شہری کی معمولی سی غفلت، ہیٹر بند ہونے پر گھر برفانی قلعے کا منظر پیش کرنے لگا
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
کینیڈا کے صوبے کیوبیک میں شدید سردی کے دوران ایک حیران کن واقعہ پیش آیا، جہاں ایک شہری کی معمولی سی غفلت اس کے لیے بھاری نقصان کا سبب بن گئی۔
شہری سخت سرد موسم میں اپنے گھر کا ہیٹر بند کرکے کہیں چلے گیا جس کے نتیجے میں چند ہی گھنٹوں میں گھر کا درجۂ حرارت نقطۂ انجماد سے بھی نیچے چلا گیا اور پورا گھر برف میں تبدیل ہو گیا۔
مقامی ذرائع کے مطابق پانی کی پائپ لائنز جم گئیں، دیواروں اور فرش پر برف کی تہہ جم گئی جبکہ گھریلو سامان بھی شدید متاثر ہوا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ کیوبیک جیسے علاقوں میں سردیوں کے دوران ہیٹر بند کرنا انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ منفی درجۂ حرارت میں گھروں کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔
انتظامیہ نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ شدید سردی میں گھروں کا ہیٹنگ سسٹم ہرگز بند نہ کریں اور طویل غیر حاضری کی صورت میں مناسب حفاظتی انتظامات ضرور کریں تاکہ ایسے خطرناک اور نقصان دہ واقعات سے بچا جا سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔
کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔