پاکستان کی زرعی شعبہ میں تاریخ ساز پیش رفت، عالمی شراکت داری کا روشن باب
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
ایس آئی ایف سی کی فعال سفارتی و معاشی حکمتِ عملی سے پاکستان عالمی اسٹریٹجک شراکت داریوں کے نئے دور میں داخل ہوگیا ہے۔
زرعی شعبہ میں اہم کامیابیوں کے ساتھ پاکستان نے چین اور انڈونیشیا کے ساتھ زرعی و اقتصادی تعاون میں اہم سنگِ میل عبور کیا ہے۔
پاکستان اور چین کے درمیان زرعی شعبہ میں 79 کمپنیوں کے ساتھ 4.
دوسری جانب وزیرِ تجارت جام کمال خان اور انڈونیشیا کے سفیر چاندرا وارسنانتو سوکوٹجون کی اہم ملاقات ہوئی جس میں پاکستان اور انڈونیشیا کے مابین چاول کی تجارت اور زرعی شعبہ میں تعاون کے فروغ پر اتفاق کیا گیا۔
وزیرِ تجارت کا کہنا تھا کہ پاکستان دنیا کے صفِ اول کے چاول برآمد کنندگان میں شامل ہے جس نے معیار اور اعتماد کے ساتھ عالمی مارکیٹ میں اپنی پہچان بنائی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے تجارتی اور اقتصادی تعلقات برآمدات میں اضافہ اور بین الاقوامی مارکیٹ میں پاکستان کی ساکھ کو مزید مستحکم کریں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کے ساتھ
پڑھیں:
ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات معطلی کی رپورٹس کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ یہ جعلی خبریں کہ ایران اور امریکا کے درمیان چند روز قبل بات چیت بند ہوئی ہے، یہ سب غلط اور بے بنیاد خبریں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے درمیان بات چیت مسلسل جاری ہے جو چار دن پہلے، تین دن پہلے، دو دن پہلے، ایک دن پہلے اور آج بھی جاری رہے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ یہ کہاں تک پہنچتے ہیں کوئی نہیں جانتا لیکن میں نے ایران کو کہا ہے کہ کسی نہ کسی صورت آپ معاہدہ کریں، آپ گزشتہ 47 سال سے یہی کر رہے ہیں اور اس کو کسی صورت مزید جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔
https://truthsocial.com/@realDonaldTrump/posts/116681581361115247قبل ازیں امریکی سیکریٹری اسٹیٹ مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو بتایا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات میں چند ماہ کا عرصہ لگ سکتا ہے اور اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو معاملات طے کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدے کے لیے بغیر ٹول کے آبنائے ہرمز بحال کرنے کی ضرورت ہے جبکہ امریکا نے آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے ایران کو پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے۔