی کی تو عطا اللہ تارڑ نے جواب دیا کہ میرا یہی کام ہے کہ سوال جیسا بھی ہو جواب میں اپنی مرضی کا دیتا ہوں۔

سحر کامران نے سپیکر قومی اسمبلی کے رویے پر بھی اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ایوان میں جانبداری محسوس ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ اس سے قبل بھی ایک وفاقی وزیر کی جانب سے پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان کے ساتھ بھی نامناسب رویہ اختیار کیا گیا تھا۔

سحر کامران نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ وزرا کے رویے کا نوٹس لیں اور پارلیمانی روایات کے مطابق ارکان کے ساتھ احترام پر مبنی طرز عمل یقینی بنائیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے جمہوریت اور آئین کی بالادستی کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ ان کے بقول پارٹی آج بھی جمہوریت کے استحکام کی خاطر وفاقی حکومت کی اتحادی ہے تاہم اسی وجہ سے کابینہ کا حصہ نہیں بنی۔

مزید پڑھیں: عطا تارڑ کا بڑا ایکشن: واجبات کی ادائیگی تک نجی ٹی وی کے اشتہارات بند کا اعلان

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی ملک کے تمام صوبوں کے علاوہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں بھی نمایاں نمائندگی موجود ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

رکن قومی اسمبلی سحر کامران سحر کامران کو عطا تارڑ سے شکایت وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ

متعلقہ مضامین

  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • آج کہاں کہاں بادل برسیں گے ،محکمہ موسمیات نے بڑی پیشگوئی کردی
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف