Jasarat News:
2026-07-24@00:53:27 GMT

پہلی ششماہی میں منافع اور ڈیونڈ کی منتقلی میں27فیصد اضافہ

اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی (کامرس رپورٹر) رواں مالی سال کی پہلی ششماہی کے دوران غیر ملکی سرمایہ کاروں کی جانب سے منافع اور ڈیوڈنڈ کی منتقلی میں 27 فیصد کا تیزی سے اضافہ ہوا جو پاکستان سے حاصل شدہ آمدنی کے بیرونِ ملک اخراج میں شدت کو ظاہر کرتا ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی ایک رپورٹ کے مطابق ملک میں کام کرنے والی غیر ملکی کمپنیوں نے مالی سال 2026 کے جولائی تا دسمبر کے دوران 1.

559 ارب ڈالر کا منافع اور ڈیوڈنڈ اپنے ممالک واپس بھیجا جبکہ گزشتہ سال کے اسی عرصے میں یہ رقم 1.226 ارب ڈالر تھی۔ اس اضافے کا مطلب یہ ہے کہ براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری اور فارن پورٹ فولیو انویسٹمنٹ پر حاصل ہونے والے منافع کی مد میں مزید 333 ملین ڈالر بیرونِ ملک بھیجے گئے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ منافع اور ڈیوڈنڈ کی واپسی میں یہ اضافہ جہاں بعض غیر ملکی ملکیتی کاروبار کے بہتر منافع کو ظاہر کرتا ہے، وہاں گزشتہ سال کے مقابلے میں زرمبادلہ (فارن ایکسچینج) کی نسبتاً آسان منتقلی کی بھی عکاسی کرتا ہے۔تفصیلی تجزیے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ بیرونِ ملک بھیجی گئی رقم کا بڑا حصہ براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری پر حاصل ہونے والے منافع پر مشتمل تھا، کیونکہ کثیر القومی کمپنیوں نے بجلی، ٹیلی کمیونیکیشن اور مالیاتی خدمات جیسے شعبوں سے حاصل کردہ منافع منتقل کیا۔ تاہم، پورٹ فولیو انویسٹمنٹ کے تحت منافع کی واپسی میں کمی کا رجحان دیکھا گیا، باوجود اس کے کہ اسٹاک مارکیٹ کی کارکردگی میں بہتری آئی ہے۔اسٹیٹ بینک کے مطابق تقریباً 96 فیصد رقم براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری پر حاصل ہونے والے منافع کی مد میں بیرونِ ملک بھیجی گئی جبکہ بقیہ 4 فیصد رقم فارن پورٹ فولیو انویسٹمنٹ سے منتقل ہوئی۔ غیر ملکی سرمایہ کاروں نے گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے کے 1.16 ارب ڈالر کے مقابلے میں رواں سال 1.5 ارب ڈالر ایف ڈی آئی کے منافع کی مد میں واپس بھیجے جو کہ 29 فیصد یا 337 ملین ڈالر کا اضافہ ظاہر کرتا ہے۔زیرِ جائزہ مدت کے دوران، فارن پورٹ فولیو انویسٹمنٹ پر حاصل ہونے والا منافع 60 ملین ڈالر رہا جو گزشتہ سال کے اسی عرصے میں ریکارڈ کیے گئے 64 ملین ڈالر سے معمولی کم ہے۔ماہانہ بنیادوں پر دسمبر 2025 میں تقریباً 89 ملین ڈالر بیرونِ ملک منتقل کیے گئے، جس میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کی مد میں 81 ملین ڈالر اور پورٹ فولیو انویسٹمنٹ کے منافع کے طور پر 8 ملین ڈالر شامل ہیں۔پہلی ششماہی میں مالیاتی شعبے سے منافع اور ڈیوڈنڈ کا سب سے زیادہ اخراج ریکارڈ کیا گیا جو 369 ملین ڈالر رہا، جبکہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں یہ رقم 164 ملین ڈالر تھی۔ پاور سیکٹر (بجلی کا شعبہ) دوسرے نمبر پر رہا۔

کامرس رپورٹر گلزار

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: راست غیر ملکی سرمایہ کاری سال کے اسی عرصے پر حاصل ہونے ملین ڈالر کی مد میں منافع کی مالی سال ارب ڈالر کرتا ہے

پڑھیں:

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی

امریکا ایران جنگ، آبنائے ہرمز کی بندش، مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت نے سابقہ ریکارڈ توڑ دیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ مئی کے بعد پہلی مرتبہ ہے کہ برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل کی نفسیاتی حد بھی عبور کر کی گئی جس سے عالمی معیشت، مہنگائی اور توانائی کی فراہمی کے حوالے سے نئے خدشات جنم لے رہے ہیں۔

عالمی معیار کے خام تیل برینٹ کروڈ کی قیمت میں جمعرات کو چھ فیصد سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے بعد یہ 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئی کیوں کہ سرمایہ کاروں نے اس خدشے سے خریداری بڑھا دی کہ اگر خطے میں جنگ مزید پھیلی تو عالمی تیل کی سپلائی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔

قیمتوں میں اس غیرمعمولی اضافے کی بڑی وجہ یمن کے ایران نواز حوثی گروپ کی جانب سے بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی پر حملے ہیں۔ حوثیوں نے حالیہ دنوں میں سعودی آئل ٹینکروں اور دیگر تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا۔

بحیرہ احمر اور باب المندب عالمی تجارت کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتے ہیں جہاں سے یورپ، ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان بڑی مقدار میں تیل اور تجارتی سامان کی ترسیل ہوتی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حملوں کے بعد سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکا حوثیوں کے ساتھ ساتھ ایران کو بھی ان حملوں کا ذمہ دار سمجھتا ہے کیونکہ ان کے بقول حوثی تہران کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔

صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں خبردار کیا ہے کہ اگر بحیرہ احمر میں جہاز رانی پر حملے جاری رہے تو امریکا جواب میں حوثیوں اور ایران دونوں کے خلاف بڑی فوجی سزا دینے سے گریز نہیں کرے گا۔

توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے اوپر برقرار رہتی ہیں تو دنیا بھر میں ایندھن، بجلی اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے جس سے مہنگائی کی نئی لہر پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔

اگر کشیدگی بحیرہ احمر سے بڑھ کر آبنائے ہرمز تک پھیل گئی جہاں سے دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ خام تیل کی ترسیل ہوتی ہے تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مزید بلند ہو سکتی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز
  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • سونے کی قیمت میں اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے ہوگیا
  • وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
  • اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
  • عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے تجاوز کر گئیں
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی