جوہری پروگرام بحال ہوا تو کارروائی کریں گے، صدر ٹرمپ کی ایران کو ایک بار پھر سخت وارننگ
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو جوہری پروگرام کے حصول سے متعلق ایک بار پھر سخت وارننگ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کو اپنی جوہری سرگرمیاں فوری طور پر بند کرنا ہوں گی، بصورت دیگر امریکا کارروائی کرنے پر مجبور ہوگا۔
امریکی میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اگر ایران نے دوبارہ جوہری پروگرام بحال کیا تو اس کے خلاف سخت اقدامات کیے جائیں گے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ماضی میں امریکا کی کارروائی نے ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روک دیا تھا۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق اگر امریکا نے ایران کے ایٹمی تنصیبات کو نشانہ نہ بنایا ہوتا تو ایران دو ماہ کے اندر جوہری ہتھیار حاصل کر لیتا۔ انہوں نے کہا کہ ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش ترک کر دینی چاہیے۔
مزید پڑھیںحماس نے چند دنوں میں ہتھیار نہ ڈالے تو اُسے نیست و نابود کرکے رکھدیں گے؛ ٹرمپ
آیت اللہ خامنہ ای کو نشانہ بنایا تو اُن کی دنیا کو آگ لگا دیں گے؛ ایران
انٹرویو کے دوران امریکی صدر نے امید ظاہر کی کہ ایران کے خلاف مزید کسی فوجی کارروائی کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔ تاہم انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران میں سڑکوں پر اندھا دھند لوگوں کو نشانہ بنایا جا رہا تھا، لیکن ان کی جانب سے فوجی کارروائی کی دھمکی کے بعد ایرانی حکام نے سینکڑوں افراد کو پھانسی دینے کا ارادہ ترک کر دیا۔
اس سے قبل صدر ٹرمپ نےفلسطینی تنظیم حماس کو بھی سخت واننگ دیتے ہوئے کہا تھا کہ حماس نے چند دنوں میں ہتھیار نہ ڈالے تو اُسے نیست و نابود کرکے رکھدیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور مذاکرات سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار رہیں۔
منگل کے روز برینٹ خام تیل 95.04 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) 91.99 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔ دونوں بینچ مارکس گزشتہ سیشن میں 5 فیصد سے زائد اضافے کے بعد مستحکم رہے۔
سرمایہ کاروں کی توجہ خاص طور پر آبنائے ہرمز کی ممکنہ بحالی اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی پر مرکوز ہے۔ امریکی صدر نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور جلد کسی معاہدے کی امید ہے تاہم ایرانی میڈیا کے مطابق بات چیت میں تعطل بھی سامنے آیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں موجود اتار چڑھاؤ کا دارومدار امریکا-ایران مذاکرات اور خطے کی صورتحال پر ہے۔ دوسری جانب لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جزوی جنگ بندی کو کشیدگی کم کرنے کی محدود کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ خلیجی علاقے میں کشیدگی کے باعث تیل اور ایل این جی کی عالمی ترسیل متاثر ہوئی جس سے قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔