بنگلہ دیش کے آئندہ عام انتخابات جو ملک کے مستقبل کا فیصلہ کریں گے
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
بنگلہ دیش اپنی حالیہ تاریخ کے سب سے فیصلہ کن سیاسی مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ آئندہ قومی انتخابات جنہیں 2008 کے بعد سب سے معتبر قرار دیا جا رہا ہے ایسے وقت منعقد ہونے جا رہے ہیں جب ملک گہری غیر یقینی صورتحال، منقسم سیاست اور بڑھتی ہوئی نظریاتی کشیدگی کا شکار ہے۔
اگرچہ جمہوری تجدید کی امیدیں بلند ہیں، مگر ملک کے مستقبل کو شکل دینے والی قوتیں ایک پیچیدہ اور نازک حقیقت کی نشاندہی کرتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: بنگلہ دیش: چیف الیکشن کمشنر کی تمام فریقین سے شفاف انتخابات کے لیے تعاون کی اپیل
عوامی لیگ کے بغیر غیر معمولی مقابلہدہائیوں میں پہلی بار انتخابات عوامی لیگ کی شرکت کے بغیر ہونے جا رہے ہیں، یہ جماعت بنگلہ دیش کی پرانی اور طاقتور ترین سیاسی جماعتوں میں شمار ہوتی رہی ہے۔ اس عدم موجودگی نے سیاسی میدان یکسر بدل دیا ہے۔ سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ، جو 5 اگست 2024 کو اقتدار سے بے دخل ہوئیں، بھارت میں پناہ لینے پر مجبور ہوئیں، یوں عوامی لیگ کے تقریباً 17 سالہ مسلسل اقتدار کا خاتمہ ہوا۔
شیخ حسینہ کی روانگی کے بعد عوام میں سیاسی تبدیلی کی امید جاگی، مگر یہ خلا ادارہ جاتی اصلاحات یا وسیع جمہوری اتفاقِ رائے سے پُر نہ ہو سکا۔ اس کے برعکس، اسلامی جماعتیں خصوصاً جماعتِ اسلامی اور اس کی فکری ہم خیال جماعتیں یا نئی قائم ہونے والی نیشنل سٹیزن پارٹی (NCP) اور اسلامی اندولن بنگلہ دیش تیزی سے اثر و رسوخ بڑھانے میں کامیاب ہو گئیں۔
بی این پی کی عوامی حمایت اور تنظیمی کمزوریبنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) اس انتخاب میں ایک واضح برتری کے ساتھ داخل ہو رہی ہے جس میں مضبوط قوم پرستانہ ووٹ بینک اور برسوں کی ریاستی دباؤ کے باعث عوامی ہمدردی شامل ہے۔ داخلی انتشار کے باوجود، پارٹی انتخابی لحاظ سے اب بھی مضبوط ہے۔
یہ بھی پڑھیے: بنگلہ دیش: طلبہ تنظیم کا الیکشن کمیشن کا دوسرے روز بھی گھیراؤ، مظاہرین کیا چاہتے ہیں؟
گزشتہ 17 برسوں میں بی این پی کا تنظیمی ڈھانچہ شدید متاثر ہوا۔ عوامی لیگ کے دور میں متعدد نچلی سطح کے رہنما قتل، لاپتہ یا جلاوطنی پر مجبور ہوئے۔
اس کی نمایاں مثال صلاح الدین احمد ہیں، جنہیں 2015 میں ڈھاکا سے اغوا کیا گیا اور وہ ہفتوں بعد بھارت میں نمودار ہوئے، وہ شیخ حسینہ کے زوال کے بعد ہی وطن واپس آ سکے۔ ایسے واقعات کے باعث بی این پی کو زمینی سطح پر تجربہ کار قیادت کی کمی کا سامنا ہے۔
اس کے باوجود انتخابی حساب کتاب بی این پی کے حق میں ہے۔ بڑے سیاسی جھٹکوں سے قبل ہونے والے سرویز میں بی این پی جماعتِ اسلامی پر سبقت لے جاتی دکھائی دی۔ انٹرنیشنل ریپبلکن انسٹیٹیوٹ کے دسمبر کے سروے کے مطابق بی این پی کی حمایت 33 فیصد جبکہ جماعتِ اسلامی 29 فیصد پر تھی۔ حتیٰ کہ جماعت نواز اداروں کے سرویز میں بھی بی این پی معمولی برتری برقرار رکھتی نظر آئی۔
اسلام پسند ابھار اور عوامی سیاستگزشتہ 17 ماہ میں جماعتِ اسلامی کی تبدیلی نمایاں رہی ہے۔ ایک سخت گیر کیڈر جماعت سے اب یہ خود کو عوامی فلاح اور مذہبی قوم پرستی کے امتزاج کے ساتھ ایک عوامی (پاپولسٹ) قوت کے طور پر پیش کر رہی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق جماعت بھارت کی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سیاسی طریقۂ کار کی نقل کی کوشش کر رہی ہے، خاص طور پر اکثریتی بیانیے اور منظم سوشل میڈیا مہم کے حوالے سے۔
یہ بھی پڑھیے: جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے وفد کی چیف ایڈوائزر سے ملاقات، آئندہ انتخابات پر گفتگو
نارتھ ساؤتھ یونیورسٹی کے لیکچرار جلال الدین شکدر کے مطابق ‘انتخابی مہم اور سیاسی بیانیے کے اعتبار سے ہمیں بھارت کی بی جے پی اور بنگلہ دیش کی جماعتِ اسلامی میں کئی مماثلتیں نظر آتی ہیں۔’
شہری علاقوں میں جماعت فلاحی منصوبوں اور بدعنوانی مخالف نعروں کو اجاگر کرتی ہے، جبکہ دیہی علاقوں میں اس کا پیغام زیادہ مذہبی رنگ اختیار کر لیتا ہے، حتیٰ کہ بعض مقامات پر یہ دعویٰ بھی کیا جاتا ہے کہ جماعت کو ووٹ دینا اخروی نجات کا ذریعہ ہے۔
ناقدین جماعت پر منظم سوشل میڈیا ‘ٹرول نیٹ ورکس’ استعمال کرنے اور ‘ایماندار قیادت’ کی شبیہ گھڑنے کا الزام بھی لگاتے ہیں جس طرح بھارت میں 2014 کے انتخابات سے قبل نریندر مودی کو پیش کیا گیا تھا۔
نیشنل سٹیزن پارٹی یعنی این سی پی، جو ابتدا میں ایک ممکنہ اعتدال پسند متبادل سمجھی جا رہی تھی، اب اپنی ساکھ کھو چکی ہے اور وسیع حلقوں میں جماعتِ اسلامی کی انتخابی اتحادی کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔
اہم واقعات کے بعد بدلتا ہوا منظرنامہابتدائی سرویز کئی اہم پیش رفتوں کا احاطہ نہیں کر سکے مثلاً بی این پی کے قائم مقام چیئرمین طارق رحمان کی 17 سالہ جلاوطنی کے بعد واپسی؛ سابق وزیر اعظم خالدہ ضیا کی وفات؛ اور انتہا پسند گروہوں کی بڑھتی ہوئی پرتشدد کارروائیاں۔
یہ بھی پڑھیے: بنگلہ دیش: دہائیوں بعد جماعت اسلامی ایوان قتدار کے بہت قریب پہنچ گئی، الجزیرہ کی رپورٹ
دسمبر 2025 میں روزنامہ پروتھوم آلو کے لیے کیے گئے ایک بعد ازاں سروے میں عوامی رائے میں واضح تبدیلی سامنے آئی۔
سروے کے مطابق 47.
سروے کی اشاعت کے چند ہی دن بعد پروتھوم آلو اور ڈیلی اسٹار کے دفاتر پر آتشزدگی کے حملے ہوئے، جنہوں نے میڈیا برادری میں شدید تشویش پیدا کر دی اور انتخابی مہم سے قبل صحافتی آزادی پر سوالات اٹھا دیے۔
شفاف انتخاب کو درپیش خطرات22 جنوری سے انتخابی مہم کے آغاز کے ساتھ بنگلہ دیش کو متعدد چیلنجز درپیش ہیں:
دائیں بازو اور مذہبی انتہاپسندی کا ابھار
منظم سوشل میڈیا نیٹ ورکس کے ذریعے غلط معلومات کی یلغار
انتخابی تشدد کا خطرہ، خصوصاً میڈیا اور سیاسی مخالفین کے خلاف
بیرونی مداخلت کے امکانات، کھلے یا خفیہ انداز میں
فیصلہ کن لمحہیہ انتخاب محض اقتدار کی جنگ نہیں بلکہ بنگلہ دیش کی سیاسی شناخت پر ریفرنڈم ہے۔ بی این پی کی فتح مسابقتی انتخابی سیاست کی واپسی کا عندیہ دے سکتی ہے، اگرچہ جماعت تنظیمی کمزوریوں کا شکار رہے گی۔
اس کے برعکس، جماعتِ اسلامی کی مضبوط کارکردگی ایک ایسے ملک میں مذہبی قوم پرستی کے مرکزی دھارے میں آنے کی علامت ہوگی جس کی بنیاد سیکولر اصولوں پر رکھی گئی تھی۔
یہ بھی پڑھیے: غیرقانونی اسلحہ اور جعلی کرنسی کی ترسیل، بنگلہ دیش میں انتخابات پر منڈلاتے خطرات
اس نازک موڑ پر انتخابی عمل کی شفافیت، صحافیوں کا تحفظ اور جمہوری اداروں کی مضبوطی ہی یہ طے کرے گی کہ بنگلہ دیش کی دیرینہ منتقلی حقیقی تجدید ثابت ہوتی ہے یا ایک اور ضائع شدہ موقع۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
Bangladesh Elections BNP Jamat Islami Bangladesh NCP انتخابات بنگلہ دیش بی این پی ڈھاکا
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انتخابات بنگلہ دیش بی این پی ڈھاکا بنگلہ دیش کی عوامی لیگ بی این پی کے مطابق کے بعد رہی ہے
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔