امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ مجھے یورپ سے پیار ہے مگر وہ سیدھے راستے پر نہیں چل رہا، گرین لینڈ کے معاملے پر اگر ہاں کی گئی تو شکرگزار رہوں گا، لیکن اگر ناں کی گئی تو اسے یاد رکھا جائےگا۔

ورلڈ اکنامک فورم سے خطاب میں صدر ٹرمپ نے فخریہ انداز میں کہا کہ جب امریکا ترقی کرتا ہے تو دنیا بھی اس کے ساتھ ترقی کرتی ہے۔ انہوں نے خطاب کے آغاز میں وینزویلا کی صورتحال پر بھی تفصیل سے گفتگو کی، اور کہاکہ جیسا وینزویلا نے امریکا کے ساتھ معاہدہ کیا ویسا ہی دیگر ممالک کو بھی کرنا چاہیے۔

مزید پڑھیں: پاکستان نے صدر ٹرمپ کی ‘غزہ بورڈ آف پیس‘ میں شمولیت کی دعوت قبول کرلی

صدر ٹرمپ نے پیش گوئی کی کہ نکولس مادورو کی برطرفی کے بعد وینزویلا امریکی کنٹرول میں شاندار کارکردگی دکھائے گا اور اگلے 6 ماہ میں وہ اتنا مالی فائدہ حاصل کرے گا جتنا پچھلے 20 سالوں میں نہیں ہوا۔

انہوں نے کہاکہ وینزویلا میں حالیہ بڑی کارروائی کے بعد ہر بڑی آئل کمپنی امریکا کے ساتھ کام کررہی ہے، جو ان کے بقول حیران کن ہے۔

صدر ٹرمپ نے وینزویلا کی عبوری صدر دلسی رودریگز کی قیادت میں چلنے والی انتظامیہ کی تعریف کرتے ہوئے کہاکہ وہ امریکی حکام کے ساتھ موثر تعاون کررہی ہے۔ صدر ٹرمپ نے اس اقدام کو سراہا اور دیگر ممالک کو بھی اسی طرح کے معاہدوں پر عمل کرنے کا مشورہ دیا۔

یورپی ممالک کے حوالے سے امریکی صدر نے کہاکہ بعض حصے اب پہچان میں نہیں آتے اور ان کی ترقی کی رفتار مناسب نہیں ہے۔

انہوں نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ گرین انرجی پر ضرورت سے زیادہ توجہ اور عوامی ہجرت نے یورپ کو نقصان پہنچایا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے گرین لینڈ کو برف کا ایک اہم علاقہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کی مکمل ملکیت اور قانونی حق امریکا کو دیا جائے تاکہ اس کا دفاع ممکن ہو۔

انہوں نے وضاحت کی کہ لیز یا لائسنس پر لی گئی جگہ کا دفاع ممکن نہیں، جبکہ ملکیت کے ساتھ دفاع کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔

صدر نے گرین لینڈ کی ملکیت کو نیٹو کے لیے خطرہ نہیں بتایا اور کہا کہ امریکا کے ساتھ غیر منصفانہ برتاؤ کے باوجود اس اقدام سے نیٹو کی سیکیورٹی مضبوط ہوگی۔

امریکی صدر نے کہاکہ امریکا پوری دنیا کا معاشی انجن ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی معیشت ان کے دور میں تیزی سے ترقی کر رہی ہے، مہنگائی میں کمی آئی ہے اور تجارتی پالیسیوں نے امریکا کو ترقی کی جانب گامزن کیا ہے۔

مزید پڑھیں: ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر پاک بھارت جنگ رکوانے کا ذکر چھیڑ دیا

انہوں نے وینزویلا کی مدد کے حوالے سے کہاکہ وہاں صورتحال بہتر ہو رہی ہے اور مستقبل میں زیادہ مالی فوائد ہوں گے کیونکہ بڑی آئل کمپنیاں امریکا کے ساتھ وہاں کام کر رہی ہیں۔

صدر ٹرمپ نے یورپی ممالک پر بھی زور دیا کہ وہ اصلاحات پر توجہ دیں تاکہ ترقی کی راہ پر آگے بڑھ سکیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ معاہدہ وی نیوز وینزویلا یورپ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ معاہدہ وی نیوز وینزویلا یورپ امریکا کے ساتھ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ گرین لینڈ انہوں نے نے کہا کہا کہ

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم