Jasarat News:
2026-06-02@22:15:27 GMT

پہلی ششماہی میں منافع اور ڈیونڈ کی منتقلی میں27فیصد اضافہ

اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی (کامرس رپورٹر) رواں مالی سال کی پہلی ششماہی کے دوران غیر ملکی سرمایہ کاروں کی جانب سے منافع اور ڈیوڈنڈ کی منتقلی میں 27 فیصد کا تیزی سے اضافہ ہوا جو پاکستان سے حاصل شدہ آمدنی کے بیرونِ ملک اخراج میں شدت کو ظاہر کرتا ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی ایک رپورٹ کے مطابق ملک میں کام کرنے والی غیر ملکی کمپنیوں نے مالی سال 2026 کے جولائی تا دسمبر کے دوران 1.

559 ارب ڈالر کا منافع اور ڈیوڈنڈ اپنے ممالک واپس بھیجا جبکہ گزشتہ سال کے اسی عرصے میں یہ رقم 1.226 ارب ڈالر تھی۔ اس اضافے کا مطلب یہ ہے کہ براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری اور فارن پورٹ فولیو انویسٹمنٹ پر حاصل ہونے والے منافع کی مد میں مزید 333 ملین ڈالر بیرونِ ملک بھیجے گئے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ منافع اور ڈیوڈنڈ کی واپسی میں یہ اضافہ جہاں بعض غیر ملکی ملکیتی کاروبار کے بہتر منافع کو ظاہر کرتا ہے، وہاں گزشتہ سال کے مقابلے میں زرمبادلہ (فارن ایکسچینج) کی نسبتاً آسان منتقلی کی بھی عکاسی کرتا ہے۔تفصیلی تجزیے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ بیرونِ ملک بھیجی گئی رقم کا بڑا حصہ براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری پر حاصل ہونے والے منافع پر مشتمل تھا، کیونکہ کثیر القومی کمپنیوں نے بجلی، ٹیلی کمیونیکیشن اور مالیاتی خدمات جیسے شعبوں سے حاصل کردہ منافع منتقل کیا۔ تاہم، پورٹ فولیو انویسٹمنٹ کے تحت منافع کی واپسی میں کمی کا رجحان دیکھا گیا، باوجود اس کے کہ اسٹاک مارکیٹ کی کارکردگی میں بہتری آئی ہے۔اسٹیٹ بینک کے مطابق تقریباً 96 فیصد رقم براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری پر حاصل ہونے والے منافع کی مد میں بیرونِ ملک بھیجی گئی جبکہ بقیہ 4 فیصد رقم فارن پورٹ فولیو انویسٹمنٹ سے منتقل ہوئی۔ غیر ملکی سرمایہ کاروں نے گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے کے 1.16 ارب ڈالر کے مقابلے میں رواں سال 1.5 ارب ڈالر ایف ڈی آئی کے منافع کی مد میں واپس بھیجے جو کہ 29 فیصد یا 337 ملین ڈالر کا اضافہ ظاہر کرتا ہے۔زیرِ جائزہ مدت کے دوران، فارن پورٹ فولیو انویسٹمنٹ پر حاصل ہونے والا منافع 60 ملین ڈالر رہا جو گزشتہ سال کے اسی عرصے میں ریکارڈ کیے گئے 64 ملین ڈالر سے معمولی کم ہے۔ماہانہ بنیادوں پر دسمبر 2025 میں تقریباً 89 ملین ڈالر بیرونِ ملک منتقل کیے گئے، جس میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کی مد میں 81 ملین ڈالر اور پورٹ فولیو انویسٹمنٹ کے منافع کے طور پر 8 ملین ڈالر شامل ہیں۔پہلی ششماہی میں مالیاتی شعبے سے منافع اور ڈیوڈنڈ کا سب سے زیادہ اخراج ریکارڈ کیا گیا جو 369 ملین ڈالر رہا، جبکہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں یہ رقم 164 ملین ڈالر تھی۔ پاور سیکٹر (بجلی کا شعبہ) دوسرے نمبر پر رہا۔

کامرس رپورٹر گلزار

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: راست غیر ملکی سرمایہ کاری سال کے اسی عرصے پر حاصل ہونے ملین ڈالر کی مد میں منافع کی مالی سال ارب ڈالر کرتا ہے

پڑھیں:

فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان

پُرتعیش گاڑیاں بنانے والی عالمی شہرت یافتہ کمپنی فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی منظرِ عام پر آتے ہی شدید تنقید کی زد میں آ گئی، جس کے اثرات کمپنی کی مارکیٹ پوزیشن پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔

’لُوچے‘نامی اس نئی الیکٹرک گاڑی کو معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے تخلیقی وژن کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اطالوی زبان میں ’لُوچے‘  کا مطلب ’روشنی‘ ہے۔ تاہم، گاڑی کا ڈیزائن اور مجموعی تصور صارفین اور ناقدین کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔

فراری کی تاریخ میں پہلی بار متعارف کرائی گئی پانچ نشستوں والی اس الیکٹرک گاڑی کو غیرمعمولی کارکردگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔

کمپنی کے مطابق یہ گاڑی محض ڈھائی سیکنڈ میں صفر سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔ اس کی قیمت 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر، یعنی پاکستانی کرنسی میں تقریباً 18 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔

گاڑی کی تقریبِ رُونمائی میں اٹلی کی اہم شخصیات سمیت ملک کے صدر اور عیسائی برادری کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم، شاندار تقریب کے باوجود مارکیٹ کا ردِعمل فراری کے لیے حوصلہ افزا ثابت نہ ہو سکا۔

رونمائی کے صرف ایک دن بعد ہی کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں آٹھ فی صد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جسے سرمایہ کاروں کی مایوسی اور مارکیٹ کے منفی ردِعمل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب ناقدین، سرمایہ کاروں اور بعض سیاسی شخصیات نے بھی گاڑی کے ڈیزائن اور تصور پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے منفرد انداز کو لے کر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی مارکیٹ میں فراری کا یہ قدم تاریخی ضرور ہے، مگر کمپنی کو روایتی اسپورٹس کار کے شوقین صارفین کو قائل کرنے کے لیے مزید محنت کرنا پڑ سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • پہلی ہی گیند پر وکٹ: شاہین آفریدی پاکستان کے عظیم کپتانوں کی فہرست میں شامل
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • بٹ کوائن کی تاریخی گراوٹ، سرمایہ کاروں کے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • کرپٹو ٹریڈنگ پر 15 تا 30 فیصد کیپیٹل گین ٹیکس عائد ہونے کا امکان، ذرائع
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ