City 42:
2026-06-02@23:30:50 GMT

لاہور کے پارکوں اور گرین بیلٹس میں پتنگ بازی پر پابندی عائد

اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT

سٹی42:شہر لاہور میں پتنگ بازی کے باعث پیش آنے والے حادثات اور سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر پارکوں، گرین بیلٹس اور سبزہ زاروں میں پتنگ بازی پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

پارکس اینڈ ہارٹیکلچر اتھارٹی (پی ایچ اے) لاہور کی جانب سے شہر کے تمام زونز کے ڈائریکٹرز کو باقاعدہ مراسلہ جاری کر دیا گیا ہے، جس میں پارکوں، گرین بیلٹس اور سبزہ زاروں میں پتنگ بازی پر پابندی پر سختی سے عملدرآمد کی ہدایت کی گئی ہے۔

بادل گرجنے برسنے کو تیار لیکن کب؟محکمہ موسمیات کی بڑی پیشگوئی

مراسلے میں واضح کیا گیا ہے کہ تمام ڈائریکٹرز اپنے زیرِ انتظام پارکوں میں اس پابندی پر عملدرآمد یقینی بنائیں گے اور احکامات کی خلاف ورزی کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی۔ پی ایچ اے کے مطابق پابندی کی خلاف ورزی کی صورت میں متعلقہ زون ڈائریکٹرز ذمہ دار ہوں گے۔

مراسلے میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر احکامات پر مکمل عملدرآمد نہ ہوا تو ذمہ دار افسران کے خلاف محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ 

مال بٹورنے کی خاطر 5 شادیاں کرنے والی لٹیری دلہن انجام کو پہنچ گئی  

.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: سٹی42 میں پتنگ بازی

پڑھیں:

گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ

اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔

سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔

ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔

ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔

اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔

متعلقہ مضامین

  • مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
  • اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
  • بی ایم ڈبلیو سے 5 لاکھ جرمانہ وصولی، ڈی ایچ اے ویجیلینس سے جواب طلب
  • کرپٹو ٹریڈنگ پر 15 تا 30 فیصد کیپیٹل گین ٹیکس عائد ہونے کا امکان، ذرائع
  • بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد
  • پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع
  • سیکیورٹی خدشات: ڈرون اڑانے پر پابندی میںمزید 30 دن کی توسیع
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
  • بجٹ میں کرپٹو کرنسی کے لین دین پر ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی