یورپ سیدھے راستے پر نہیں چل رہا، گرین لینڈ کے معاملے پر ہاں کی تو شکر گزار رہوں گا، ڈونلڈ ٹرمپ
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ مجھے یورپ سے پیار ہے مگر وہ سیدھے راستے پر نہیں چل رہا، گرین لینڈ کے معاملے پر اگر ہاں کی گئی تو شکرگزار رہوں گا، لیکن اگر ناں کی گئی تو اسے یاد رکھا جائےگا۔
ورلڈ اکنامک فورم سے خطاب میں صدر ٹرمپ نے فخریہ انداز میں کہا کہ جب امریکا ترقی کرتا ہے تو دنیا بھی اس کے ساتھ ترقی کرتی ہے۔ انہوں نے خطاب کے آغاز میں وینزویلا کی صورتحال پر بھی تفصیل سے گفتگو کی، اور کہاکہ جیسا وینزویلا نے امریکا کے ساتھ معاہدہ کیا ویسا ہی دیگر ممالک کو بھی کرنا چاہیے۔
مزید پڑھیں: پاکستان نے صدر ٹرمپ کی ‘غزہ بورڈ آف پیس‘ میں شمولیت کی دعوت قبول کرلی
صدر ٹرمپ نے پیش گوئی کی کہ نکولس مادورو کی برطرفی کے بعد وینزویلا امریکی کنٹرول میں شاندار کارکردگی دکھائے گا اور اگلے 6 ماہ میں وہ اتنا مالی فائدہ حاصل کرے گا جتنا پچھلے 20 سالوں میں نہیں ہوا۔
انہوں نے کہاکہ وینزویلا میں حالیہ بڑی کارروائی کے بعد ہر بڑی آئل کمپنی امریکا کے ساتھ کام کررہی ہے، جو ان کے بقول حیران کن ہے۔
صدر ٹرمپ نے وینزویلا کی عبوری صدر دلسی رودریگز کی قیادت میں چلنے والی انتظامیہ کی تعریف کرتے ہوئے کہاکہ وہ امریکی حکام کے ساتھ موثر تعاون کررہی ہے۔ صدر ٹرمپ نے اس اقدام کو سراہا اور دیگر ممالک کو بھی اسی طرح کے معاہدوں پر عمل کرنے کا مشورہ دیا۔
یورپی ممالک کے حوالے سے امریکی صدر نے کہاکہ بعض حصے اب پہچان میں نہیں آتے اور ان کی ترقی کی رفتار مناسب نہیں ہے۔
انہوں نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ گرین انرجی پر ضرورت سے زیادہ توجہ اور عوامی ہجرت نے یورپ کو نقصان پہنچایا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے گرین لینڈ کو برف کا ایک اہم علاقہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کی مکمل ملکیت اور قانونی حق امریکا کو دیا جائے تاکہ اس کا دفاع ممکن ہو۔
انہوں نے وضاحت کی کہ لیز یا لائسنس پر لی گئی جگہ کا دفاع ممکن نہیں، جبکہ ملکیت کے ساتھ دفاع کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔
صدر نے گرین لینڈ کی ملکیت کو نیٹو کے لیے خطرہ نہیں بتایا اور کہا کہ امریکا کے ساتھ غیر منصفانہ برتاؤ کے باوجود اس اقدام سے نیٹو کی سیکیورٹی مضبوط ہوگی۔
امریکی صدر نے کہاکہ امریکا پوری دنیا کا معاشی انجن ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی معیشت ان کے دور میں تیزی سے ترقی کر رہی ہے، مہنگائی میں کمی آئی ہے اور تجارتی پالیسیوں نے امریکا کو ترقی کی جانب گامزن کیا ہے۔
مزید پڑھیں: ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر پاک بھارت جنگ رکوانے کا ذکر چھیڑ دیا
انہوں نے وینزویلا کی مدد کے حوالے سے کہاکہ وہاں صورتحال بہتر ہو رہی ہے اور مستقبل میں زیادہ مالی فوائد ہوں گے کیونکہ بڑی آئل کمپنیاں امریکا کے ساتھ وہاں کام کر رہی ہیں۔
صدر ٹرمپ نے یورپی ممالک پر بھی زور دیا کہ وہ اصلاحات پر توجہ دیں تاکہ ترقی کی راہ پر آگے بڑھ سکیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ معاہدہ وی نیوز وینزویلا یورپ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ معاہدہ وی نیوز وینزویلا یورپ امریکا کے ساتھ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ گرین لینڈ انہوں نے نے کہا کہا کہ
پڑھیں:
امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
امریکا کے ریپبلکن اکثریتی ایوان نمائندگان (ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز) نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیاں روکنے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کر لی جسے کانگریس کی جانب سے صدر ٹرمپ کے لیے ایک اور علامتی پیغام قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آبنائے ہرمز میں کسی بھی جہاز پر حملہ ہوا تو ایران کا بنیادی ڈھانچہ تباہ کردیں گے، ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی
قرارداد 214 کے مقابلے میں 208 ووٹوں سے منظور ہوئی جبکہ چار ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیتے ہوئے اس کی حمایت کی۔
یہ قرارداد واشنگٹن سے تعلق رکھنے والی ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال نے پیش کی جس میں صدر ٹرمپ کو ہدایت دی گئی ہے کہ کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف امریکی مسلح افواج کی کارروائیاں بند کی جائیں۔
تاہم ماہرین کے مطابق اس قرارداد کی حیثیت زیادہ تر علامتی ہے، کیونکہ حالیہ مہینوں میں بھی کانگریس اس نوعیت کی متعدد قراردادیں منظور کر چکی ہے مگر ان کے نتیجے میں جنگی کارروائیاں نہیں رک سکیں۔
مزید پڑھیے: ایران مذاکرات کے لیے بے تاب، لیکن بامعنی بات چیت ہی ہوگی، ڈونلڈ ٹرمپ
قرارداد کی حمایت کرنے والے چار ریپبلکن ارکان میں ٹام بیریٹ (مشی گن)، برائن فٹزپیٹرک (پنسلوانیا)، وارن ڈیوڈسن (اوہائیو) اور تھامس میسی (کینٹکی) شامل ہیں۔
Today, the House PASSED my bipartisan War Powers Resolution to end the war in Iran by a vote of 214-208.
This is a big victory for the vast majority of Americans who want President Trump to end this illegal war and focus on their lives right here at home. pic.twitter.com/ZaE3NtTJdP
— Rep. Pramila Jayapal (@RepJayapal) July 23, 2026
اگرچہ ریپبلکن پارٹی کو ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں معمولی برتری حاصل ہے تاہم اس قرارداد کی منظوری کو صدر ٹرمپ کی پالیسیوں پر اپنی ہی جماعت کے بعض ارکان کے تحفظات کی علامت بھی قرار دیا جا رہا ہے۔
ادھر امریکی سینیٹ میں بھی ایران سے متعلق ایک علیحدہ مگر ملتی جلتی قرارداد پر ووٹنگ متوقع تھی۔
یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں مزید شدت لانے کا اعلان کیا ہے اور امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کی بھی تصدیق کی ہے۔
مزید پڑھیں: ایران کو ایک امریکی فوجی کے قتل کی کئی گنا زیادہ قیمت چکانی پڑےگی، ڈونلڈ ٹرمپ کی تہران کو وارننگ
صدر ٹرمپ نے جمعرات کو ایران اور اس کے اتحادی یمنی حوثی گروپ کو بڑی فوجی سزا دینے کا عندیہ دیا۔ دوسری جانب، عارضی جنگ بندی کے مؤثر طور پر ختم ہونے کے 2 ہفتے بعد امریکی فوج نے ایران پر ایک اور رات فضائی حملے کیے، جس کے جواب میں ایران نے پڑوسی ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا امریکی ایوان نمائندگان ایران امریکا کشیدگی ٹرمپ کو جنگ روکنے کی ہدایت ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز