لاہور: گجومتہ کے قریب گارمنٹس فیکٹری میں آتشزدگی
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
سٹی42: لاہور کے علاقے گجومتہ کے قریب ایک گارمنٹس فیکٹری میں آگ لگ گئی، تاہم ریسکیو ٹیموں کی بروقت کارروائی کے باعث بڑے نقصان سے بچاؤ ممکن ہو گیا۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق گجومتہ کے قریب واقع شان گارمنٹس فیکٹری میں اچانک آگ بھڑک اٹھی، جس سے فیکٹری کے عملے اور اطراف کے علاقوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ اطلاع ملتے ہی ریسکیو ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچ گئیں اور امدادی کارروائیاں شروع کر دیں۔
پنجاب میں ملکی تاریخ کے پہلی گرین پولیسنگ یونٹ کا افتتاح
ریسکیو اہلکاروں نے پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے کچھ ہی دیر میں آگ پر مکمل طور پر قابو پا لیا۔ ریسکیو حکام کے مطابق واقعے میں خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
آگ لگنے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے، جبکہ فیکٹری میں ہونے والے مالی نقصان کا تخمینہ بھی لگایا جا رہا ہے۔
دوسری جانب لاہور کے کینال روڈ پر ریسکیو ایمبولینس کا ٹائر پھٹنے کے باعث حادثہ پیش آیا، جس کے نتیجے میں ایمبولینس بے قابو ہو کر نہر میں جا گری۔حادثے کے نتیجے میں ایمبولینس ڈرائیور اور میڈیکل ٹیکنیشن معمولی زخمی ہو گئے، جنہیں فوری طور پر ریسکیو ٹیموں نے نہر سے نکال کر ابتدائی طبی امداد فراہم کی۔ ریسکیو ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں زخمیوں کی حالت خطرے سے باہر ہے۔
لاہور کے پارکوں اور گرین بیلٹس میں پتنگ بازی پر پابندی عائد
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: سٹی42 فیکٹری میں
پڑھیں:
نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
لاہور ہائی کورٹ---فائل فوٹولاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ باپ نابالغ بچے کے مستقبل کے نان نفقے کا حق کسی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے ختم نہیں کر سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست پر تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
عدالت نے معاہدے کی بنیاد پر بچے کا نان نفقہ ختم کرنے سے متعلق باپ کی اپیل خارج کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ، فیملی کورٹ اور اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے ہیں۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ درخواست گزار کے مطابق بورڈنگ کارڈ جاری ہونے کے بعد اچانک آف لوڈ کیا گیا اور صرف اس خدشے پر سفر سے روکا گیا کہ شاید دبئی سے واپس نہ آئے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق فریقین کی شادی 2002ء میں ہوئی تھی جبکہ 2005ء میں طلاق ہو گئی، طلاق کے بعد خاندان کے بڑوں نے دونوں فریقین کے درمیان ایک معاہدہ کروایا جس کے تحت شوہر بچے کے نان نفقے کے حوالے سے 60 ہزار روپے ادا کرے گا۔
عدالتی حکم نامے کے مطابق خاتون نے 2019ء میں بچے کے نان نفقے کا دعویٰ دائر کیا جس پر درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ معاہدے کے باوجود دعویٰ دائر کرنا غیر قانونی ہے تاہم عدالت نے قرار دیا کہ مالی تنگی بھی باپ کی نان نفقے کی ذمے داری ختم نہیں کر سکتی اور نابالغ بچے کا نان نفقہ باپ پر مستقل جاری رہنے والا فریضہ ہے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کسی نجی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے نابالغ بچے کا نان نفقے کا حق ختم نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے واضح کیا ہے کہ نان نفقہ باپ پر صرف قانونی ہی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمے داری بھی ہے جبکہ غیر ادا شدہ نان نفقہ باپ پر قابلِ نفاذ قرض ہے جو ختم نہیں ہو سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے باپ کی درخواست خارج کرتے ہوئے فیصلے کی کاپی لاء اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارتِ قانون و انصاف کو بھی بھیجنے کا حکم دیا ہے۔