گل پلازہ کی آگ میں تقریباً 80 افراد جاں بحق، 86 لاپتا، شارٹ سرکٹ کہہ کر نہیں چھوڑ سکتے: ڈی سی جنوبی
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
جاوید نبی کھوسو نے میڈیا کو بتایا کہ متاثرہ عمارت میں ریسکیو اہلکاروں کو بھیج رہے ہیں ، مشینری کو اس لیے روک رہے کہ ریسکیو ورکرز کو اندر جانا ہے، عمارت کی حالت بہت خراب ہے کسی بھی وقت گرسکتی ہے، عمارت کا 40 فیصد حصّہ گرا ہوا ہے اس کو چھوڑ کر باقی کو سرچ کرلیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام سوشل میڈیا کی خبروں پر بھروسہ نہیں کریں، جیسے جیسے تحقیقات آگے بڑھے گی آگاہ کیا جائے گا، اتنی بڑی آگ ہے، صرف شارٹ سرکٹ کا کہہ کر نہیں چھوڑ سکتے مکمل تحقیقات ہوں گی۔ ڈپٹی کمشنر جنوبی نے کہا کہ کونسے دروازے بند تھے کونسے کھلے تھے، اس کی بھی تحقیقات کی جارہی ہے، جس کی بھی غفلت سامنے آئی، اس کے خلاف کارروائی ہوگی، تمام پہلوؤں سے تفتیش جاری ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اب تک تقریباً 80 انسانی جانیں ضائع ہوئی ہیں، لاپتہ افراد کی فہرست میں 86 افراد کے ناموں کا اندراج کرایا گیا ہے، اب پلازے کا وہ حصہ رہ گیا جو دونوں طرف سے گرا ہوا ہے، دروازوں کے بارے میں کل گواہان سے بیانات لے لیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 14 افراد کی شناخت ہوچکی ہے۔جس میں ڈی این اے سے 8 افراد کی شناخت ہوئی یے، 48 افراد کا پوسٹ مارٹم ہوچکا یے، 86 افراد افراد لاپتہ ہیں، ملبہ کے نیچے ممکنہ لاشوں کو نکالنے کے لیے آپریشن جاری یے، جن عمارتوں میں فائر کے انتظامات نہیں ہیں ان کو نوٹس جاری کررہے ہیں، چھ عمارتوں کو نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔ دوسری جانب صدرگل پلازہ تاجر ایسوسی ایشن تنویر پاستا کا کہنا ہے کہ مارکیٹ کے راستے بند نہیں تھے، ایمرجنسی ریمپ بھی کھلا تھا، مسجد سے باہر جانے کے دو راستے بھی کھلے ہوئے تھے، بجلی بند نہ کرتے تو جو لوگ باہر نکلے وہ بھی نہیں نکل سکتے تھے۔ ڈی سی ساؤتھ جاوید نبی کھوسو نے کہا کہ بتایا کہ گل پلازہ میں ریسکیو 1122 کو فائنل سرچ کا حکم دے دیا گیا، فائنل سرچ کے بعد گل پلازہ کی عمارت مسمار کر دیا جائے گا۔ جاوید نبی کھوسو نے بتایا کہ عمارت کومسمار کرنے کی ذمہ داری ایس بی سی اے کی ہوگی، ایس بی سی اے کی رپورٹ میں عمارت کو خطرناک اور ناقابل استعمال قرار دیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
پشاور:خیبرپختونخوا اسمبلی میں ناراض حکومتی ارکان کے ساتھ مفاہمت نہ ہوسکی ناراض ارکان نے کسی بھی قسم کے مذاکرات سے انکار کرتے ہوئے آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے آج اجلاس طلب کرلیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق خیبرپختونخوا اسمبلی میں حکومتی ارکان کا ناراض گروپ اپنے مطالبات پر ڈٹ گیا، ناراض ارکان سے سابق اسپیکر اسد قیصر اور سابق صوبائی وزیر شوکت یوسفزئی نے بھی رابطہ کیا ہے لیکن ناراض ارکان نے حکومت کے علاقہ کسی سے بھی مذاکرات سے انکار کردیا۔
ناراض ارکان کا کہنا ہے کہ ہمیں وزیراعلی سہیل آفریدی کی جانب سے یقین دہانی چاہیے، ایک ناراض رکن نے بتایا کہ ہمارا کوئی فارورڈ بلاک نہیں اگر فارورڈ بلاک بنتا ہے تو یہ عمران خان کے خلاف ہوگا ہم حکومت کے پالیسیوں سے ناراض ہیں مرکزی قیادت کو بتایا دیا گیا ہے اور انھیں خط بھی لکھا گیا ہے لیکن پارٹی چیئرمین کی جانب سے کوئی جواب نہیں ملا، ناراض ارکان نے آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے اجلاس آج دوبارہ طلب کرلیا ہے۔