Juraat:
2026-07-24@02:09:35 GMT

عوام میں دولت تقسیم کرنے کا آسان نسخہ

اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT

عوام میں دولت تقسیم کرنے کا آسان نسخہ

آج کل
۔۔۔۔۔۔۔
رفیق پٹیل

جس طرح ترقی یافتہ ممالک نے ترقی کی ہے اچھی حکمرانی کے ذریعے عوام کو خوشحال بنایا ہے ان ممالک کواس بنیادی اصول سے مکمل آگہی ہے کہ صنعت ،تجارت اور زراعت کو فروغ دینے کے لیے عوام کو متحرک کرنا اور انہیں با اختیار کرنا انتہائی ضروری ہے، اس آسان کلیہ پر عمل کرکے پاکستان بھی معاشی بحران کا خاتمہ کرکے تیز رفتار ترقی کر سکتا ہے۔ لوگوں کی آمدنی میں تین سے چار گنا تک اضافہ ہو سکتا ہے۔ ہمارے بیشتر مبصرین اور دانشور حضرات اس بات کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہونگے ان پر تنقیدغیر ضروری ہے ۔یہ مبصرین اس لیے حق بجانب ہیںکہ پاکستان کے موجودہ سیاسی اور معاشی بحران کو دیکھ کر کسی کو بھی یہ یقین نہیں آئے گا کہ ناقص حکمرانی کے خاتمے اور اچھی حکمرانی کاراستہ کیسے تلاش کیا جاسکتا ہے۔ ان مبصرین کا موضوع بھی عموماً حالات حاضرہ اور واقعات سے متعلق ہوتا ہے۔
پاکستان کے موجودہ حکمران اپنے ذاتی مفادات کے حصار میں گھرے ہوئے ہیںوہ سیاسی اور معاشی اصلاحات کو اپنے مفادات کے لیے خطرہ تصور کر نے کی وجہ سے اس سے دور بھاگ رہے ہیںکہ رائے عامہ ان کے حق میں نہیں ہے۔ شاید وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اصلاحات کے لیے منصفانہ انتخابات ہوئے تو نتائج ان کے حق میں نہیں ہوںگے ۔ عمران خان جیل سے نکل کر ان کے لیے مزید مشکلات پیدا کریں گے۔ عمران خان بھی اس وقت تک رہا ہونے کے لیے تیار نہیںہیں جب تک عدالتیں انہیں رہا نہیں کریںگی ۔ان کی منظر عام پر آنے والی گفتگو ظاہر کرتی ہے کہ وہ تمام عمر جیل میں رہنے یا پھانسی کی سزا کے لیے بھی خود کو تیار کر چکے ہیں۔ ان تمام تر حالات کے باوجود ایک ایسا پاکستان ممکن ہے جہاں ایسا امن و امان ہو کہ کم آمدنی والے عام آدمی سے لے کر ہر دولت مند شخص خود کو مکمل محفوظ تصورکر ے۔ ملک کے ہر کونے میں بلا خوف وخطر بغیر کسی محافظ کے سفر کرسکے۔ صنعت ،تجارت اور زراعت کو فروغ حاصل ہو ۔برآمدات میں تیز رفتاری سے اضافہ ہورہا ہو ۔بہتریں سڑکیں ،ریلوے اور دیگر ٹرانسپورٹ کا جدیدنظام ہو ملک بھر میں صفائی کا بہترین نظا م ہو لوگوں کو صحت اور دیگر بنیادی ضروریات میسر ہوں۔ اشیائے صرف ،اشیائے خورونوش کی قیمت کم ہو ۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ معیشت جمود کا شکار ہے۔ اسے تسلیم کیے بغیر مسائل حل نہیں ہونگے ۔اس جمود کی کی کیفیت سے نکلنے کے لیے سیاسی استحکام کی ضرورت ہے۔ پاکستان کو اس جمود سے نکلنے اور ترقی کی جانب گامزن کرنے کے حکمران طبقہ اور اشرافیہ کی اس بات پر آمادگی ضروری ہے کہ وہ آئین اور قانون کی پاسداری کریں اور ایک انصاف پسند معاشرے میں رہنے کے لیے تیار ہوں ،جس طرح وہ بیرون ملک جاکر تمام قوانین کی پابندی کرتے ہیں ۔اسی طرح پاکستان میں بھی وہی طرز عمل اختیار کریں۔
دنیا میں کئی مما لک نے بحرانوں پر قابو پا کر ترقی کی ہے ۔ان ممالک کے تجربات سے فائدہ اٹھا یا جا سکتاہے جس میں ایک مثال جنوبی کوریا کی بھی ہے۔ جنوبی کوریا جو ماضی میں انتہائی غربت اور پسماندگی میں مبتلا تھا ۔اب دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں شامل ہے۔ جنوبی کو ریا نے زرعی اصلاحات کے ذریعے بڑی زمینداری کاخاتمہ کیا اور چھوٹے کاشتکار وں کو ترجیح دی۔ 1962 میں معیشت کی ترقی کا ادارہ قائم کیا جس کے تحت پنج سالہ معاشی ترقیاتی منصوبہ تشکیل دیا۔ کہا جاتا ہے کہ کوریا کے ایک وفد نے پاکستان کا دورہ کرکے پاکستانی پنج سالہ منصوبے کا جائزہ لے کر اس کی نقل کی تھی لیکن وہ اس میں وقت کے ساتھ اصلاحات بھی کرتے رہے ،جب کہ پاکستان میں ہر کا م سرخ فیتے اور بدعنوانی کی زد میں آگیا۔ جنوبی کوریا نے ابتدا میں ٹیکسٹائل پر توجہ دی۔ برآمدات پر خصوصی توجہ دی۔ بھاری مشینری اور الیکٹرانک مصنوعات تیار کی اور بیرون ملک بھیجنے کا سلسلہ جاری رکھا ۔سام سنگ اور ایل جی نے دنیا میں دھوم مچادی تعلیم کے شعبے اصلاحات کے ذریعے تعلیم یافتہ ہنرمند افراد کی فوج تیار کی۔ سب سے اہم کا م بہترین سڑکوں کا جال ،جدید ریلوے،بجلی ،پانی اورگیس کی فراہمی کاموثر نظام تھا جس کی وجہ سے چھوٹی صنعتوں اور کاروبا ر کو فروغ ہوا ۔ہر سطح پر قانون کی عملداری یقینی بنائی گئی، انصاف کے حصول کو آسان بنایا گیا۔نوجوان نسل کی حوصلہ افزائی کی گئی۔ ملک کی تعمیر اور ترقی میں ان کے کردار کو خصوصی اہمیت دی گئی جس کے زبردست نتائج حاصل ہوئے۔ کوریا نے سول سوسائٹی کے ساتھ مل کر حکومتی سطح پر کام کیا جس سے معاشرے میں ایمانداری ، باہمی تعاون اور انسانی حقوق کو فروغ ملا۔ اسی طرح ایک مثال سنگاپور کی ہے جو سیاسی اور معاشی اصلاحات کے ذریعے ترقی کی منزلیں طے کر چکا ہے۔ آج کا دور مصنوعی ذہانت کا دور ہے، جب اس سوال کا جواب مصنوعی ذہانت کے ذریعے تلاش کیا جاتا ہے ــ کہ ’ـ’ کوئی ملک سیاسی اور معاشی عدم استحکام پر کیسے قابو پا سکتا ہے؟‘‘اس سوال کا فوری جواب آجاتا ہے کہ کوئی بھی ملک ہمہ گیر ،وسیع اور جامع اصلاحات کے ذریعے سیاسی اور معاشی عدم استحکام پر قابو پاسکتا ہے جس کا ایک اہم پہلوTH INCLUSIVIE GROWہے، جس کا مطلب ہے ایسی معاشی ترقی جس میں معاشرے کے تمام طبقات خاص طور پر غریب اور کمزور گروہ برابر کے شریک ہوںاور ترقی کے ثمرات سے مستفیذ ہوسکیں۔خوشحالی چند امیروں تک محدود نہ ہو،سب کوبرابر کے مواقع ملیں اور زندگی کا معیار بہتر ہو ۔دوسرا پہلو اداروں کو مستحکم کرنا ہے، دیگر اقدامات میں قانون کی حکمرانی، پالیسی کا تسلسل،بدعنوانی کا خاتمہ اور تمام سیاسی قوتوں کے درمیان مذاکرات کے ذریعے دیرپا استحکام،آزادانہ منصفانہ اور غیرجانبدارانہ انتخابات کا انعقادہے۔ اختیارات کی نچلی سطح تک تقسیم بھی اس کا ایک پہلو ہے۔ دوسرے اہم اقدامات میں معاشی پایسی کا تسلسل،غیر ملکی سرمایہ کاری،مالیاتی پالیسی،روزگا ر میں اضافہ اور قیمتوں کا کنٹرول شامل ہے ۔
پاکستان کے تجزیہ نگار وں مبصرین کو پاکستان کے بہتر مستقبل کوموضوع بحث بنانا چاہیے ۔پاکستان کے آئین کے مطابق پاکستان میں خدا کے بعد پاکستان کے عوام کی حاکمیت ہوگی ۔عوام اپنا اختیا ر اپنے منتخب نمائندو ں پر مشتمل پارلیمنٹ کے ذریعے استعمال کریں گے ۔یہ آئین کی بنیادی روح ہے جب انتخابات میں دھاندلی ہوتی ہے تو آئین پامال ہوتا ہے اور عوام کی حق تلفی ہوتی ہے اور جب دھاندلی انتہائی وسیع پیمانے پر ہو تو آئین کی بنیاد ختم ہوجاتی ہے ۔ پاکستان کے تمام سیاسی اور با اختیار حلقوں کو اس پیچیدہ مسئلے کو وسیع مذاکرات سے حل کرنا ہوگا۔ موجودہ نظام کے بارے میں یہ تصور کرلینا کہ سیاسی اور معاشی استحکام آچکا ہے، ایک خوش فہمی ہو سکتی ہے۔ معمولی سوجھ بوجھ رکھنے والا بھی اسے تسلیم کرنے کو تیار نہ ہوگا۔بعض مبصرین کی جانب سے کہا جارہا ہے کہ موجودہ غیر نمائندہ پارلیمنٹ ایک اور آئینی ترمیم کرنے والی ہے جس میں ووٹر کی عمر میں اضافہ کیا جاجائے گا ۔ا یسی صورت میں مزید منفی اثرات کا خدشہ ہے۔ نوجوانوں کاتعلق پاکستان اور اپنی علاقائی دھرتی سے مزید جوڑنے کی ضرورت ہے۔ منصفانہ انتخابات کے نتائج پر بھی کوئی اثر نہیں ہوگا ۔چاہے عمر کی حد90سال ہی کیوں نہ کی جائے ۔نوجوان اپنے بڑوں کو راضی کر لیں گے جس طرح عام طور پر نوجوان اپنے والدین سے اپنی بات منوا تے ہیں ۔عمر کی پابندی کے بعدنوجوان مزید زور وشور سے اس کوشش میں لگ جائیں گے ۔عمومی طور پر یہ عمل بھی ناپسندیدہ کہلائے گا اور الٹی نالی کی بندوق سے فائر کے مترادف ہوگا۔
٭٭٭

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: اصلاحات کے ذریعے سیاسی اور معاشی پاکستان کے جنوبی کو کو فروغ ترقی کی کے لیے

پڑھیں:

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے، چین نے مکئی کی درآمد کے لئے پاکستانی تاجروں کی رجسٹریشن بھی شروع کردی ہے ۔

تفصیلات کے مطابق رائس ایکسپورٹرز ایسوسی کے وفد کا دورہ چین کامیابی سے جاری ہے ، جس دوران چاول کی برآمد کیلئے چین کے دو صوبوں کے ساتھ  وفد نے ایم او یو سائن کر لیے ہیں، 30 سے 40 کروڑ ڈالر مالیت کے چاول کی فروخت کے معاہدے متوقع ہیں ہیں۔رائس ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین جاوید جیلانی کا کہناتھا کہ چین کو پاکستان سے مکئی کی برآمد بھی جلد شروع ہو جائے گی،چین کو باسمتی اور نان باسمتی دونوں اقسام کے چاول برآمد کریں گے،رواں مالی سال چاول کی برآمدات دوبارہ 3ارب ڈالر کی سطح عبور کر جائیں گی، چین کا دورہ جاری ہے مزید آرڈرز ملنے کا امکان ہے۔

اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم

مزید :

متعلقہ مضامین

  • کلچر کب تہذیب بنتا ہے
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل